حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص ایک اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف (لپٹ کر سوال کرنا) کرتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کربلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھالے، اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گذرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اور ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعدجو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ وَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَسْجِدِي
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، ایک آدمی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور دوسرے آدمی کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، نبی ﷺ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا حَدَّثَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نُهُوا عَنْ الصَّرْفِ وَرَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوسعید ؓ جابر ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف فرماتے تھے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ قَالَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا حَدَّثَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نُهُوا عَنْ الصَّرْفِ رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوسعید ؓ جابر ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف فرماتے تھے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ اثْنَيْنِ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّرْفِ
حضرت ابوسعید ؓ جابر ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف فرماتے تھے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان دنیا میں تین حصوں پر منقسم ہیں۔ (١) وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے، پھر اس میں انہیں شک نہ ہوا اور وہ اپنی جان و مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے۔ (٢) وہ لوگ جن کی طرف سے لوگوں کی جان مال محفوظ ہوں۔ (٣) وہ لوگ جنہیں کسی چیز کی طمع پیدا ہو اور پھر وہ اسے اللہ کی رضاء کے لئے چھوڑ دیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ وَقَالَ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے جو قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعَيَّ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الضَّحَّاكِ الْمَشْرِقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَهِيَ ثُلُثُ الْقُرْآنِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام ؓ کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنْ اللَّهِ فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا فَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا هِيَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرُهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو سمجھ لے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اسے بیان کردے اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو سمجھ لے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ کی پناہ پکڑے اور کسی سے ذکر نہ کرے۔ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُوَاصِلُوا فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِي
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہے تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عِزَّةٍ وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لغزش اور ٹھوکریں کھانے والا ہی بردبار بنتا ہے اور تجربہ کار آدمی ہی عقلمند ہوتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ چلے جارہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک شاعر اشعار پڑھتا ہوا آگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس شیطان کو روکو، کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا، اشعار سے بھرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَبَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَهُ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ الْخَيَّاطِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْفِطْرَ بِالْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَسَأَلَهُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ فَصَلَّى يَوْمَئِذٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
ابویعقوب الخیاط (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عیدالفطر کے موقع پر مدینہ منورہ میں مصعب بن زبیر (رح) کے ساتھ تھا، انہوں نے حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے قاصد کے ذریعے یہ معلوم کروایا کہ نبی ﷺ کا عید کے دن کیا معمول تھا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ خطبہ سے قبل نماز پڑھا کرتے تھے، چناچہ مصعب (رح) نے بھی اس دن خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُ قَالَ فَاسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ مَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ قَالَ فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ نَحْوَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ مجھے میری والدہ نے نبی ﷺ کی طرف بھیجا اور کہا کہ جا کر نبی ﷺ سے امداد کی درخواست کرو، چناچہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیٹھ گیا، نبی ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ سے کفایت طلب کرتا ہے، اللہ اسے کفایت دے دیتا ہے۔ اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی ﷺ سے کچھ نہ مانگا۔ اور جو شخص اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف (لپٹ کر سوال کرنا) کرتا ہے، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میری اونٹنی " یاقوتہ " تو ایک اوقیہ سے بھی زیادہ کی ہے، لہٰذا میں واپس آگیا اور نبی ﷺ سے کچھ نہ مانگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقَارِئَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، اس میں کمی بیشی نہ کرو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
و قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
اور فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر کسی مسلمان کو جنت میں بچے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل، وضع حمل اور عمر تمام مراحل ایک لمحے میں اس کی خواہش کے مطابق ہوجائیں گے۔