حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَزَوَّجْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ لَا بَلْ ثَيِّبًا لِي أَخَوَاتٌ وَعَمَّاتٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ قَالَ أَفَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا قَالَ لَكُمْ أَنْمَاطٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى فَقَالَ خَفْ أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ نَعَمْ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَتْرُكُهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا نبی ﷺ نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ نکاح کیا تم اس سے کھیلتے؟ پھر فرمایا کہ عنقریب تمہیں اونی کپڑے ملیں گے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کہاں سے؟ فرمایا عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے اب آج وہ مجھے مل گئے ہیں تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھو تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ عَلَى دُبُرٍ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَا أَبْتَاعُهُ فَابْتَاعَهُ فَقَالَ عَمْرٌو قَالَ جَابِرٌ غُلَامٌ قِبْطِيٌّ وَمَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ زَادَ فِيهَا أَبُو الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کردیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی سامان نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی ﷺ کو اس کی اس حالت کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا نعیم بن عبداللہ کہنے لگے کہ میں اسے خریدتا ہوں چناچہ انہوں نے اسے خرید لیا وہ غلام قبطی تھا اور پہلے ہی سال مرگیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ وَقَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ لِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ نَبِيذًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّشْرَةِ فَقَالَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے منتر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ شیطانی عمل ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَرَأَيْتُ أَنَا جَابِرًا يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ وَرَأَيْتُ جَابِرًا يُصَلِّي وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا الزُّبَيْرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ بْنُ عَقِيلٍ قَالَ ذَهَبْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَقِيلٍ وَكَانَ عَسِرًا لَا يُوصَلُ إِلَيْهِ فَأَقَمْتُ عَلَى بَابِهِ بِالْيَمَنِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ وَكَانَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ فَلَمْ أَقْدِرْ أَنْ أَسْمَعَهَا مِنْ عُسْرِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ لِأَنَّهُ كَانَ حَيًّا أَفَلَمْ أَسْمَعْهَا مِنْ أَحَدٍ آخَرَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید انصاری صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی ﷺ اس وقت جنت البقیع میں تھے آپ نے فرمایا تم اسے ڈھک کر کیوں نہ لائے اگرچہ لکڑی ہی سے ڈھک لیتے۔ امام احمد فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ابراہیم بن عقیل کے پاس گیا وہ مقروض یا تنگدست تھے جس کی بناء پر ان تک پہنچ حاصل نہ ہوتی تھی میں یمن میں ان کے گھر کے دروازے پر ایک یا دو دن تک کھڑا رہا کہیں جا کر ان سے مل سکا لیکن انہوں نے مجھے صرف دو حدیثیں سنائیں حالانکہ ان کے پاس وہب کے حوالے حضرت جابر ؓ کی بہت سی حدیثیں تھیں لیکن اس مجبوری کی وجہ سے میں ان کی زیادہ حدیثیں نہ سن سکا۔ یہ حدیثیں ہم سے اسماعیل بن عبدالکریم نے بھی بیان نہیں کی تھیں کیونکہ وہ زندہ تھے اور میں نے کسی دوسرے آدمی سے وہ حدیثیں نہیں سنیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ میں جاتے تو اپنے پہلوؤں کو اپنے پیٹ سے اتنا جدا رکھتے کہ آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور اس دوران نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ عَبَّاسٌ اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنْ الْحِجَارَةِ فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ إِزَارِي إِزَارِي فَشُدَّ عَلَيْهِ إِزَارُهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی ﷺ اور حضرت عباس بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہوجائیں تو نبی ﷺ نے ایسا کرنا چاہا تو بےہوش کر گرپڑے اور آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کرلیں گے تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کرلیا سوائے، اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ مِنْبَرُهُ اسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَنَتْ وَقَالَ رَوْحٌ فَسَكَتَتْ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَاضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ وَقَالَ رَوْحٌ اضْطَرَبَتْ كَحَنِينِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک درخت کے تنے کے سہارے خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا اور نبی ﷺ اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی ﷺ اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہوگیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى سُئِلَ جَابِرٌ عَنْ الْكَفَنِ فَأَخْبَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا قُبِضَ وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کا ذکر کیا جو فوت ہوگئے تھے اور انہیں غیرضروری کفن میں کفنا کر رات کے وقت دفنایا گیا تھا نبی ﷺ نے رات کے وقت تدفین سے سخت منع فرمایا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے الاّ یہ کہ انسان بہت زیادہ مجبور ہوجائے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ قَالَ فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُقَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُجَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنْ الْحَبَشِ هَلُمَّ فَصُفُّوا قَالَ فَصَفَفْنَا فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ و قَالَ اسْمُ النَّجَاشِيِّ أَصْحَمَةُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی شاہ حبشہ نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو چناچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی ﷺ کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں نجاشی کا نام اصحمہ بھی مذکور ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ تَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بنو نجار کے ایک باغ میں داخل ہوئے وہاں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دیں جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوئے تھے اور انہیں اپنی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا نبی ﷺ گھبرا کر وہاں سے نکل آئے اور صحابہ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَوْضُوعَةٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کا جنازہ رکھا ہوا تھا نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔