Musnad Imam Ahmad 15138

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

15138Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنْ التَّمْرِ فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ قَالَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا

حضرت عامر بن ربیعہ جو بدری صحابی تھے مروی ہے کہ بعض مرتبہ نبی ﷺ ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ فرماتے تو بیٹا ہمارے پاس سوارئے چند کھجوروں کے اور کوئی چیز نہ ہوتی جو نبی ﷺ ہمارے درمیان ایک ایک مٹھی تقسیم کردیتے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آجاتی عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اباجان ایک کھجور آپ کے کس کام آتی ہوگی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یوں نہ کہو جب ہمیں ایک کھجور بھی نہ ملی تو ہمیں اس کی قدر آئی۔