ایک صحابی (رض) کی روایت

Musnad Imam Ahmad · Chapter 312 · 65 hadiths · Page 2 of 4

16877Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ

ایک مرتبہ عکرمہ بن خالد (رح) کی موجودگی میں کسی شخص نے بنو تمیم کے ایک آدمی کی بےعزتی کی تو عکرمہ نے اسے مارنے کے لئے مٹھی میں بھر کر کنکریاں اٹھا لیں، پھر کہنے لگے کہ مجھ سے ایک صحابی ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے بنو تمیم کا ذکر ہونے لگا، تو ایک آدمی کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے ایمان قبول کرنے میں بڑی سستی کی، نبی ﷺ نے قبیلہ مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ان کی نسبت تو ان سے زیادہ کسی قوم نے تاخیر نہیں کی، اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں بڑی تاخیر کردی ہے، کچھ ہی عرصے بعد بنو تمیم کے سرخ و سیاہ جانور آگئے اور نبی ﷺ نے فرمایا یہ میری قوم کے جانور ہیں، اس طرھ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی ﷺ کی موجودگی میں بنو تمیم کے حوالے سے نامناسب جملے کہے تو نبی ﷺ نے فرمایا بنو تمیم کا ہمیشہ اچھے انداز میں ہی تذکرہ کیا کرو، کیونکہ دجال کے خلاف سب سے زیادہ لمبے نیزے ان ہی کے ہوں گے۔

17362Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ كَعْبًا فَمَا رُئِيَ يَقُصُّ بَعْدُ

عبدالجبار خولانی ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی ؓ مسجد میں داخل ہوئے تو کعب احبار (رح) وعظ کہہ رہے تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کعب ہیں جو وعظ کہہ رہے ہیں، انہوں فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وعظ یا تو امیر کہہ سکتا ہے، یا جسے اس کی اجازت ہو یا شیخی خور ہو، کعب (رح) کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس کے بعد انہیں وعظ کہتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

17363Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ سب سے افضل انسان کون ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ اس کے بعد کون؟ فرمایا وہ مومن جو کسی گھاٹی میں ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو۔

17368Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا حَسَنَ الْفَهْمِ

بنو کنانہ کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے فتح مکہ کے سال نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، میں نے آپ ﷺ کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ فرمانا۔

17380Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو؟ دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ واقعی ہم ایسا کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔

17382Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے، وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا، حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

17383Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیا کریں گے۔

17384Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً آيًا مِنْ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی قرآن کریم کے کچھ حصے ( یا کچھ آیات) کی تلاوت فرمائی۔

17570Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دَعُوا النَّاسَ فَلْيُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُ

حضرت ابویزید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو چھوڑ دو کہ انہیں ایک دوسرے سے رزق حاصل ہو البتہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی کرنا چاہئے تو اسے نصیحت کردے۔

17571Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ عَرَفْتُ فِيهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى رَأَيْتُ شَيْخًا أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يَتْبَعُ جِنَازَةً فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنِي فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ قَالَ فَأَكَبَّ الْقَوْمُ يَبْكُونَ فَقَالَ مَا يُبْكِيكُمْ فَقَالُوا إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ إِذَا حَضَرَ فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنْ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ فَإِذَا بُشِّرَ بِذَلِكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلِقَائِهِ أَحَبُّ وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنْ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ قَالَ عَطَاءٌ وَفِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ ثُمَّ تَصْلِيَةُ جَحِيمٍ فَإِذَا بُشِّرَ بِذَلِكَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلِقَائِهِ أَكْرَهُ

عطاء بن سائب (رح) کہتے ہیں کہ جس دن سب سے پہلے مجھے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی شناخت ہوئی ہے اسی دن میں نے سر اور ڈاڑھی کے سفید بالوں والے ایک بزرگ کو گدھے پر سوار دیکھا جو ایک جنازے کے ساتھ جارہے تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھ سے فلاں بن فلاں نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ یہ سن کر لوگ سرجھکا کر رونے لگے نبی کریم ﷺ نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ہم سب ہی موت کو اچھا نہیں سمجھتے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا یہ مطلب نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے اور وہ مقربین میں سے ہوتا ہے تو اس کے لئے راحت غذائیں اور نعمتوں والے باغات ہوں گے اور جب اسے اس کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کی خواہش کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند فرماتا ہے اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو تو اس کی مہمان نوازی کھولتے ہوئے پانی سے کی جاتی ہے اور جب اسے اس کی اطلاع ملتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ خود بھی اس سے ملنے کو زیادہ ناپسند کرتا ہے۔

17577Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگ اس وقت تک ہلاکت میں نہیں پڑیں گے جب تک اپنے لئے گناہ کرتے کرتے کوئی عذر نہ چھوڑیں۔

17581Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَأَسْتَغْفِرُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ فَقُلْتُ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ اثْنَتَانِ أَمْ وَاحِدَةٌ فَقَالَ هُوَ ذَاكَ أَوْ نَحْوَ هَذَا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں، میں نے ان سے پوچھا کہ اللہم انی استغفرک اور اللہم انی اتوب الیک یہ دوالگ الگ چیزیں ہیں یا ایک ہی ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک ہی ہیں۔

18086Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَى أَصْحَابِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ قَالَ إِنْ أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ فَرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔

20948Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ أَنْ يَرْكَبَ رَاحِلَتَهُ أَيَّامَ مِنًى فَيَصِيحَ فِي النَّاسِ لَا يَصُومَنَّ أَحَدٌ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يُنَادِي بِذَلِكَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایام منیٰ میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی ؓ کو حکم دیا کہ اپنی سواری پر سوار ہو کر لوگوں میں یہ اعلان کردیں کہ ایام تشریق میں کوئی شخص بھی روزہ نہ رکھے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں چناچہ میں نے انہیں اپنی سواری پر اس اعلان کی منادی کرتے ہوئے دیکھا۔

20949Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ أَبُوهُ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَئِذٍ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا أَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثناء بیان کی شہداء احد کی بخشش کی دعاء کی اور فرمایا اے گروہ مہاجرین! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوگا اور انصار کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا انصار میرا راز ہیں جن کے یہاں میں نے ٹھکانہ حاصل کیا، ان کے معززین کی عزت کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگذر کرنا کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرچکے اور اب تو ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔

21305Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ عَامِلًا عَلَى تَوَّجَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ نَامَ عَلَى إِجَّارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ مَا يَدْفَعُ قَدَمَيْهِ فَخَرَّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ إِذَا ارْتَجَّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈیر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گر کر مرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی ہو اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔

21308Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَضَرَبَ بِهَا كَفِّي وَقَالَ اطْرَحْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَطَرَحْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ قَالَ قُلْتُ طَرَحْتُهُ قَالَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَسْتَمْتِعَ بِهِ وَلَا تَطْرَحَهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی نبی کریم ﷺ نے ایک ٹہنی لے کر میرے ہاتھ پر ماری اور مجھے حکم دیا کہ اسے اتاروں چناچہ میں نے اسے باہر جاکر پھینک دیا اور دوبارہ حاضر خدمت ہوگیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا وہ انگوٹھی کیا ہوئی؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے پھینک دی میں نے تمہیں یہ حکم دیا تھا کہ اس سے کسی اور طرح فائدہ اٹھالو اسے پھینکو مت۔

21310Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَكَانَ لِجَدِّهِ صُحْبَةٌ أَنَّهُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِهِ فَبَلَغَهُ شَكَاتُهُ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَيْتُكَ زَائِرًا عَائِدًا وَمُبَشِّرًا قَالَ كَيْفَ جَمَعْتَ هَذَا كُلَّهُ قَالَ خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ زِيَارَتَكَ فَبَلَغَتْنِي شَكَاتُكَ فَكَانَتْ عِيَادَةً وَأُبَشِّرُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنْ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنْهُ

محمد بن خالد اپنے دادا سے " جنہیں نبی کریم ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا " نقل کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کے ارادے سے نکلے راستے میں ان کی بیماری کا پتہ چلا تو ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں آپ کے پاس ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور خوشخبری دینے کے لئے آیا ہوں، اس نے پوچھا کہ یہ ساری چیزیں ایک جگہ کیسے جمع ہوگئیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جس وقت نکلا تھا تو اس وقت آپ سے ملاقات کا ارادہ تھا راستے میں آپ کی بیماری کی خبر سنی تو یہاں پہنچ کر عیادت ہوگئی اور رہی خوشخبری تو وہ یہ ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ کے یہاں کسی بندے کا مقام و مرتبہ اس درجہ سے آگے بڑھ جاتا ہے جہاں تک اس کا عمل نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اسے جسمانی، مالی یا اولاد کی طرف سے کسی آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے پھر اسے اس پر صبر بھی عطاء کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس درجے تک جا پہنچتا ہے جو اس کے لئے طے ہوچکا ہوتا ہے۔

22121Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ بَكْرٍ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا طواف بھی نماز ہی کی طرح ہوتا ہے اس لئے جب تم طواف کیا کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔

22122Musnad Imam Ahmad

ایک صحابی (رض) کی روایت

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى

بنو یربوع کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کو لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنی ماں، باپ بہن، بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا کرو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ بنوثعلبہ بن یربوع ہیں انہوں نے فلاں آدمی کو قتل کردیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔