حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ غَدَا فَابْتَكَرَ وَجَلَسَ مِنْ الْإِمَامِ قَرِيبًا فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ بِكُلِّ خَطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا
حضرت اوس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کرے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔
حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ فُلَانًا أَوْسٌ جَدُّهُ قَالَ كَانَ جَدِّي يَقُولُ لِي وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يُومِئُ إِلَيَّ نَاوِلْنِي النَّعْلَيْنِ فَأُنَاوِلُهُمَا إِيَّاهُ فَيَلْبَسُهُمَا وَيُصَلِّي فِيهِمَا وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ
حضرت اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتا تو وہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی ﷺ کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا قَالَ قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا قَالَ غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا
حضرت اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا ہے کہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ ہتھیلی میں پانی لیا میں نے پوچھا کہ کس مقصد کے لئے فرمایا ہاتھ دھونے کے لئے۔
حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی کی حدیثیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عَلَى مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ مَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ
حضرت اوس سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے اپنے والد صاحب کو عرب کے کسی چشمے پر جوتیوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جوتیوں پر مسح کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا میں نے نبی ﷺ کو جس طرح دیکھا ہے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔