Musnad Imam Ahmad 1754

عبداللہ بن عباس کی مرویات

1754Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ هَلُمَّ الْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔