ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3296
شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے عاصم نے بتایا کہ میں نے شعبی کے سامنے ایک کتاب پڑھی جس میں جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہیں کی جاسکتی تو شعبی نے کہا: میں نے یہ حدیث جابر ؓ سے سنی ہے۔
Asim said: "I read a book to Ash-Shabi in which it was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt. He said: I heard that from Jabir.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3297
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو رشتے (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے (عورت کا) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What becomes unlawful (for marriage) through birth becomes unlawful through breast-feeding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3300
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نکاح کے حرام ہونے میں رضاعت اور ولادت کا ایک ہی حکم ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے (عائشہ سے) فرمایا: ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Aishah that her paternal uncle through breast-feeding, whose name was Aflah, asked permission to meet her, and she observed Hijab before him. The Messenger of Allah was told about that and he said: "Do not observe Hijab before him, for what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through lineage.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3301
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب حقیقی چچا سے پردہ نہیں ہے تو رضاعی چچا سے بھی پردہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤)، تفسیر سورة السجدة ٩ (٤٧٩٦)، النکاح ٢٢ (٥١٠٣)، ١١٧ (٥٢٣٩)، الأدب ٩٣ (٦١٥٦)، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١)، مسند احمد (٦/٢١٧)، ویأتي عند المؤلف ٣٣٢٠ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through lineage.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3302
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Amrah said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3303
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نسلی حقیقی رشتے سے جو لوگ حرام ہوتے ہیں وہی لوگ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور (ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں) آپ ہمیں چھوڑ رہے (اور نظر انداز فرما رہے) ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی (شادی کے لائق) ہے؟ میں نے کہا: ہاں! حمزہ ؓ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ۔
It was narrated that Ali (RA) said: "I said: O Messenger of Allah, why do you choose wives from among Quraish and not from among us? He said: Do you have anyone in mind? I said: Yes, the daughter of Hamzah. The Messenger of Allah said: She is not permissible for me (to marry); she is the daughter of my brother through breast-feeding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3304
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے حمزہ ؓ کی بیٹی (سے شادی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ١ ؎۔ شعبہ کہتے ہیں: اس روایت کو قتادہ نے جابر بن زید سے سنا ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Mention was made to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) of the daughter of Hamzah (as a potential wife). He said: She is the daughter of my brother through breast-feeding." (One of the narrators) Shubah said: "Qatadah heard this from Jabir bin Zaid.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3305
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حمزہ ؓ کی بیٹی سے شادی کرلینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت (دودھ پینے) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہوجاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the daughter of Hamzah was suggested to Messenger of Allah (as a potential wife). He said: "She is the daughter of my brother through breast-feeding, and what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is the same as that which becomes unlawful through lineage.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3306
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ (حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا) عشر رضعات معلومات يحرمن (دس (واضح) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کردیں گے) ، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کردیا گیا (یعنی خمس رضعات معلومات) ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: "One of the things that Allah, the Mighty and Sublime, revealed" (one of the narrators) Al-Harith said (in his narration): "One of the things that were revealed in the Quran"- "was that ten known breast-feedings make marriage prohibited, then that was abrogated and changed to five known breast-feedings. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed away when this was something that was still being recited in the Quran.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3307
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کے انتقال کے قریبی زمانہ میں پانچ گھونٹ کی بھی آیت منسوخ ہوگئی، لیکن جنہیں بروقت اس کے منسوخ ہونے کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے اس کے پڑھے جانے کا ہی ذکر کردیا ہے۔ پھر جب انہیں منسوخ ہونے کا علم ہوگیا تو انہوں نے بھی اس کا پڑھنا ( و لکھنا ) ترک کردیا۔
ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے رضاعت (یعنی دودھ پلانے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک بار اور دو بار کا پلانا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۔ قتادہ اپنی روایت میں الإملاجة ولا الإملاجتان کی جگہ المصة والمصتان کہتے ہیں، یعنی ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا ۔
It was narrated from Umm Fadl that the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about breast-feeding and said: "Suckling (Al-Imlajah) once or twice does not make (marriage) prohibited." And (one of the narrators) Qatadah said (in his narration): "Suckling (Al-Massah) once or twice does not make (marriage) prohibited.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3308
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس (خط) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود ؓ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت (نکاح) ثابت ہوجائے گی، اور ان کی کتاب (تحریر) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ ؓ نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ایک بار یا دو بار اچک لینے (یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی ١ ؎۔
Saeed narrated from Qatadah: "We wrote to Ibrahim bin Yazid An-Nakhai asking him about breast-feeding. He wrote back saying that Shuraih had narrated that Ali and Ibn Masud used to say: A little or a lot of breast-feeding makes marriage prohibited." In his book, it said that Abu Ash-Shatha Al-Muharibi narrated that Aishah had told him that the Prophet of Allah used to say: "Suckling (Al-Khatfah) once or twice does not make (marriage) prohibited.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3311
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے یہاں قول صحابہ پر نہیں قول رسول پر عمل ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے (اس وقت) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا: اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں (جبکہ دودھ ہی غذا ہو) ہے ۔
It was narrated that Masruq said: "Aishah said: The Messenger of Allah entered upon me and there was a man sitting with me. He got upset about that, and I saw the anger in his face. I said: "O Messenger of Allah, he is my brother through breast-feeding." He said: "Be careful who you count as your brothers" --or: "be careful who you count as your brothers through breast-feeding"-- "for the breast-feeding (which makes marriage prohibited) is from hunger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3312
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ ؓ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے ، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت (دودھ کا رشتہ) ویسے ہی (نکاح کو) حرام کرتا ہے جیسے ولادت (نسل) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے ۔
It was narrated from Amrah that Aishah told her that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was with her, and she heard a man asking permission to enter Hafsahs house. Aishah said: "I said: O Messenger of Allah, there is a man asking permission to enter your house. The Messenger of Allah said: I think it is so-and-so the paternal uncle of Hafsah through breast-feeding. Aishah said: If so-and-so (her own paternal uncle through breast-feeding) were alive, would he be allowed to enter upon me? The Messenger of Allah said: What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3313
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد میرے پاس آئے، تو میں نے انہیں واپس لوٹا دیا (ہشام کہتے ہیں کہ وہ ابوالقعیس تھے) ، پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں (گھر میں) آنے کی اجازت دو ۔
It was narrated from Urwah that Aishah told him: "My paternal uncle through breast-feeding, Abu Al-Jad, came to me, and I sent him away. -He (one of the narrators) said: "Hisham said: He was Abu Al-Quais." - "Then the Messenger of Allah came, and I told him. The Messenger of Allah said: Give him permission (to enter).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3314
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں ۔
It was narrated from Aishah that the brother of Abu Al-Quais asked permission to enter upon Aishah after the Verse of Hijab had been revealed, and she refused to let him in. Mention of that was made to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Let him in, for he is your paternal uncle." She said: "The woman breast-fed me, not the man." He said: "He is your paternal uncle, so let him visit you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3315