حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَغَنَّى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ تَعَفَّفَ أَعَفَّهُ اللَّهُ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص غناء حاصل کرتا ہے اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو شخص عفت حاصل کرتا ہے اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ الرِّبَا قَالَ فَحَدَّثَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَمَّ مَقَالَتَهُ حَتَّى دَخَلَ بِهِ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي عَنْكَ حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَسَمِعْتَهُ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو، کیوں کہ مجھے تم پر سود میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہے، راوی حدیث نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر ؓ کو یہی حدیث حضرت ابوسعید خدری ؓ کے حوالے سے سنائی، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری ؓ بھی آگئے، میں وہیں پر موجود تھا، حضرت ابن عمر ؓ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی ﷺ کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وَصَبٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا حَزَنٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ شَكَّ عُمَارَةُ فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَالْأَنْصَارُ وَغَيْرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَأْتَمِنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأْتِينِي خَبَرٌ مِنْ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ وَيْحَكَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ أَنَا ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ خَالِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي فَقَالَ إِنَّهُ رُبَّ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ هَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی ﷺ کی خدمت میں بھیجا، نبی ﷺ نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، بعض صحابہ ؓ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ میں تو آسمان والے کا امین ہوں، میرے پاس صبح شام آسمانی خبریں آتی ہیں، اتنی دیر میں گہری آنکھوں، سرخ رخساروں، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہوا اور سرمنڈایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کا خوف کیجئے، نبی ﷺ نے اسے سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا بدنصیب! کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہی نہیں ہوں۔ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا، حضرت خالد بن ولید ؓ کہنے لگے، یا رسول اللہ ﷺ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ بہت سے نمازی ایسے بھی ہیں جو اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کرتا پھروں یا ان کے پیٹ چاک کرتا پھروں، پھر نبی ﷺ نے اسے ایک نظر دیکھا جو پیٹھ پھیر کر جارہا تھا اور فرمایا یاد رکھو! اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے، چناچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب وہ خوش ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزہ دار کے منہ سے بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ سُئِلَ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ لَا جُنَاحَ أَوْ لَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَتَتَرَّبُ رَأْسُهُ قَالَ فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں تعمیر مسجد کا حکم دیا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار ؓ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے اور ان کا سر مٹی میں رچ بس گیا تھا، میرے ساتھیوں نے مجھ سے بیان کیا، اگرچہ میں نے نبی ﷺ سے یہ بات خود نہیں سنی کہ نبی ﷺ ان کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ! افسوس، کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُعْطِي الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ مَا تُفْتِينَا قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ وَإِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کردیا گیا تھا، (کہیں یہ وہی نہ ہو اور نبی ﷺ نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا، حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر ؓ فرماتے تھے کہ اللہ اس سے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور یہ عام طور پر چرواہوں کی غذاء ہے، اگر یہ میرے پاس ہو تو میں بھی اسے کھالوں، نبی ﷺ نے اسے کھانے سے صرف احتیاط فرمائی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَ فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور بھی ہو، چناچہ ہم نے اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیا، پھر جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ قَالَ فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نماز عشاء کے لئے نبی ﷺ کا انتظار کر رہے تھے، انتظار کرتے کرتے رات کا ایک تہائی حصہ بیت گیا، بالآخر نبی ﷺ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا اپنی اپنی جگہ پر ہی بیٹھو، لوگ اپنے اپنے بستروں میں جاچکے، لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو، تم برابر نماز میں ہی شمار ہوئے، اگر ضعفاء کی کمزوری، بیماروں کی بیماری اور ضرورت مندوں کی ضرورت کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں یہ نماز رات کے ایک حصہ تک مؤخر کردیتا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللَّهُ بِهِمْ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمْ الشُّفَعَاءُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ أَنْصَارَهُ فَيَبُثُّهُمْ أَوْ قَالَ فَيَنْبُتُونَ عَلَى نَهَرِ الْحَيَاءِ أَوْ قَالَ الْحَيَوَانِ أَوْ قَالَ الْحَيَاةِ أَوْ قَالَ نَهَرِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ أَوْ قَالَ تَكُونُ صَفْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاءَ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَادِيَةِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں کو نکال کرلے جائے گا، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی ﷺ نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد ہوتا ہے، یا اس کا عکس فرمایا: اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی ﷺ جنگل میں بھی رہے ہیں (کہ وہاں کے حالات خوب معلوم ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ فِي حَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ أَوْ سَمِعَهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ کاش! میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک قوم کا تذکرہ کیا جو آپ کی امت میں ہوگی اور لوگوں میں ایک فرقہ کے طور پر اس کا خروج ہوگا، ان لوگوں کا شعار ٹنڈ کروانا ہوگا، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے، انہیں دو میں سے ایک گروہ " جو حق کے زیادہ قریب ہوگا " قتل کرے گا، پھر نبی ﷺ نے ان کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جیسے ایک آدمی تیر پھینکے، پھر اس کے پھل کو دیکھے تو وہاں کچھ نظر نہ آئے، پھر دھار کو دیکھے تو وہاں بھی کچھ نظر نہ آئے، پھر دستے کو دیکھے تو وہاں بھی کچھ نظر نہ آئے، حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ اے اہل عراق! ان لوگوں کو تم نے ہی قتل کیا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا أَوْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ قَالَ فَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا نبی ﷺ نے فرمایا اس پر کون تجارت کرے گا؟ یا کون اس پر صدقہ دے کر کے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ وَمُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ كَرْيُ الْأَرْضِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کوئی کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ أَمَّا الْبَيْعَتَانِ الْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ وَاللِّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے، خریدو فروخت سے مراد تو ملامسہ اور منابدہ ہے اور لباس سے مراد صرف ایک چادر میں لپٹنا ہے، یا ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنا ہے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ و حَدَّثَنَاه حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ الْحَدِيثِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے قبلہ مسجد میں تھوک یا ناپاک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی ﷺ نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔