حضرت عبداللہ بن حوالہ (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 394 · 4 hadiths

16391Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن حوالہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَوْتِي وَالدَّجَّالِ وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ مُعْطِيهِ

حضرت عبداللہ بن حوالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا، وہ نجات پا گیا (تین مرتبہ فرمایا) میری موت، دجال اور حق پر ثابت قدم خلیفہ کے قتل سے۔

16392Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن حوالہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ لَهُ يُمْلِي عَلَيْهِ فَقَالَ أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فِي الْأُولَى نَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ لَا أَدْرِي فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ فَقُلْتُ إِنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ ثُمَّ قَالَ أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتْنَةٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ قَالَ وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاجَةُ أَرْنَبٍ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ قَالَ اتَّبِعُوا هَذَا قَالَ وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ وَأَخَذْتُ بِمَنْكِبَيْهِ فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت ابن حوالہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک کاتب جسے آپ ﷺ کچھ لکھوا رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا اے ابن حوالہ! کیا ہم تمہیں بھی نہ لکھ دیں؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں، اللہ اور اس کے رسول نے میرے لئے کیا پسند فرمایا ہے چناچہ نبی ﷺ نے مجھ سے اعراض فرما لیا اور دوبارہ کاتب کو املاء کرانے کے لئے جھک گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ یہی سوال جواب ہوئے، اس کے بعد میں نے دیکھا تو اس تحریر میں حضرت عمر ؓ کا نام لکھا ہوا تھا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ عمر کا نام خیر کے ہی کام میں لکھا جاسکتا ہے، چناچہ تیسری مرتبہ نبی ﷺ نے جب پوچھا کہ اے ابن حوالہ! کیا ہم تمہیں بھی نہ لکھ دیں؟ تو میں نے عرض کیا جی ہاں!۔ نبی ﷺ نے فرمایا ابن حوالہ! جب زمین کے اطراف و اکناف میں فتنے اس طرح ابل پڑیں گے جیسے گائے کے سینگ ہوتے ہیں تو تم کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں، اللہ اور اس کے رسول میرے لئے کیا پسند فرماتے ہیں؟ نبی ﷺ نے اگلا سوال پوچھا کہ اس کے بعد جب دوسرا فتنہ بھی فورا ہی نمودار ہوگا تب کیا کرو گے؟ میں نے حسب سابق جواب دیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کی پیروی کرنا، اس وقت وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا، میں دوڑتا ہوا گیا اور اسے شانوں سے پکڑا اور نبی ﷺ کے پاس لے کر آیا اور عرض کیا کہ یہی شخص ہے جس کے بارے ابھی آپ نے یہ حکم دیا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! اور وہ شخص حضرت عثمان غنی ؓ تھے۔

16393Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن حوالہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي قُتَيْلَةَ عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونَ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَاكَ قَالَ عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُ خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهِ خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ

حضرت ابن حوالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب معاملہ اتنا بڑھ جائے گا کہ بیشمار لشکر تیار ہوجائیں گے چناچہ ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک یمن میں اور ایک عراق میں، ابن حوالہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! ﷺ اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو مجھے کوئی منتخب راستہ بتا دیجئے؟ نبی ﷺ نے فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کرلینا، کیونکہ وہ اللہ کی بہترین زمین ہے، جس کے لئے وہ اپنے منتخب بندوں کو چنتا ہے، اگر یہ نہ کرسکو تو پھر یمن کو اپنے اوپر لازم کرلینا اور لوگوں کو اپنے حوضوں سے پانی پلاتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اہل شام اور ملک شام کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی ہے۔

16394Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن حوالہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَوْتِي وَالدَّجَّالِ وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ مُعْطِيهِ

حضرت عبداللہ بن حوالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا (تین مرتبہ فرمایا) میری موت، دجال اور حق پر ثابت قدم خلیفہ کے قتل سے۔