حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 695 · 80 hadiths · Page 3 of 4

18506Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَا شَرِيكَيْنِ فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ وَنَسِيئَةً فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمَا أَنَّ مَا كَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِيزُوهُ وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ فَرُدُّوهُ

ابومنہال (رح) کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم ؓ اور براء بن عازب ؓ ایک دوسرے کے تجارتی شریک تھے ایک مرتبہ دونوں نے نقد کے بدلے میں اور ادھار چاندی خرید نبی کریم ﷺ کو یہ بات پتہ چلی تو ان دونوں کو حکم دیا کہ جو خریداری نقد کے بدلے میں ہوئی ہے اسے تو برقرار رکھو اور جو ادھار کے بدلے میں ہوئی ہے اسے واپس کردو۔

18507Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَنَفَسٍ لَا تَشْبَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَدَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا قَالَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَاهُنَّ وَنَحْنُ نُعَلِّمُكُمُوهُنَّ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں لاچاری، سستی، بڑھاپے، بزدلی، کنجوسی اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں، اسے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطاء فرما اور اس کا تزکیہ فرما کہ تو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا اور اس کا آقاومولیٰ ہے اے اللہ! میں خشوع سے خالی دل، نہ بھرنے والے نفس، غیرنافع علم اور مقبول نہ ہونے والی دعاء سے آپ کی پاہ میں آتاہوں حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء ہمیں سکھاتے تھے اور ہم تمہیں سکھا رہے ہیں۔

18508Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي قَالَ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ سَبْعَ مِائَةٍ أَوْ ثَمَانِ مِائَةٍ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید ؓ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔

18509Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنْ الصَّرْفِ فَهَذَا يَقُولُ سَلْ هَذَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ وَهَذَا يَقُولُ سَلْ هَذَا فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ قَالَ فَسَأَلْتُهُمَا فَكِلَاهُمَا يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا وَسَأَلْتُ هَذَا فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا

ابومنہال (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لو، یہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جانتے والے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لویہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والے ہیں بہرحال! ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

18510Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَيْسٌ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقْبَلْهُ قَالَ بَلَى

عطاء (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت زید بن ارقم ؓ سے کہا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا لیکن نبی کریم ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا؟ انہوں نے کہا ہاں! اسی طرح ہے۔

18511Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ هَكَذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبدالعزیزبن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ارقم ؓ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے اس میں پانچ تکبیرات کہہ دیں پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح تکبیرات کہہ لیا کرتے تھے۔

18512Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ دَاخِلٌ عَلَى الْمُخْتَارِ أَوْ خَارِجٌ مِنْ عِنْدِهِ فَقُلْتُ لَهُ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ قَالَ نَعَمْ

علی بن ربیعہ کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم ؓ سے میری ملاقات ہوئی اس وقت وہ مختار کے پاس جارہے تھے یا آرہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میں تم میں دو مضبوط چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں!

18513Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہر جنتی کو کھانے، پینے خواہشات اور مباشرت کے حوالے سے سو آدمیوں کے برابرطاقت عطاء کی جائے گی ایک یہودی نے کہا کہ پھر اس کھانے پینے والے کو قضاء حاجت کا مسئلہ بھی پیش آئے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قضاء حاجت کا طریقہ یہ ہوگا کہ انہیں پسینہ آئے گا جوان کی کھال سے بہے گا اور اس سے مشک کی مہک آئے گی اور پیٹ ہلکا ہوجائے گا۔

18514Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْلَى لِبَنِي ثَعْلَبَةَ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَبَّ أَمِيرٌ مِنْ الْأُمَرَاءِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَامَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ أَمَا أَنْ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ

حضرت قطبہ بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی گورنر کی زبان سے حضرت علی ؓ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم ؓ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی ؓ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے؟

18515Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ

ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید ؓ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کتنے غزوات فرمائے؟ انہوں نے جواب دیا نبی کریم ﷺ نے انیس غزوات فرمائے تھے جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔

18516Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَا كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ

ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء ؓ اور زید ؓ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ہم تجارت کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے بھی ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر معاملہ نقد کا ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھارہو تو پھر صحیح نہیں ہے۔

18517Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ قَالَ شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا قَالَ نَعَمْ صَلَّى الْعِيدَ أَوَّلَ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ فَقَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يُجَمِّعَ فَلْيُجَمِّعْ

ایاس بن ابی رملہ شامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امیر معاویہ ؓ کے پاس موجود تھا انہوں نے حضرت زید بن ارقم ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ کو نبی کریم ﷺ کے ہمراہ جمعہ کے دن عید دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے دن کے پہلے حصے میں عید کی نماز پڑھی اور باہر سے آنے والوں کو جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا جو شخص چاہے وہ جمعہ پڑھ کر واپس جائے۔

18518Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى نَاسًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ مِنْ الضُّحَى فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ

قاسم شیبانی (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم ؓ اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے فرمایا یہ لوگ جانتے بھی ہیں کہ یہ نماز کسی اور وقت میں افضل ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔

18519Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا

ابن ابی لیلیٰ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم ؓ ہمارے جنازوں پر چارتکبیرات کہتے تھے ایک مرتبہ کسی جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں لوگوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کبھی کبھارپانچ تکبیرات بھی کہہ لیا کرتے تھے۔

18520Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ قَالَ فَسَأَلُوهُ كَمْ كُنْتُمْ فَقَالَ ثَمَانِ مِائَةٍ أَوْ سَبْعَ مِائَةٍ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید ؓ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا سات سویا آٹھ سو۔

18521Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

18522Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا قَالَ كَبُرْنَا وَنَسِينَا وَالْحَدِيثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ

ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت زید بن ارقم ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے کوئی حدیث سنانے کی فرمائش کرتے تو وہ فرماتے کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور بھول گئے اور نبی کریم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کرنا بڑا مشکل کام ہے۔

18523Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَأَنَا أَسْمَعُ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ وَادِي خُمٍّ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ قَالَ فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةِ سَمُرَةٍ مِنْ الشَّمْسِ فَقَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَوَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَوَالِ مَنْ وَالَاهُ

حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے ہم نے " غدیرخم " کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، کچھ دیر بعد " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی دو درختوں کے نیچے نبی کریم ﷺ کے لئے جگہ تیار کردی گئی نبی کریم ﷺ نے نماز ظہر پڑھائی اور حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ، اے اللہ! جو علی ؓ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما۔

18524Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ سَأَلْتُ هَذَا فَقَالَ ائْتِ فُلَانًا فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ وَسَأَلْتُ الْآخَرَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا

ابومنہال (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لو، یہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جانتے والے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لویہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والے ہیں بہرحال! ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

18525Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ قَالَ قَتَادَةُ يَلُدُّهُ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ذت الجنب کی بیماری میں عودہندی اور زیتون استعمال کیا کریں۔