حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذَلِكَ فَقَالَ لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا
بکر بن مزنی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی ﷺ کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے، تو میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کی، وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے تو صرف حج کا تلبیہ پڑھا تھا، جب میری ملاقات حضرت انس ؓ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت ابن عمر ؓ کی بات بتائی، وہ کہنے لگے کہ تم لوگ ہمیں بچہ سمجھتے ہو؟ میں نے خود نبی ﷺ کو " لبیک عمرۃ وحجا " کہتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ حَسِبْتُهُ قَالَ عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ سَمَّتَ وَتَرَكَ الْآخَرَ فَقِيلَ رَجُلَانِ عَطَسَ أَحَدُهُمَا فَشَمَّتَّهُ وَلَمْ تُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی ﷺ نے ان میں سے ایک کو جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے " الحمدللہ " کہا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر کھڑے ہوں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا وَلْيَمْسَحْ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ
حضرت انس ؓ نے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے، حضرت صدیق اکبر ؓ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے جبکہ حضرت عمر ؓ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ابو طیبہ نے نبی ﷺ کی سینگی لگائی، نبی ﷺ نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ الْأَخْضَرَ بْنَ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ و حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي صَاحِبَ شُعْبَةَ عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بولی لگا کر ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ بیچا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنْ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَيَسْجُدُ عَلَيْهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ کہ ہم لوگ سخت گرمی میں بھی نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اگر ہم میں سے کسی میں زمین پر اپنا چہرہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتی تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ
اور نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَإِنَّمَا كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا قَالَ يَزِيدُ فَكَفَّارَتُهَا أَنْ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے، اسے پڑھ لے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَرْضَى عَنْ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھائے یا پانی کا گھونٹ پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت نو سال تک کی ہے، مجھے یاد نہیں کہ نبی ﷺ نے کبھی مجھ سے یہ فرمایا ہو کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا؟ اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی مجھ میں کوئی عیب نکالا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى وَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالْأَبْطَحِ قَالَ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ
عبدالعزیز بن رفیع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کے حوالے سے اگر آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ آپ ﷺ نے آٹھ ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی تو مجھے بتا دیجئے؟ انہوں نے فرمایا منیٰ میں، میں نے پوچھا کہ کوچ کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا مقام ابطح میں، پھر فرمایا کہ تم اسی طرح کرو جیسے تہمارے امراء کرتے ہیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ وَغَسَّانُ بْنُ مُضَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ
سعید بن یزید (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں!۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ الْيُحْمَدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا لَهُ فَأَيْنَ الصَّلَاةُ قَالَ أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ
حضرت انس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ہم جو کچھ کرتے تھے، آج مجھے ان میں کچھ بھی نظر نہیں آتا، لوگوں نے کہا کہ نماز کہاں گئی؟ (ہم نماز تو پڑھتے ہیں) فرمایا کہ یہ تم بھی جانتے ہو کہ تم نماز میں کیا کرتے ہو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مرد کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيَ الْمَوْتِ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یقین اور پختگی کے ساتھ دعاء کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر آپ چاہیں تو مجھے یہ عطاء فرما دیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔