حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 693 · 48 hadiths · Page 3 of 3

18359Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ يَعْنِي النَّبِيذَ فِي الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قَالَ قُلْتُ فَالْأَبْيَضُ قَالَ لَا أَدْرِي

شیبانی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے سبز مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔

18360Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ

اسماعیل (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو خوشخبری دی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی کریم ﷺ نے انہیں جنت میں لکڑی کے ایک محل کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شور و شغب ہوگا اور نہ ہی کوئی تعب۔

18361Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز ظہر کی پہلی رکعت میں اسی طرح اٹھتے تھے کہ قدموں کی آہٹ بھی سنائی نہ دے۔

18362Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُمْ أَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوهَا قَالَ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے تو نبی کریم ﷺ کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹادو۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم ﷺ اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللھم صل علی آل ابی اوفی۔

18363Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ نَابِي يَعْنِي نَائِي وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُءُوسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ فَقَالُوا مَنْ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَذَا الْعَالِي الصَّوْتَ قَالَ هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ مِنْهَا فَدَخَلَ فِيهِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پیچھے صف میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آکر صف میں شامل ہوگیا اور کہنے لگا " اللہ اکبر کبیرا، و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا " اس پر مسلمان سر اٹھانے اور اس شخص کو ناپسند کرنے لگے اور دل میں سوچنے لگے کہ یہ کون آدمی ہے جو نبی کریم ﷺ کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کررہا ہے؟ جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ بلند آواز والا کون ہے؟ بتایا گیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ یہ ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا! میں نے دیکھا کہ تمہارا کلام آسمان پر چڑھ گیا یہاں تک کہ ایک دروازہ کھل گیا اور وہ اس میں داخل ہوگیا۔

18364Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانٍَ قَالَ كُنَّا نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ وَفِينَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى وَقَدْ لَحِقَ لَهُ غُلَامٌ بِالْخَوَارِجِ وَهُمْ مِنْ ذَلِكَ الشَّطِّ وَنَحْنُ مِنْ ذَا الشَّطِّ فَنَادَيْنَاهُ أَبَا فَيْرُوزَ أَبَا فَيْرُوزَ وَيْحَكَ هَذَا مَوْلَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ هُوَ لَوْ هَاجَرَ قَالَ مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ قَالَ فَقَالَ أَهِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَتِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ

سعید بن جمہان (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ خوارج سے قتال کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ جو ہمارے ساتھ تھے " کا ایک غلام خوارج سے جاملا وہ لوگ اس طرف تھے اور ہم اس طرف، ہم نے اسے " اے فیروز! اے فیروز! کہہ کر آوازیں دیتے ہوئے کہا ارے کمبخت! تیرے آقا حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ تو یہاں ہیں وہ کہنے لگا کہ وہ اچھے آدمی ہوتے اگر تمہارے یہاں سے ہجرت کر جاتے، انہوں نے پوچھا کہ یہ دشمن اللہ کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے اس کا جملہ ان کے سامنے نقل کیا تو وہ فرمانے لگے کیا میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کرنے والی ہجرت کے بعد دوبارہ ہجرت کروں گا؟ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کردیں۔

18365Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ سَأَلَ شَرِيكِي وَأَنَا مَعَهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ وَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُهُ

ابویعفور کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے میرے سامنے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے ٹڈی دل کا حکم پوچھا انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ان غزوات میں ہم لوگ ٹڈی دل کھایا کرتے تھے۔

18366Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ذَكَرْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ حَدِيثًا حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى فِي لُحُومِ الْحُمُرِ فَقَالَ سَعِيدٌ حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَتَّةَ

سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے گدھوں کے گوشت کے حوالے سے سنائی تھی کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں قطعی طور پر حرام قرار دے دیا ہے۔