حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

Musnad Imam Ahmad · Chapter 8 · 177 hadiths · Page 2 of 9

1382Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا قَالَ فَيُقَالُ لَهُ أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ فَيَقُولُ نَعَمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ وہ عشاء کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھ کر اس پر کوئی اضافہ نہ کرتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ اے ابو اسحاق! آپ ایک رکعت وتر پڑھنے کے بعد کوئی اضافہ نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وتر پڑھے بغیر نہ سوئے، وہ عقلمند ہے۔

1383Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ مَرَّتَيْنِ قَالَ لَا وَمَا ذَاكَ قَالَ قُلْتُ لَا إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ قَالَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ قَالَ عُثْمَانُ مَا فَعَلْتُ قَالَ سَعْدٌ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ فَقَالَ بَلَى وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغَشَّى بَصَرِي وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ قَالَ قَالَ سَعْدٌ فَأَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعْتُهُ فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَهْ قَالَ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ قَالَ نَعَمْ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنْ الظَّالِمِينَ فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ

حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں میرا گذر حضرت عثمان غنی ؓ کے پاس سے ہوا، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے نگاہیں بھر کر مجھے دیکھا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا، میں حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس آیا اور ان سے دو مرتبہ کہا کہ امیرالمومنین! کیا اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا ہوگئی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں خیر تو ہے، میں نے کہا کہ میں ابھی حضرت عثمان ؓ کے پاس سے مسجد میں گذرا تھا، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے نگاہیں بھر کر مجھے دیکھا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر ؓ نے پیغام بھیج کر حضرت عثمان ؓ کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ اپنے بھائی کے سلام کو جواب دینے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا میں نے تو ایسا نہیں کیا، میں نے کہا کیوں نہیں، حضرت عثمان ؓ نے قسم کھالی، میں نے بھی قسم کھالی، تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان ؓ کو یاد آگیا تو انہوں نے فرمایا ہاں! ایسا ہوا ہے، میں اللہ سے معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں، آپ ابھی ابھی میرے پاس سے گذرے تھے، دراصل میں اس وقت ایک بات سوچ رہا تھا جو میں نے نبی ﷺ سے سنی تھی اور بخدا! جب بھی مجھے وہ بات یاد آتی ہے میری آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور میرے دل پر پردہ آجاتا ہے (یعنی مجھے اپنے آپ کی خبر نہیں رہتی) حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ میں آپ کو اس کے بارے بتاتا ہوں، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ کسی گفتگو کی ابتداء میں ایک دعاء کا ذکر چھیڑا، تھوڑی دیر کے بعد ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی ﷺ کو مشغول کرلیا، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلا گیا، جب مجھے اندیشہ ہوا کہ جب تک میں نبی ﷺ کے قریب پہنچوں گا، نبی ﷺ اپنے گھر پہنچ چکے ہوں گے تو میں نے زور سے اپنا پاؤں زمین پر مارا، نبی ﷺ میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کون ہے؟ ابواسحاق ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی ﷺ نے مجھے رکنے کے لئے فرمایا: میں نے عرض کیا کہ آپ نے ہمارے سامنے ابتداء میں ایک دعاء کا تذکرہ کیا تھا، بعد میں اس دیہاتی نے آکر آپ کو اپنی طرف مشغول کرلیا، نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! وہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعاء ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی یعنی " لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین " کوئی بھی مسلمان جب بھی کسی معاملے میں ان الفاظ کے ساتھ اپنے پروردگار سے دعاء کرے وہ دعاء ضرور قبول ہوگی۔

1384Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ عَلِيًّا خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَعَلِيٌّ يَبْكِي يَقُولُ تُخَلِّفُنِي مَعَ الْخَوَالِفِ فَقَالَ أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا النُّبُوَّةَ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ثنیۃ الوداع تک پہنچے تو وہ رونے لگے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے حاصل تھی، صرف نبوت کا فرق ہے۔

1385Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا تَعْجِزُ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهَا نِصْفَ يَوْمٍ وَسَأَلْتُ رَاشِدًا هَلْ بَلَغَكَ مَاذَا النِّصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے پاس اتنی عاجز نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب کتاب نصف دن تک مؤخر کردے، کسی نے حضرت سعد ؓ سے پوچھا کہ " نصف دن " سے کیا مراد ہے۔ فرمایا پانچ سو سال۔

1386Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ فَقِيلَ لِسَعْدٍ وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے پاس اتنی عاجز نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب کتاب نصف دن تک مؤخر کردے، کسی نے حضرت سعد ؓ سے پوچھا کہ " نصف دن " سے کیا مراد ہے۔ فرمایا پانچ سو سال۔

1387Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا پاؤں کے نیچے سے عذاب بھییج دے، تو نبی ﷺ نے فرمایا ابھی اس کی تاویل ظاہر ہونے کا وقت نہیں آیا۔

1388Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ خَوَافِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَتْ أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْءُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر جنت کی ناخن سے بھی کم کوئی چیز دنیا میں ظاہر ہوجائے تو زمین و آسمان کی چاروں سمتیں مزین ہوجائیں اور اگر کوئی جنتی مرد دنیا میں جھانک کر دیکھ لے اور اس کا کنگن نمایاں ہوجائے تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مات کر دے جیسے سورج کی روشنی ستاروں کی روشنی کو مات کردیتی ہے۔

1389Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ

حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی ﷺ کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔

1390Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاتَانِ لَا يُصَلَّى بَعْدَهُمَا الصُّبْحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالْعَصْرُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مُعَاذٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو نمازیں ایسی ہیں جن کے بعد کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے، نماز فجر، جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے اور نماز عصر، جب تک سورج غروب نہ ہوجائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1391Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَعْدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ

حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی ﷺ کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔

1392Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةٌ أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَدَخَلَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ و قَالَ يَعْقُوبُ مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَالِحٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے نبی ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، اس وقت نبی ﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (ازواج مطہرات ؓ عنہن) بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں، وہ نبی ﷺ سے اضافہ کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں اونچی ہو رہی تھیں، لیکن حضرت عمر ؓ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو ان سب نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سنبھال لئے، نبی ﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی، جب وہ اندر آئے تو نبی ﷺ مسکرا رہے تھے، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ آپ کو اسی طرح ہنستا مسکراتا ہوا رکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے تو تعجب ان عورتوں پر ہے جو پہلے میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، لیکن جیسے ہی انہوں نے تمہاری آواز سنی، جلدی سے پردہ کرلیا، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں، پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے اپنی جان کی دشمن عورتو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کیونکہ تم نبی ﷺ سے زیادہ سخت اور ترش ہو، نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، شیطان جب تمہیں کسی راستے سے گذرتا ہوا دیکھ لیتا ہے، تو اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔

1393Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ جَارِيَةَ أَنَّ يُوسُفَ بْنَ الْحَكَمِ أَبَا الْحَجَّاجِ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔

1394Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْجَعْدِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ قَالَتْ قَالَ سَعْدٌ اشْتَكَيْتُ شَكْوًى لِي بِمَكَّةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ مَالًا وَلَيْسَ لِي إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَ قَالَ لَا قَالَ أَفَأُوصِي بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ لَهَا النِّصْفَ قَالَ لَا قَالَ أَفَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَمَسَحَ وَجْهِي وَصَدْرِي وَبَطْنِي وَقَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتِمَّ لَهُ هِجْرَتَهُ فَمَا زِلْتُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ بِأَنِّي أَجِدُ بَرْدَ يَدِهِ عَلَى كَبِدِي حَتَّى السَّاعَةِ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگیا، نبی ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے دو تہائی مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کرسکتا ہوں؟ فرمایا نہیں، میں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتے ہو اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے (تین مرتبہ فرمایا) پھر اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر میرے چہرے، سینے اور پیٹ پر پھیرا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور اس کی ہجرت کو تام فرما، مجھے آج تک نبی ﷺ کے ہاتھوں کی ٹھنڈک اپنے جگر میں محسوس ہوتی ہے۔

1395Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ سَعْدًا سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ فَقَالَ إِنَّهُ لَذُو الْمَعَارِجِ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَقُولُ ذَلِكَ

ایک مرتبہ حضرت سعد ؓ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا " لبیک ذا المعارج " تو فرمایا کہ (جس کی پکار پر تم لبیک کہہ رہے ہو) وہ بلندیوں والا ہوگا لیکن ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں کبھی یہ لفظ نہیں کہا۔

1396Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کریم کو عمدہ آواز کے ساتھ نہ پڑھے وکیع نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت خوش آوازی سے نہ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے۔

1397Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ أَبِي و قَالَ يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین ذکر وہ ہے جو خفی ہو اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کرسکے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی۔

1398Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قَالَ فَبِالشَّطْرِ قَالَ لَا قَالَ فَبِالثُّلُثِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگئے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کی اللہ کے راستہ میں وصیت نہ کردوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، عرض کیا کہ نصف مال کی وصیت کردوں؟ فرمایا نہیں، عرض کیا کہ نصف مال کی وصیت کردوں؟ فرمایا نہیں، عرض کیا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں؟ فرمایا ہاں ایک تہائی کی وصیت کردو اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔

1399Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ إِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّكَ تُؤْجَرُ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ

حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے اہل خانہ پر جو کچھ بھی خرچ کرو گے، تمہیں اس پر ثواب ملے گا، حتی کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے، تمہیں اس پر بھی ثواب ملے گا۔

1400Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ مِنْ النَّاسِ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں پر آتی ہے، فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) پر، پھر صالحین پر، پھر درجہ بدرجہ عام لوگوں پر، انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کردی جاتی ہے اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

1401Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سُفْيَانُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ وَقَالَ مِسْعَرٌ عَنْ بَعْضِ آلِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَبِالشَّطْرِ قَالَ لَا قُلْتُ فَبِالثُّلُثِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَارِثَكَ غَنِيًّا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُ فَقِيرًا يَتَكَفَّفُ النَّاسَ وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّكَ تُؤْجَرُ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ فَذَكَرَ سَعْدٌ الْهِجْرَةَ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ قَوْمٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے، نبی ﷺ ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کرسکتا ہوں؟ فرمایا نہیں، میں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرمادیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتے ہو اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، یاد رکھو! کہ تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائیں، تم اپنا مال جو اپنے اوپر خرچ کرتے ہو، یہ بھی صدقہ ہے اپنے اہل و عیال پر جو خرچ کرتے ہو، یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی پر جو خرچ کرتے ہو یہ بھی صدقہ ہے، نیز راوی کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت سعد ؓ کی صرف ایک بیٹی ہی تھی، پھر حضرت سعد ؓ نے ہجرت کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابن عفراء پر رحم فرمائے، ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہیں اتنی بلندی عطاء کرے کہ ایک قوم کو تم سے فائدہ ہو اور دوسروں کو نقصان ہو۔