عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں: لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ١ ؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔
It was narrated from Madam bin Abi Talhah that Umar bin Al-Khattab (RA) said: "O people, you eat of two plants which I do not think are anything but bad, this onion and garlic. I have seen the Prophet of Allah ﷺ, if he noticed their smell coming from a man, ordering that he be taken out to Al-Baqi. Whoever eats them, let him cook them to death".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 708
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن کی بو ناگوار اور مکروہ ہے جب تک یہ کچے ہوں، یہ اس اعتبار سے خبیث ہیں کہ انہیں کھا کر مسجد میں جانا ممنوع ہے، البتہ پکنے کے بعد اس کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہوگا، اسی طرح مسجد میں جانے کا وقت نہ ہو تو اس وقت بھی ان کا کھانا جائز ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہوجاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چناچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے (خیمہ لگانے کا) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ ؓ نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب ؓ نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ ١ ؎، چناچہ آپ ﷺ نے (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا (اور اس کے بدلے) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ wanted to observe Itikaf, [2] he would pray Fajr then enter the place where he wanted to observe Itikaf. He wanted to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan, so he commanded that a Khiba (tent) be pitched for him. Then Hafsah (RA) ordered that a Khiba be pitched for her, and when Zainab saw her tent she ordered that a Khiba be pitched for her too. When the Messenger of Allah ﷺ saw that he said: Is it righteousness that you seek? And he did not observe Itikaf in Ramadan, and observed Itikaf for ten days in Shawwal (instead)". [1] Al-Khiba: "One of the house of the Bedouins made of Wabir (camel or goat fur) or wool, not of hair (from other pelts). And it would have two or three posts". (An-Nihayah) [2] Seclusion in the Masjid for the sake of devotion to Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 709
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ تم لوگوں نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یہ خیمے لگائے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوگئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ١ ؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کرسکیں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Sad was wounded on the day of Al-Khandaq [1] when a man of Quraish shot him in the medial arm vein. The Messenger of Allah ﷺ pitched a tent (Khaimah) for him in the Masjid so that he could visit him close at hand". [1] Al-Khandaq means the trench. This indicates the battle of the trench which took place during the fifth year after Hijrah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 710
Notes · وضاحت
١ ؎: اکحل ہاتھ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے عرق الحیا ۃ کہتے ہیں اگر وہ کٹ جائے تو خون رکتا نہیں سارا خون بہہ جاتا ہے، اور آدمی مرجاتا ہے۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع ؓ کو (گود میں) اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، (ان کی ماں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ ہیں) امامہ ایک (کمسن) بچی تھیں، آپ انہیں اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انہیں اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں پھر گود میں اٹھا لیتے، ١ ؎ یہاں تک کہ اسی طرح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی نماز پوری کی۔
It was narrated from Amr bin Sulaim Az-Zuraqi that he heard Abu Qatadah (RA) say: "While we were sitting in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ came out to us carrying Umamah bint Abi Al-As bin Ar-Rabi, whose mother was Zainab, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ. She was a little girl and he was carrying her. The Messenger of Allah ﷺ prayed with her on his shoulder, putting her down when he bowed and picking her up again when he stood up, until he completed his prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 711
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باجماعت نماز تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرض نماز رہی ہوگی کیونکہ جماعت سے عموماً فرض نماز ہی پڑھی جاتی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ فرض نماز میں بھی بوقت ضرورت ایسا کرنا جائز ہے، نبی اکرم ﷺ کا ایسا کرنا یا تو ضرورت کے تحت رہا ہوگا، یا بیان جواز کے لیے، کچھ لوگوں نے اسے منسوخ کہا ہے، اور کچھ نے اسے آپ کے خصائص میں سے شمار کیا ہے لیکن یہ دعوے ایسے ہیں جن پر کوئی دلیل نہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (گرفتار کر کے) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
It was narrated from Saeed bin Abi Saeed that he heard Abu Hurairah (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ sent some horsemen toward Najd, and they brought back a man from Banu Hanifah who was called Thumamah bin Uthal, the chief of the people of Al-Yamamah. Then he was tied to one of the pillars of the Masjid".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 712
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf during the Farewell Pilgrimage atop a camel, touching the Rukn [1] with a stick that was bent at the top. [1] The corner of the Kabah in which the Black Stone is situated.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 713
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade sitting in circles on Friday before Jumuah prayer, and buying and selling in the Masjid.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 714
Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ کے دن مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اور اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade reciting poetry in the Masjid.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 715
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد میں فحش اور مخرب اخلاق اشعار پڑھنا ممنوع ہے، رہے ایسے اشعار جو توحید اور اتباع سنت ﷺ وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩)، مسند احمد ٢/١٧٩، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة ٦٦ (برقم: ١٧٣)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦) (حسن )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر ؓ حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران ؓ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے (مسجد میں) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو (مجھ سے) یہ کہتے نہیں سنا کہ تم میری طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما!، تو ابوہریرہ ؓ نے کہا! ہاں (سنا ہے) ۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab (RA) said: "Umar passed by Hassan bin Thabit while he was reciting poetry in the Masjid, and glared at him. He said: I recited poetry when there was someone better than you in the Masjid. Then he turned to Abu Hurairah (RA) and said: Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ when he said: "Answer back on my behalf. O Allah, help him with the Holy Spirit"! He said: Yes, by Allah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 716
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کرے تو نہ پائے ۔
It was narrated that Jabir (RA) said: "A man came making announcement of a lost camel in the Masjid, and the Messenger of Allah ﷺ said: May you never find it"!
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 717
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے جابر ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں کچھ تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ان کی پیکان پکڑ کر رکھو ، تو عمرو نے کہا: جی ہاں (سنا ہے) ۔
Sufyan said: "I said to Amr: Did you hear Jabir say: "A man passed through the Masjid carrying arrows, and the Messenger of Allah ﷺ said to him: Hold then by the blades? He said: Yes".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 718
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٦ (٤٥١)، الفتن ٧ (٧٠٧٣)، صحیح مسلم/البر والصلة والآداب ٣٤ (٢٦١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأدب ٥١ (٣٧٧٧، ٣٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ٢٥٢٧)، مسند احمد ٣/٣٠٨، ٣٥٠، سنن الدارمی/المقدمة ٥٣ (٦٥٧)، الصلاة ١١٩ (١٤٤٢) (صحیح )
اسود کہتے ہیں کہ میں اور علقمہ دونوں عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، تو آپ نے کہا: اٹھو نماز پڑھو، ہم چلے تاکہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوں، تو آپ نے ہم میں سے ایک کو اپنی داہنی طرف، اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف کرلیا، پھر بغیر کسی اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرلیتے، اور دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے بیچ کرلیتے ١ ؎، اور (نماز کے بعد) کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
It was narrated that Al-Aswad said: "Alqamah and I entered upon Abdullah bin Masud (RA) and he said to us: Have these people prayed? We said: No. He said: Get up and pray. So we went to stand behind him, and he put one of us on his right and the other on his left, and he prayed with no Adhan and no Iqamah. When he bowed he interlaced his fingers and placed his hands between his knees, and he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing that".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 719
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنے کو تطبیق کہتے ہیں، اور یہ بالاتفاق منسوخ ہے، ابن مسعود ؓ کو اس کی منسوخی کا علم نہیں ہوسکا تھا، یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ جب یہ منسوخ ہے تو مصنف کا اس کے جواز پر استدلال کرنا کیسے درست ہے؟ کیونکہ رکوع کی حالت میں ایسا کرنا منسوخ ہے، واضح رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ مسجد میں ایسا کرنا بھی جائز نہیں، نیز حدیث میں ممانعت ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی نہیں ہے، بلکہ رکوع کی حالت میں اس کیفیت میں ہاتھ لٹکانے کی ممانعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٤)، مسند احمد ١/٤١٤، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٠٣٠ (صحیح) (یہ حدیث منسوخ ہے )
عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا ١ ؎۔
It was narrated from Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that he saw the Messenger of Allah ﷺ lying on his back in the Masjid, placing one leg on top of the other.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 721
Notes · وضاحت
١ ؎: زمین پر پیٹھ رکھ کر گُدّی کے بل لیٹنے کو استلقاء کہتے ہیں، اس روایت سے استلقاء کا جواز ثابت ہوتا ہے، ایک روایت میں اس کی ممانعت آئی ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جواز والی روایت دونوں پیر پھیلا کر اس طرح سونے پر محمول ہوگی کہ شرمگاہ کے کھلنے کا اندیشہ نہ ہو، اور نہی (ممانعت) والی روایت کو انہیں کھڑا کر کے سونے پر محمول ہوگی جس میں شرمگاہ کے کھل جانے کا خدشہ رہتا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب وہ نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے تو مسجد نبوی میں سوتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar (RA), that when he was young and single, with no family, at the time of the Messenger of Allah ﷺ, he used to sleep in the Masjid of the Prophet ﷺ.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 722
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٨ (٤٤٠)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨١٧٣)، مسند احمد ٢/١٢٠، سنن الدارمی/الصلاة ١١٧ (١٤٤٠) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ اسے مٹی ڈال کر دبا دینا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Spitting in the Masjid is a sin, and its expiation is to bury it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 723
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مسجد کچی ہو، اس میں مٹی یا ریت وغیرہ موجود ہو تو تھوک کر مٹی کے نیچے چھپا دے، اور بعض نے کہا ہے کہ دفن کرنے سے مراد اسے صاف کر کے مسجد سے باہر پھینک دینا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ saw some sputum on the Qiblah wall. He scrapped it off then he turned to the people and said: "When any one of you is praying, let him not spit in front of him, for Allah is in front of him when he prays".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 724
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٦)، الأذان ٩٤ (٧٥٣)، العمل في الصلاة ١٢ (١٢١٣)، الأدب ٧٥ (٦١١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨٣٦٦)، موطا امام مالک/القبلة ٣ (٤)، مسند احمد ٢/٣٢، ٦٦، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٧) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: (جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw some spittle in the Qiblah of the Masjid. He scratched it off with a pebble and forbade a man to spit to his front or to his right. He said: "Let him spit to his left or beneath his left foot".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 725
طارق بن عبداللہ محاربی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو ، آپ ﷺ نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔
It was narrated that Tariq bin Abdullah Al-Muharibi said: When you are praying, do not spit to the front or to your right. Spit behind you or to your left if there is no one there, otherwise do this. And he spat beneath his foot and rubbed it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 726
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢ (٤٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٤، الجمعة ٤٩ (٥٧١) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٦١ (١٠٢١) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٤٩٨٧)، مسند احمد ٦/٣٩٦ (صحیح )