نکاح سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 25 · 193 hadiths · Page 6 of 10

3300Sunan An Nasai

بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3296
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٨) تعلیقًا، سنن ابی داود/النکاح ١٣ (٢٠٦٥) مطولا، سنن الترمذی/النکاح ٣١ (١١٢٦) مطولا، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٩)، مسند احمد (٢/٤٢٦، سنن الدارمی/النکاح ٨ (٢٢٢٤) (صحیح )
3301Sunan An Nasai

بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الشَّعْبِيِّكِتَابًا فِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، قَالَ: سَمِعْتُ هَذَا مِنْ جَابِرٍ.

شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے عاصم نے بتایا کہ میں نے شعبی کے سامنے ایک کتاب پڑھی جس میں جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہیں کی جاسکتی تو شعبی نے کہا: میں نے یہ حدیث جابر ؓ سے سنی ہے۔

Asim said: "I read a book to Ash-Shabi in which it was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt. He said: I heard that from Jabir.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3297
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٨)، (تحفة الأشراف: ٢٣٤٥)، مسند احمد (٣/٣٣٨، ٣٨٢) (صحیح )
3302Sunan An Nasai

بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَخَالَتِهَا.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے شادی کی جائے۔

Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3298
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3303Sunan An Nasai

بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3299
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٨٧١) (صحیح )
3304Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا حَرَّمَتْهُ الْوِلَادَةُ حَرَّمَهُ الرَّضَاعُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو رشتے (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے (عورت کا) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What becomes unlawful (for marriage) through birth becomes unlawful through breast-feeding.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3300
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نکاح کے حرام ہونے میں رضاعت اور ولادت کا ایک ہی حکم ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٧ (٢٠٥٥)، سنن الترمذی/الرضاع ١ (١١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٤)، موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٥)، مسند احمد (٦/٤٤، ٥١، ٦٦، ٦٦، ٧٢، ١٠٢)، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٥) (صحیح )
3305Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے (عائشہ سے) فرمایا: ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Aishah that her paternal uncle through breast-feeding, whose name was Aflah, asked permission to meet her, and she observed Hijab before him. The Messenger of Allah was told about that and he said: "Do not observe Hijab before him, for what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through lineage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3301
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب حقیقی چچا سے پردہ نہیں ہے تو رضاعی چچا سے بھی پردہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤)، تفسیر سورة السجدة ٩ (٤٧٩٦)، النکاح ٢٢ (٥١٠٣)، ١١٧ (٥٢٣٩)، الأدب ٩٣ (٦١٥٦)، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١)، مسند احمد (٦/٢١٧)، ویأتي عند المؤلف ٣٣٢٠ (صحیح )
3306Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through lineage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3302
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١ (١٤٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠٢)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١) (صحیح )
3307Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Amrah said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3303
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نسلی حقیقی رشتے سے جو لوگ حرام ہوتے ہیں وہی لوگ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٥) (صحیح )
3308Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: وَعِنْدَكَ أَحَدٌ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور (ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں) آپ ہمیں چھوڑ رہے (اور نظر انداز فرما رہے) ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی (شادی کے لائق) ہے؟ میں نے کہا: ہاں! حمزہ ؓ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ۔

It was narrated that Ali (RA) said: "I said: O Messenger of Allah, why do you choose wives from among Quraish and not from among us? He said: Do you have anyone in mind? I said: Yes, the daughter of Hamzah. The Messenger of Allah said: She is not permissible for me (to marry); she is the daughter of my brother through breast-feeding.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3304
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٣ (١٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٧١)، مسند احمد (١/٨٢، ١١٤، ١٢٦، ١٣٢، ١٥٨) (صحیح )
3309Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنْتُ حَمْزَةَ، فَقَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا سَمِعَهُ قَتَادَةُ مِنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے حمزہ ؓ کی بیٹی (سے شادی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ١ ؎۔ شعبہ کہتے ہیں: اس روایت کو قتادہ نے جابر بن زید سے سنا ہے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Mention was made to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) of the daughter of Hamzah (as a potential wife). He said: She is the daughter of my brother through breast-feeding." (One of the narrators) Shubah said: "Qatadah heard this from Jabir bin Zaid.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3305
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دودھ بھائی کی بیٹی سے شادی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٥)، والنکاح ٣٥ (٥١٠٠)، صحیح مسلم/الرضاع ٣ (١٤٤٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٤ (١٩٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٨)، مسند احمد (١/٢٢٣، ٢٧٥، ٢٩٠، ٣٢٩، ٣٣٩، ٣٤٦) (صحیح )
3310Sunan An Nasai

دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ، فَقَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حمزہ ؓ کی بیٹی سے شادی کرلینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت (دودھ پینے) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہوجاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the daughter of Hamzah was suggested to Messenger of Allah (as a potential wife). He said: "She is the daughter of my brother through breast-feeding, and what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is the same as that which becomes unlawful through lineage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3306
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٣٠٧ (صحیح )
3311Sunan An Nasai

کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ الْحَارِثُ: فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ (حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا) عشر رضعات معلومات يحرمن (دس (واضح) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کردیں گے) ، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کردیا گیا (یعنی خمس رضعات معلومات) ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "One of the things that Allah, the Mighty and Sublime, revealed" (one of the narrators) Al-Harith said (in his narration): "One of the things that were revealed in the Quran"- "was that ten known breast-feedings make marriage prohibited, then that was abrogated and changed to five known breast-feedings. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed away when this was something that was still being recited in the Quran.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3307
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کے انتقال کے قریبی زمانہ میں پانچ گھونٹ کی بھی آیت منسوخ ہوگئی، لیکن جنہیں بروقت اس کے منسوخ ہونے کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے اس کے پڑھے جانے کا ہی ذکر کردیا ہے۔ پھر جب انہیں منسوخ ہونے کا علم ہوگیا تو انہوں نے بھی اس کا پڑھنا ( و لکھنا ) ترک کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٦ (١٤٥٢)، سنن ابی داود/النکاح ١١ (٢٠٦٢)، سنن الترمذی/الرضاع ٣ (١١٥٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٧)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١)، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٩) (صحیح )
3312Sunan An Nasai

کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَيُّوبُ، عَنْصَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرَّضَاعِ، فَقَالَ: لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ، وَقَالَ قَتَادَةُ: الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ.

ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے رضاعت (یعنی دودھ پلانے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک بار اور دو بار کا پلانا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۔ قتادہ اپنی روایت میں الإملاجة ولا الإملاجتان کی جگہ المصة والمصتان کہتے ہیں، یعنی ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا ۔

It was narrated from Umm Fadl that the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about breast-feeding and said: "Suckling (Al-Imlajah) once or twice does not make (marriage) prohibited." And (one of the narrators) Qatadah said (in his narration): "Suckling (Al-Massah) once or twice does not make (marriage) prohibited.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3308
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٥ (١٤٥١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥١)، مسند احمد (٦/٣٣٩، ٣٤٠)، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٨) (صحیح )
3313Sunan An Nasai

کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ.

عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا ۔

It was narrated from Abdullah bin Az-Zubair that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Suckling once or twice does not make (marriage) prohibited.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3309
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٢٨١)، مسند احمد (٤/٤، ٥) (صحیح، انظر ما بعدہ ٣١٠٢ )
3314Sunan An Nasai

کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah said: Suckling once or twice does not make (marriage) prohibited.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3310
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پی لینے سے اس سے نکاح کی حرمت کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٥ (١٤٥٠)، سنن ابی داود/النکاح ١١ (٢٠٦٣)، سنن الترمذی/الرضاع ٣ (١١٥٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٨٩)، مسند احمد ٦/٣١، ٩٥، ٢١٦، ٢٤٧) (صحیح )
3315Sunan An Nasai

کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ ؟ فَكَتَبَ، أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَنَا، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ، كانا يقولان: يحرم من الرضاع قليله وكثيره، وكان في كتابه أن أبا الشعثاء المحاربي حَدَّثَنَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ.

قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس (خط) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود ؓ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت (نکاح) ثابت ہوجائے گی، اور ان کی کتاب (تحریر) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ ؓ نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ایک بار یا دو بار اچک لینے (یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی ١ ؎۔

Saeed narrated from Qatadah: "We wrote to Ibrahim bin Yazid An-Nakhai asking him about breast-feeding. He wrote back saying that Shuraih had narrated that Ali and Ibn Masud used to say: A little or a lot of breast-feeding makes marriage prohibited." In his book, it said that Abu Ash-Shatha Al-Muharibi narrated that Aishah had told him that the Prophet of Allah used to say: "Suckling (Al-Khatfah) once or twice does not make (marriage) prohibited.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3311
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے یہاں قول صحابہ پر نہیں قول رسول پر عمل ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠١٢٤، ١٦١٣٣) (صحیح الإسناد )
3316Sunan An Nasai

کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ: انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ وَمَرَّةً أُخْرَى انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے (اس وقت) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا: اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں (جبکہ دودھ ہی غذا ہو) ہے ۔

It was narrated that Masruq said: "Aishah said: The Messenger of Allah entered upon me and there was a man sitting with me. He got upset about that, and I saw the anger in his face. I said: "O Messenger of Allah, he is my brother through breast-feeding." He said: "Be careful who you count as your brothers" --or: "be careful who you count as your brothers through breast-feeding"-- "for the breast-feeding (which makes marriage prohibited) is from hunger.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3312
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٧)، النکاح ٢٢ (٥١٠٢)، صحیح مسلم/الرضاع ٨ (١٤٥٥)، سنن ابی داود/النکاح ٩ (٢٠٥٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨)، مسند احمد (٦/٩٤، ١٣٨، ١٧٤، ٢٤١) (صحیح )
3317Sunan An Nasai

عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّعَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ رَجُلًا يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ ؓ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے ، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت (دودھ کا رشتہ) ویسے ہی (نکاح کو) حرام کرتا ہے جیسے ولادت (نسل) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے ۔

It was narrated from Amrah that Aishah told her that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was with her, and she heard a man asking permission to enter Hafsahs house. Aishah said: "I said: O Messenger of Allah, there is a man asking permission to enter your house. The Messenger of Allah said: I think it is so-and-so the paternal uncle of Hafsah through breast-feeding. Aishah said: If so-and-so (her own paternal uncle through breast-feeding) were alive, would he be allowed to enter upon me? The Messenger of Allah said: What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3313
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٦)، الخمس ٤ (٣١٠٥)، النکاح ٢٠ (٥٠٩٩)، صحیح مسلم/الرضاع ١ (١٤٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠٠)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١)، مسند احمد (٦/٤٤، ٥١، ١٧٨، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٩) (صحیح )
3318Sunan An Nasai

عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔

أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّعَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي أَبُو الْجَعْدِ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَرَدَدْتُهُ، قَالَ: وَقَالَ هِشَامٌ: هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنِي لَهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد میرے پاس آئے، تو میں نے انہیں واپس لوٹا دیا (ہشام کہتے ہیں کہ وہ ابوالقعیس تھے) ، پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں (گھر میں) آنے کی اجازت دو ۔

It was narrated from Urwah that Aishah told him: "My paternal uncle through breast-feeding, Abu Al-Jad, came to me, and I sent him away. -He (one of the narrators) said: "Hisham said: He was Abu Al-Quais." - "Then the Messenger of Allah came, and I told him. The Messenger of Allah said: Give him permission (to enter).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3314
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢ (١٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٧٥)، مسند احمد (٦/٢٠١) (صحیح )
3319Sunan An Nasai

عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ بَعْدَ آيَةِ الْحِجَابِ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں ۔

It was narrated from Aishah that the brother of Abu Al-Quais asked permission to enter upon Aishah after the Verse of Hijab had been revealed, and she refused to let him in. Mention of that was made to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Let him in, for he is your paternal uncle." She said: "The woman breast-fed me, not the man." He said: "He is your paternal uncle, so let him visit you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3315
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٣٤٨) (صحیح )