Sunan An Nasai 711

مساجد کے متعلق کتاب

711Sunan An Nasai

مسجد کے اندر خیمہ لگانے اور نصب کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الْأَكْحَلِفَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوگئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ١ ؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کرسکیں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "Sad was wounded on the day of Al-Khandaq [1] when a man of Quraish shot him in the medial arm vein. The Messenger of Allah ﷺ pitched a tent (Khaimah) for him in the Masjid so that he could visit him close at hand". [1] Al-Khandaq means the trench. This indicates the battle of the trench which took place during the fifth year after Hijrah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 710
Notes · وضاحت
١ ؎: اکحل ہاتھ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے عرق الحیا ۃ کہتے ہیں اگر وہ کٹ جائے تو خون رکتا نہیں سارا خون بہہ جاتا ہے، اور آدمی مرجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٧ (٤٦٣) مطولاً، المغازي ٣٠ (٤١٢٢) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد ٢٢ (١٧٦٩)، سنن ابی داود/الجنائز ٨ (٣١٠١)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٧٨)، مسند احمد ٦/٥٦، ١٣١، ٢٨٠ (صحیح )