حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 693 · 48 hadiths · Page 2 of 3

18339Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

طلحہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی )

18340Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقُلْتُ هَلْ خَمَّسَهُ قَالَ لَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْهُ حَاجَتَهُ

محمد بن ابی مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ مجھے مسجد والوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے غلے کا کیا کیا تھا؟ چناچہ میں نے ان کے پاس پہنچ کر یہ سوال کیا کہ کیا نبی کریم ﷺ نے اس کا خمس نکالا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، وہ اس مقدار سے بہت کم تھا اور ہم میں سے جو شخص چاہتا اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیتا تھا۔

18341Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ قَالَ لَا

اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ عمرے کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔

18342Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ أَخْبَرَنِي قَالَ قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً قَالَ قُلْتُ بَعْدَ نُزُولِ النُّورِ أَوْ قَبْلَهَا قَالَ لَا أَدْرِي

شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ نے کسی کو رجم کی سزادی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ایک یہودی اور یہودیہ کو دی تھی، میں نے پوچھا سورت نور نازل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے؟ انہوں نے فرمایا یہ مجھے یاد نہیں۔

18343Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔

18344Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَعْلَى الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ قَالَ يَعْلَى وَقَالَ مَرَّةً لَا صَخَبَ أَوْ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ

اسماعیل (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو خوشخبری دی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی کریم ﷺ نے انہیں جنت میں لکڑی کے ایک محل کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شور و شغب ہوگا اور نہ ہی کوئی تعب۔

18345Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی اور اس دوران مشرکین کی ایذاء رسانی سے بچانے کے لئے نبی کریم ﷺ کو اپنی حفاظت میں رکھا۔

18346Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَوَارِجُ هُمْ كِلَابُ النَّارِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوارج جہنم کے کتے ہیں۔

18347Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَطُفْنَا مَعَهُ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَنَحْنُ مَعَهُ نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ أَوْ يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ قَالَ فَدَعَا عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ هَازِمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ قَالَ وَرَأَيْتُ بِيَدِهِ ضَرْبَةً عَلَى سَاعِدِهِ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ قَالَ ضُرِبْتُهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقُلْتُ لَهُ أَشَهِدْتَ مَعَهُ حُنَيْنًا قَالَ نَعَمْ وَقَبْلَ ذَلِكَ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی اور صفا مروہ کی سعی کی اور اس دوران مشرکین کی ایذاء رسانی سے بچانے کے لئے نبی کریم ﷺ کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے لشکروں کے لئے بدعاء کرتے ہوئے فرمایا اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! جلدی حساب لینے والے لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں شکست سے ہمکنار فرما اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کے بازوپر ایک ضرب کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مجھے غزوہ حنین کے موقع پر لگ گیا تھا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ غزوہ حنین میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! بلکہ پہلے کے غزوات میں بھی شریک ہوا ہوں۔

18348Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے اللہ! تمام تعریفیں آپ ہی کی ہیں جو کثرت کے ساتھ ہوں، عمدہ اور بابرکت ہوں۔

18349Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَةٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم ﷺ اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللھم صل علی آل ابی اوفی۔

18350Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قَالَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُءُوسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا مَنْ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَذَا الْعَالِي الصَّوْتَ فَقِيلَ هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ إِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِثْلَهُ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پیچھے صف میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آکر صف میں شامل ہوگیا اور کہنے لگا " اللہ اکبر کبیرا، و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا " اس پر مسلمان سر اٹھانے اور اس شخص کو ناپسند کرنے لگے اور دل میں سوچنے لگے کہ یہ کون آدمی ہے جو نبی کریم ﷺ کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کررہا ہے؟ جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ بلند آواز والا کون ہے؟ بتایا گیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ یہ ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا! میں نے دیکھا کہ تمہارا کلام آسمان پر چڑھ گیا یہاں تک کہ ایک دروازہ کھل گیا اور وہ اس میں داخل ہوگیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

18351Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنِي مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَلِمَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ لِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

طلحہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی )

18352Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے اے اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔

18353Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ فَذَهَبَ أَوْ قَامَ أَوْ نَحْوَ ذَا قَالَ هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي أَوْ ارْزُقْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي قَالَ مِسْعَرٌ وَرُبَّمَا قَالَ اسْتَفْهَمْتُ بَعْضَهُ مِنْ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي الدَّالَانِيَّ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں قرآن کریم کا تھوڑا ساحصہ بھی یاد نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباللہ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء۔

18354Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے اے اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔

18355Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَمَاتَتْ ابْنَةٌ لَهُ وَكَانَ يَتْبَعُ جِنَازَتَهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَهَا فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ فَقَالَ لَا تَرْثِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمَرَاثِي فَتُفِيضُ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجِنَازَةِ هَكَذَا

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ شرکاء بیعت رضوان میں سے تھے ان کی ایک بیٹی فوت ہوگئی وہ ایک خچر پر سوار ہو کر اس کے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے کہ عورتیں رونے لگیں انہوں نے خواتین سے فرمایا کہ تم لوگ مرثیہ نہ پڑھو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے مرثیہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے البتہ تم میں سے جو عورت جتنے آنسو بہانا چاہتی ہے سو بہالے پھر انہوں نے اس کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیرکھڑے ہو کر دعاء کرتے رہے جتنا وقفہ دو تکبیروں کے درمیان تھا، پھر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی جنازے میں اسی طرح فرماتے تھے۔

18356Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْد اللَّهِ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ قَالَ ثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَنْهَضَ إِلَى عَدُوِّهِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ زوال آفتاب کا انتظار کرتے اور اس کے بعد دشمن پر حملہ کردیتے تھے۔

18357Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قَالَ قُلْتُ الْأَبْيَضُ قَالَ لَا أَدْرِي

شیبانی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے سبزمٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔

18358Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ وَاسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو جنت میں لکڑی کے ایک محل کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شور و شغب ہوگا اور نہ ہی کوئی تعب۔