Musnad Imam Ahmad 15163

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

15163Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ

حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں اور حضرت صدیق اکبر کے دور میں اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں جب کوئی شرابی لایا جاتا تھا تو ہم لوگ کھڑے ہو کر اسے اپنے ہاتھوں جوتیوں اور چادروں سے مارتے تھے بعد میں حضرت عمر نے شرابی کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور لوگ جب اس میں سرکشی اور فسق وفجور کرنے لگے تو انہوں نے اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔