حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَعْلَى قَالَ مَا أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ فَذَكَرَ أَمْرَ الصَّبِيِّ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَأَمْرَ الْبَعِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ زَعَمَ أَنَّكَ سَانِيهِ حَتَّى إِذَا كَبُرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ قَالَ صَدَقْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ
حضرت یعلی ؓ سے مروی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص نے نبی ﷺ کے ایسے معجزات دیکھے ہوں جو میں نے دیکھے ہیں، پھر انہوں نے بچے درختوں اور اونٹ کے واقعات بیان کئے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے تمہارا اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے کہ تم پہلے اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، جب یہ بوڑھا ہوگیا تو اب تم اسے ذبح کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ آپ صحیح فرما رہے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، میرا یہی ارادہ تھا لیکن اب میں ایسا نہیں کروں گا۔
حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي
حضرت یعلی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے میرے بندوں کا مثلہ مت کرو۔
حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَبْدُ الَّرحْمَنِ جَدِّي حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ
حضرت یعلی بن مرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق زمین کا کوئی حصہ لیتا ہے اس شخص کو قیامت کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لے کر آئے۔
حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ فَقَالَ لِي يَا يَعْلَى مَا هَذَا الْخَلُوقُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ عَنْكَ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ
حضرت یعلی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا تو جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا۔
حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
حضرت یعلی بن مرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق زمین کا کوئی حصہ بالشت برابر بھی لیتا ہے، اس شخص کو قیامت کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اسے ساتویں زمین تک کھودے، پھر وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔
حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو أَوْ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الثَّقَفِيَّ قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَلَّقًا فَقَالَ أَلَكَ امْرَأَةٌ قُلْتُ لَا قَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ
حضرت یعلی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا تو جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا۔
حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ عَنْ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى إِلَى مَضِيقٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبَلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنْ الرُّكُوعِ أَوْ يَجْعَلُ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ
حضرت یعلی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ ایک تنگ جگہ میں تھے، نبی ﷺ سواری پر سوار تھے، اوپر سے آسمان برس رہا تھا اور نیچے سے ساری زمین گیلی تھی، نماز کا وقت آگیا، نبی ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، نبی ﷺ نے اپنی سواری کو آگے کرلیا اور اسی حالت میں اشارے کے ساتھ نماز پڑھا دی اور سجدے کو رکوع کی نسبت زیادہ جھکتا ہوا کیا۔