مساجد کے متعلق کتاب

Sunan An Nasai · Chapter 8 · 54 hadiths · Page 1 of 3

689Sunan An Nasai

مساجد تعمیر کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ.

عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔

It was narrated from Amr bin Abasah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever builds a Masjid in which Allah is remembered, Allah, (the Mighty and Sublime) will build for him a house in Paradise".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 688
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٧)، مسند احمد ٤/٣٨٦ (صحیح )
690Sunan An Nasai

مساجد تعمیر کرنے میں فخر کرنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد بنانے میں فخر و مباہات کریں گے ۔

It was narrated from Anas (RA) that the Prophet ﷺ said: "One of the portents of the Hour will be that people will show off in building Masjids".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 689
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢ (٤٤٩)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٢ (٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٥١)، مسند احمد ٣/١٣٤، ١٤٥، ١٥٢، ٢٣٠، ٢٨٣، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٣ (١٤٤٨) (صحیح )
691Sunan An Nasai

کونسی مسجد پہلے بنائی گئی؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قال: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السِّكَّةِ، فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلًا ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى، قُلْتُ: وَكَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ عَامًا، وَالْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ.

ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد (یزید بن شریک) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر ؓ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ١ ؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو ۔

It was narrated that Ibrahim said: "I used to recite Quran to my father on the road, and if I recited a verse in which prostration was required, he would prostrate. I said: O my father, do you prostrate on the street? He said: I heard Abu Dharr say: "I asked the Messenger of Allah ﷺ: Which Masjid was built first? He said: Al-Masjid Al-Haram. [1] I said: Then which? He said: Al-Masjid Al-Aqsa. [2] I said: How long was there between them? He said: Forty years. And the earth is a Masjid (or a place of prostration) for you, so wherever you are when the time for prayer comes, pray". [1] In Makkah. [2] "Furthest Masjid" meaning the Masjid in Jerulsalem.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 690
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ابراہیم (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا مسجد بنانا مراد نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے، بلکہ مراد آدم (علیہ السلام) کا بنانا ہے، ابن ہشام کی کتاب التیبحان میں ہے کہ آدم (علیہ السلام) جب کعبہ بنا چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس جانے اور ہاں ایک مسجد بنانے کا حکم دیا، چناچہ وہ گئے اور جا کر وہاں بھی انہوں نے ایک مسجد بنائی، (کذا فی زہرالربی)، حافظ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ ١؍١٦٢ ) میں لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کا کہنا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر پہلے یعقوب (علیہ السلام) نے کی ہے، اگر یہ قول صحیح ہے تو ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل (علیہما السلام) کے خانہ کعبہ کی تعمیر اور یعقوب (علیہ السلام) کے مسجد الاقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فاصلہ ہوسکتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسا دوسری بار ہوا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٦)، ٤٠ (٣٤٢٥)، صحیح مسلم/المساجد ١ (٥٢٠)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٧ (٧٥٣)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٤)، مسند احمد ٥/١٥٠، ١٥٦، ١٥٧، ١٦٠، ١٦٦، ١٦٧ (صحیح )
692Sunan An Nasai

بیت اللہ شریف میں نماز پڑھنے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الصَّلَاةُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھی تو میں نے اس کے متعلق آپ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ: اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے، سوائے خانہ کعبہ کے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that Maimunah the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever prays in the Masjid of the Messenger of Allah ﷺ (that is good), for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: One prayer offered there is better than a thousand prayers offered elsewhere, except the Masjid of the Kabah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 691
Notes · وضاحت
١ ؎: خانہ کعبہ کی ایک رکعت مسجد نبوی کی سو رکعت کے برابر ہے، ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے صلا ۃ فی مسجدي ہذا أفضل من ألف صلا ۃ في غیرہ إلا المسجدالحرام فإنہ أفضل منہ بمائ ۃ صلا ۃ میری مسجد (مسجد نبوی) میں نماز دوسری مسجدوں سے ہزار گنا افضل (بہتر) ہے، ہاں، مسجد الحرام میں نماز اس (مسجد نبوی) سے سو گنا افضل (بہتر) ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٦) (وعندہ ” عن ابن عباس عن میمونة، وھو الصواب کما في التحفة، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٧)، مسند احمد ٦/٣٣٣، ویأتی عند المؤلف في المناسک ١٢٤ (برقم: ٢٩٠١) (صحیح )
693Sunan An Nasai

بیت اللہ شریف میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْصَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: رسول اکرم ﷺ ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ ؓ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کرلیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال ؓ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔

It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ entered the House (the Kabah), with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talhah, and they locked the door behind them. When the Messenger of Allah ﷺ opened it, I was the first one to enter. I met Bilal (RA) and asked him: Did the Messenger of Allah ﷺ pray inside? He said: Yes, he prayed between the two Yemeni columns".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 692
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٠ (٣٩٧)، ٨١ (٤٦٨)، ٩٦ (٥٠٤، ٥٠٥)، التھجد ٢٥ (١١٦٧)، الحج ٥١ (١٥٩٨، ١٥٩٩)، الجھاد ١٢٧ (٢٩٨٨) مطولاً، المغازي ٤٩ (٤٢٨٩) مطولاً، ٧٧ (٤٤٠٠) مطولاً، صحیح مسلم/الحج ٦٨ (١٣٢٩)، سنن ابی داود/الحج ٩٣ (٢٠٢٣، ٢٠٢٤، ٢٠٢٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٧٩ (٣٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٧)، موطا امام مالک/الحج ٦٣ (١٩٣)، مسند احمد ٢/٢٣، ٣٣، ٥٥، ١١٣، ١٢٠، ١٣٨، ٦/١٢، ١٣، ١٤، ١٥، سنن الدارمی/المناسک ٤٣ (١٩٠٩)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ٧٥٠، ٢٩٠٨، ٢٩٠٩، ٢٩١٠، ٢٩١١ (صحیح )
694Sunan An Nasai

بیت المقدس کی مسجد کا اور اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثَةً: سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَأْتِيَهُ أَحَدٌ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When Sulaiman bin Dawud علیہم السلام finished building Bait Al-Maqdis, he asked Allah for three things: Judgement that was in harmony with His judgement, and he was given that. And he asked Allah for a dominion that no one after him would have, and he was given that. And when he finished building the Masjid he asked Allah, the Mighty and Sublime, that no one should come to it, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him"۔

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 693
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٦ (١٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٤)، مسند احمد ٢/١٧٦ (صحیح )
695Sunan An Nasai

مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت اور اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ، وَكَانَا مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدُهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ. قَالَ 63 أَبُو سَلَمَةَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ، يَقُولُ: عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُنِعْنَا أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ وَتَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ جَالَسْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ 63، فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ١ ؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ ؓ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ ؓ سے کیوں نہیں گفتگو کرلی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ ؓ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ (مسجد نبوی) آخری مسجد ہے ۔

It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman and Abu Abdullah Al-Agharr, the freed slave of the Juhanis - better of whom were companions of Abu Hurairah - that they heard Abu Hurairah (RA) say: "One prayer in the Masjid of the Messenger of Allah ﷺ is better than one thousand prayers offered in other mosques, except Al-Masjid Al-Haram, for the Messenger of Allah ﷺ was the last of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s and his Masjid was the last of the Masjids"۔ Abu Salamah and Abu Abdullah said: "We do not doubt that Abu Hurairah (RA) was speaking on the basis of the Hadith of the Messenger of Allah ﷺ, but we could not verify that Hadith with Abu Hurairah before he died. Then we remembered that and we blamed one another for not having spoken to Abu Hurairah about that, so that he could attribute it to the Messenger of Allah ﷺ if he had indeed heard it from him. While we were arguing, we went and sat down with Abdullah bin Ibrahim bin Qariz, and we told him about the Hadith and how we had been negligent in not checking it with Abu Hurairah. Abdullah bin Ibrahim said to us: I bear witness that I heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: I am the last of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s علیہم السلام and it is the last of the Masjids".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 694
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان تینوں مساجد میں جن کی فضیلت کی گواہی دی گئی ہے مسجد نبوی آخری مسجد ہے، یا انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
Takhrij · تخریج
من طریق عبداللہ بن إبراہیم بن قارظ عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٥١)، مسند احمد ٢/٢٥١، ٢٧٣، ومن طریق أبي عبداللہ (سلمان الأغر) عن أبي ہریرة قد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ١ (١١٩٠)، صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٦ (٣٢٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٥ (١٤٠٤)، موطا امام مالک/القبلة ٥ (٩)، مسند احمد ٢/٢٥٦، ٣٨٦، ٤٦٦، ٤٧٣، ٤٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٣١ (١٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٤)، وحدیث أبي سلمة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٠) (صحیح )
696Sunan An Nasai

مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت اور اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو حصہ میرے گھر ١ ؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Zaid (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The area between my house and my Minbar is one of the gardens of Paradise".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 695
Notes · وضاحت
١ ؎: گھر سے مراد حجرہ عائشہ ؓ ہے جس میں آپ کی قبر شریف ہے، طبرانی کی روایت میں ما بين المنبر وبيت عائشة ہے، اور بزار کی روایت (کشف الاستار ٢ /٥٦) میں ما بين قبري ومنبري ہے۔ ٢ ؎: اس کی تاویل میں کئی اقوال وارد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اتنی جگہ اٹھ کر جنت کی ایک کیا ری بن جائے گی، دوسرا قول یہ ہے جو شخص یہاں عبادت کرے گا جنت میں داخل ہوگا، اور جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری پائے گا، تیسرا قول یہ ہے کہ یہ حصہ جنت ہی سے آیا ہوا ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں حرف تشبیہ محذوف ہے ای کروض ۃ فی نزول الرحم ۃ والسعاد ۃ بما یحصل من ملازم ۃ حلق الذکر لا سیما فی عہدہ ﷺ یعنی رحمت و سعادت کے نازل ہونے میں روضہ کی طرح ہے، ذکر کے حلقات کی پابندی سے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ٥ (١١٩٥)، صحیح مسلم/الحج ٩٢ (١٣٩٠)، موطا امام مالک/القبلة ٥ (١١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٠)، مسند احمد ٤/٣٩، ٤٠، ٤١ (صحیح )
697Sunan An Nasai

مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت اور اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمِّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ قَوَائِمَ مِنْبَرِي هَذَا رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے اس منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں ۔

It was narrated from Umm Salamah (RA) that the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "The columns of this Minbar of mine will be in Paradise".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 696
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٥)، مسند احمد ٦/٢٨٩، ٢٩٢ (صحیح )
698Sunan An Nasai

اس مسجد کا تذکرہ جو کہ تقوی پر تعمیر کی گئی

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ مَسْجِدِي هَذَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ میری یہ مسجد ہے (یعنی مسجد نبوی) ۔

It was narrated from Ibn Abi Saeed Al-Khudri (RA) that his father said: "Two men argued about the Masjid which was founded on piety from the first day. [1] One man said that it was the Masjid of Quba, and the other said that it was the Masjid of the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said: It is this Masjid of mine". [1] At-Tawbah 9:108.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 697
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩٦ (١٣٩٨)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة ١٠ (٣٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ٤١١٨)، مسند احمد ٣/٨، ٨٩ (صحیح )
699Sunan An Nasai

مسجد قبا میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء (کبھی) سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل جاتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to come to Quba riding and walking". [1] Quba is about three miles to the south of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s Masjid. This area is named after in that district.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 698
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیحین کی روایت میں ہے کہ آپ ہر ہفتہ مسجد قباء آتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٩٧ (١٣٩٩)، موطا امام مالک/السفر ٢٣ (٧١)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٩)، مسند احمد ٢/٥، ٣٠، ٥٧، ٥٨، ٦٥ (صحیح )
700Sunan An Nasai

مسجد قبا میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: قال أَبِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے ۔

Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said: "My father said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever goes out to his Masjid - the Masjid of Quba and prays therein, that will be equivalent to Umrah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 699
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٧ (١٤١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٧)، مسند احمد ٣/٤٨٧ (صحیح )
701Sunan An Nasai

کون کونسی مساجد کی جانب سفر درست ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ثواب کی نیت سے) صرف تین مسجدوں کے لیے سفر کیا جائے: ایک مسجد الحرام، دوسری میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ، اور تیسری مسجد اقصی (بیت المقدس) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Mounts are not saddled for except to (travel to) three Masjids: Al-Masjid Al-Haram, this Masjid of mine, and Al-Masjid Al-Aqsa".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 700
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة ١ (١١٨٩)، صحیح مسلم/الحج ٩٥ (١٣٩٧)، سنن ابی داود/الحج ٩٨ (٢٠٣٣)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١٣١٣٠)، مسند احمد ٢/٢٣٤، ٢٣٨، ٢٧٨، ٥٠١، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٢ (صحیح )
702Sunan An Nasai

عیسائیوں کے گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ، وَأَمَرَنَا، فَقَالَ: اخْرُجُوا، فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا. قُلْنَا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ، فَقَالَ: مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا، فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ، قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ، قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ.

طلق بن علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں (جانے) کا حکم دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا (کلیسا) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی ؛ چناچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آگئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔

It was narrated that Talq bin Ali (RA) said: "We went out as a delegation to the Prophet ﷺ; we gave him our oath of allegiance and prayed with him. We told him that in our land there was a church that belonged to us. We asked him to give us the leftovers of his purification (Wudu water). So he called for water, performed Wudu and rinsed out his mouth, then he poured it into a vessel and said to us: Leave, and when you return to your land, demolish your church, and sprinkle this water on that place, and take it as a Masjid. We said: Our land is far away and it is very hot; the water is far away and it is very hot; the water will dry up. He said: Add more water to it, for that will only make it better. So we left and when we came to our land we demolished our church, then we sprinkled the water on that place and took it as a Masjid, and we called the Adhan in it. The monk was a man from Tayy, and when he heard the Adhan, he said: It is a true call. Then he headed toward one of the hills and we never saw him again".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 701
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٨) (صحیح )
703Sunan An Nasai

قبروں کو کھود کر اس جگہ مساجد تعمیر کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُرْضِ الْمَدِيِنَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَدِيفَهُ وَمَلَأٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خَرِبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَتْ وَبِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر ؓ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب ؓ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ ﷺ نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس ؓ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کردیئے گئے، صحابہ کرام ؓ کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام ؓ پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔

It was narrated th(RA) at Anas bin Malik (RA) (RA) : "When the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah, he alighted in the upper part of Al-Madinah among the tribe called Banu Amr bin Awf and he stayed with them for fourteen nights. Then he sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and they came with their swords by their sides. It is as if I can see the Messenger of Allah ﷺ on his she-camel with Abu Bakr (RA) riding behind him (on the same camel) and the chiefs of Banu An-Najjar around him, until he dismounted in the courtyard of Abu Ayyub (RA). The Prophet ﷺ used to offer the prayer wherever he was when the time for prayer came, and he would pray even in sheepfolds. Then he ordered that the Masjid be built. He sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and when they came, he said: O Banu An-Najjar, name me a price for this grove of yours. They said: By Allah, we will not ask for its price except from Allah". Anas (RA) said: "In (that grove) there were graves of idolators, ruins and date-palm trees. The Messenger of Allah ﷺ ordered that the graves of the idolators be dug up, the ruins be leveled and the date-palm trees be cut down. The trunks of the trees were arranged so as to form the walls facing the Qiblah. The stone pillars were built at the sides of its gate. They started to move the stones, reciting some lines of verse, and the Messenger of Allah ﷺ was with them when they were saying: O Allah! There is no good except the good of the Hereafter. So bestow victory on the Ansar and the Muhajirin".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 702
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٨ (٤٢٨)، فضائل المدینة ١ (١٨٦٨)، فضائل الأنصار ٤٦ (٣٩٣٢)، صحیح مسلم/المساجد ١ (٥٢٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢ (٤٥٣، ٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٣ (٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٩١)، مسند احمد ٣/١١٨، ١٢٣، ١٨٠، ٢١١، ٢١٢، ٢٤٤ (صحیح )
704Sunan An Nasai

قبور کا مساجد بنانا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، قَالَا: قال الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، قال وَهُوَ كَذَلِكَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ.

ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔

Ubaidullah bin Abdullah reported that Aishah and Ibn Abbas (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ was on his deathbed, he had a Khamisah over his face. When his temperature rose, he would uncover his face. When his temperature rose, he would uncover his face. While he was like that he said: May Allah curse the Jews and Christians, for they took the graves of their Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s as places of worship".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 703
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٥ (٤٣٥)، أحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٣)، المغازي ٨٣ (٤٤٤٢، ٤٤٤٣)، اللباس ١٩ (٥٨١٦)، والحدیث عند صحیح البخاری/الجنائز ٦١ (١٣٣٠)، ٩٥ (١٣٩٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣ (٥٣١)، مسند احمد ١/٢١٨ و ٦/٣٤، ٢٢٨، ٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٢، ١٦٣١٠)، ویأتی عند المؤلف سنن الدارمی/الصلاة ١٢٠ (١٤٤٣) (صحیح )
705Sunan An Nasai

قبور کا مساجد بنانا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا تِيكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ دونوں نے ایک کنیسہ (گرجا گھر) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that Umm Habibah and Umm Salamah (RA) mentioned a church that they had seen in Ethiopia, in which there were images. The Messenger of Allah ﷺ said: "Those people, if there was a righteous man among them, when he died they built a place of worship over his grave and made those images. They will be the most evil of creation before Allah on the Day of Resurrection".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 704
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٨ (٤٢٧)، ٥٤ (٤٣٤)، الجنائز ٧٠ (١٣٤١)، مناقب الأنصار ٣٧ (٣٨٧٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣ (٥٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٠٦)، مسند احمد ٦/٥١ (صحیح )
706Sunan An Nasai

مسجد میں حاضری کا اجر و ثواب

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حِينَ يَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When a man goes out of his house to his Masjid, one foot records a good deed and the other erases a bad deed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 705
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٧)، مسند احمد ٢/٣١٩، ٤٣١، ٤٧٨ (صحیح )
707Sunan An Nasai

خواتین کو مسجد میں داخلہ سے منع نہیں کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو وہ اسے نہ روکے ۔

It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the wife of any one of you asks for permission to go to the Masjid, do not stop her".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 706
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦٦ (٨٧٣)، النکاح ١١٦ (٥٢٣٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٠ (٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٣)، مسند احمد ٢/٧، ٩ (صحیح )
708Sunan An Nasai

مسجد میں داخلہ کس حالت میں ممنوع ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ: الثُّومِ، ثُمَّ قَالَ: الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے ۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever eats of this plant - the first time he said garlic then he said, garlic, onions and leeks [1] - let him not approach us in our Masjids, for the angels are offended by that which offends mankinds." [1] In Fath, Al-Bari, Ibn Hajar is of the opinion that it was Ibn Juraij who was talking, explaining that Ata - who reported it from Jabir - narrated it both ways.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 707
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٤)، الأطعمة ٤٩ (٥٤٥٢)، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩)، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ١٣ (١٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٧)، مسند احمد ٣/٣٨٠ (صحیح )