حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ كَتَبَ إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِ أَنْ لَا أَعْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِ أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں منبر نبوی ﷺ کی جانب بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب کہنے لگے کہ اسلام لانے کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کوئی عمل کروں الاّ یہ کہ حجاج کرام کو پانی پلاتا ہوں دوسرے نے کہا کہ میں مسجد حرام کو آباد کرتا ہوں لہٰذا اسلام لانے کے بعد مجھے کسی عمل کی کوئی پرواہ نہیں اور تیسرے نے کہا کہ تم نے جو باتیں بیان کی ہیں ان سب سے افضل جہاد ہے حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ منبر نبوی کے نزدیک اپنی آوازیں بلند نہ کرو وہ جمعہ کا دن تھا نماز کے بعد میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اس مسئلے کے متعلق دریافت کروں گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد و تعمیر کرنا اس شخص کے برابر قرار دیتے ہو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ "
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِهَاتٍ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنْ الْحَرَامِ فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَاقَعَهَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ فَمَنْ رَعَى إِلَى جَنْبِ حِمًى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
قَالَ وَسَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ إِنَّ أَبِي بَشِيرًا وَهَبَ لِي هِبَةً فَقَالَتْ أُمِّي أَشْهِدْ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا الْغُلَامِ سَأَلَتْنِي أَنْ أَهَبَ لَهُ هِبَةً فَوَهَبْتُهَا لَهُ فَقَالَتْ أَشْهِدْ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُكَ لِأُشْهِدَكَ فَقَالَ رُوَيْدَكَ أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ كُلُّهُمْ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا إِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ إِنَّ لِبَنِيكَ عَلَيْكَ مِنْ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم ﷺ کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نو عمر تھا میرے والدنے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم ﷺ نے فرمایا بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ وَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا أَوْ الْمُدَّهِنِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ رَكِبُوا سَفِينَةً فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَوْعَرَهَا وَشَرَّهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا إِذَا اسْتَقَوْا الْمَاءَ مَرُّوا عَلَى مَنْ فَوْقَهُمْ فَآذَوْهُمْ فَقَالُوا لَوْ خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا فَاسْتَقَيْنَا مِنْهُ وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَأَمْرَهُمْ هَلَكُوا جَمِيعًا وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا جَمِيعًا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنے ان کانوں سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپر والے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپروالوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ شَيْءٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ فِيهِ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَاقَعَهَا وَاقَعَ الْحَرَامَ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ أَلَا وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے، یاد رکھوانسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہوجائے تو سارا جسم صحیح ہوجائے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو ساراجسم خراب ہوجائے یاد رکھو! وہ دل ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي بَيْنَ الصُّفُوفِ كَمَا تُسَوَّى الْقِدَاحُ أَوْ الرِّمَاحُ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے تیروں کو سیدھا کیا جاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ كَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِشَاءِ كَانَ يُصَلِّيهَا بَعْدَ سُقُوطِ الْقَمَرِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نماز عشاء کا وقت میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم ﷺ یہ نماز آغاز مہینہ کی تیسری رات میں سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ وَمُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا قَالَ فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ فَقَالَ لَا فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ هَذَا جَوْرٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَقَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنْ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم ﷺ کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نوعمر تھا میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم ﷺ نے فرمایا بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى وَالرَّاتِعِ فِيهَا وَالْمُدَّهِنِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَوْعَرَهَا وَإِذَا الَّذِينَ أَسْفَلَهَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنْ الْمَاءِ مَرُّوا عَلَى أَصْحَابِهِمْ فَآذَوْهُمْ فَقَالُوا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا فَاسْتَقَيْنَا مِنْهُ وَلَمْ نَمُرَّ عَلَى أَصْحَابِنَا فَنُؤْذِيَهُمْ فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَمَا أَرَادُوا هَلَكُوا وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا جَمِيعًا
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپروالے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپر والوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ بِمَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
ضحاک بن قیس (رح) کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نماز جمعہ میں سورت جمعہ کے علاوہ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا سورت غاشیہ۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُشْهِدَهُ فَقَالَ أَكُلَّ وَلَدِكَ قَدْ نَحَلْتَ قَالَ لَا قَالَ فَارْدُدْهُ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ ان کے والد انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دے دیا ہے، جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے واپس لے لو۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَإِنْ وَافَقَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَرَأَهُمَا جَمِيعًا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ سَمِعَهُ مِنَ النُّعْمَانِ وَكَانَ كَاتِبَهُ وَسُفْيَانُ يُخْطِئُ فِيهِ يَقُولُ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ سَمِعَهُ مِنْ النُّعْمَانِ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عید جمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فَرْوَةَ أَوَّلًا ثُمَّ مِنْ مُجَالِدٍ سَمِعَهُ مِنَ الشَّعْبِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْغَيْتُ وَتَقَرَّبْتُ وَخَشِيتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ مَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ أَوْ قَالَ مَحَارِمُهُ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان کانوں سے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَامُ الرِّمَاحُ أَوْ الْقِدَاحُ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے تیروں کو سیدھا کیا جاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ذَرٍّ عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ يُسَيْعٌ الْكِنْدِيُّ يُسَيْعُ بْنُ مَعْدَانَ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے تکبر برتتے ہیں۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ فَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فَقَرَأَ بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عیدجمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي عِيسَى مُوسَى الصَّغِيرِ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ أَخِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ وَتَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَهْلِيلِهِ تَتَعَطَّفُ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ أَفَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ
حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے یہ کلمات تسبیح عرش کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ ان سے نکلتی رہتی ہے اور وہ ذاکر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک چیز مسلسل اللہ کے یہاں اس کا ذکر کرتی رہے۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔