حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا يُونُسُ أَوْ أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ظَلَمَ مِنْ الْأَرْضِ شَيْئًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ
حضرت سعید بن زید ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن وہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَخْبَرَنِي مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أُرَاهُ قَالَ قَدْ يَذْهَبُ فِيهَا النَّاسُ أَسْرَعَ ذَهَابٍ قَالَ فَقِيلَ أَكُلُّهُمْ هَالِكٌ أَمْ بَعْضُهُمْ قَالَ حَسْبُهُمْ أَوْ بِحَسْبِهِمْ الْقَتْلُ
حضرت سعید بن زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ان فتنوں کا ذکر فرمایا جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے اور لوگ اس میں بڑی تیزی سے دنیا سے جانے لگیں گے، کسی نے پوچھا کہ کیا یہ سب ہلاک ہوں گے یا بعض؟ فرمایا قتل کے اعتبار سے ان کا معاملہ ہوگا۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ هُوَ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَمَرَّ بِهِمَا زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَدَعَوَاهُ إِلَى سُفْرَةٍ لَهُمَا فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ قَالَ فَمَا رُئِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَكَلَ شَيْئًا مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا قَدْ رَأَيْتَ وَبَلَغَكَ وَلَوْ أَدْرَكَكَ لَآمَنَ بِكَ وَاتَّبَعَكَ فَاسْتَغْفِرْ لَهُ قَالَ نَعَمْ فَأَسْتَغْفِرُ لَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَاحِدَةً
حضرت سعید بن زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جب نبی ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے اور ان کے ساتھ حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی تھے، زید بن عمرو بن نفیل کا ان دونوں کے پاس سے گذر ہوا، ان دونوں نے زید کو کھانے کی دعوت دی کیونکہ وہ اس وقت دستر خوان پر بیٹھے ہوئے تھے، زید کہنے لگے کہ بھتیجے! بتوں کے سامنے لے جاکر ذبح کئے جانے والے جانوروں کا گوشت میں نہیں کھاتا (یہ قبل از بعثت کا واقعہ ہے) اس کے بعد نبی ﷺ کو کبھی اس قسم کا کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ حضرت سعید ؓ کہتے ہیں میں نے ایک دن بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میرے والد صاحب کو آپ نے خود بھی دیکھا ہے اور آپ کو ان کے حوالے سے معلوم بھی ہے، اگر وہ آپ کا زمانہ نبوت پالیتے تو آپ پر ایمان لا کر آپ کی پیروی ضرور کرتے، آپ ان کے لئے استغفار کیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! میں ان کے لئے استغفار کروں گا کیونکہ قیامت کے دن انہیں تنہا ایک امت کے برابر اٹھایا جائے گا۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قَالَ لَنَا مَرْوَانُ انْطَلِقُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ أَتُرَوْنَ أَنِّي قَدْ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَنْ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ بِيَمِينِهِ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے کہا کہ جا کر ان دونوں یعنی حضرت سعید بن زید ؓ اور راوی کے درمیان صلح کرا دو، حضرت سعید ؓ نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اس عورت کا کچھ حق مارا ہوگا؟ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق کسی زمین پر ایک بالشت بھر قبضہ کرتا ہے، اس کے گلے میں زمین کا وہ ٹکڑا ساتوں زمینوں سے لے کر طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان سے موالات کی نسبت اختیار کرتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کرلیتا ہے اللہ اس میں کبھی برکت نہیں دیتا۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقَاسَمْتُ أَخِي فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُبَارَكُ فِي ثَمَنِ أَرْضٍ وَلَا دَارٍ لَا يُجْعَلُ فِي أَرْضٍ وَلَا دَارٍ
عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مدینہ منورہ حاضری کے موقع پر اپنے بھائی سے حصہ تقسیم کروا لیا، اس پر حضرت سعید بن زید ؓ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اس زمین یا مکان کی قیمت میں برکت نہیں ہوتی جو زمین یا مکان ہی میں نہ لگا دی جائے۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ كَانَ يَقُولُ يَا بُنَيَّ لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ فَذَكَرَهُ وَقَالَ حَدَّثَنَا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنْ الرَّحْمَنِ فَمَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
عبداللہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے حضرت لقمان (علیہ السلام) کا یہ قول معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا بیٹے! علم اس لئے حاصل نہ کر کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو اور جہلاء اور بیوقوفوں سے جھگڑتے پھرو اور محفلوں میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگو، پھر انہوں نے حضرت سعید بن زید ؓ کی یہ حدیث سنائی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب بڑا سود یہ ہے کہ ناحق کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی کی جائے، رحم (قرابت داری) رحمن کی شاخ ہے، جو شخص قرابت داری ختم کرے گا، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت سعید بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے، جو شخص اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ بھی شہید ہے، جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے اور جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ بھی شہید ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمْ الْعُشُورَ
حضرت سعید بن زید ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے گروہ عرب! اللہ کا شکر ادا کیا کرو کہ اس نے تم سے ٹیکس اٹھا دیئے۔