انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کردیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ saw some sputum in the Qiblah of the Masjid, and he became so angry that his face turned red. Then a woman from the Ansar went and scratched off, and put some perfume in its place. The Messenger of Allah ﷺ said: How good this is".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 728
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٠ (٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٩ (٤١٧)، مسند احمد ٣/١٨٨، ١٩٩، ٢٠٠ (صحیح )
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: اللہم افتح لي أبواب رحمتک اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: اللہم إني أسألک من فضلک اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
It was narrated that Abdul-Malik bin Saeed said: "I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: The Messenger of Allah ﷺ said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni asaluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 729
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
It was narrated from Abu Qatadah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When any one of you enters the Masjid, let him pray two Rakahs before he sits down".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 730
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک ؓ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ ﷺ نے ایسا کرلیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کرلیا، اور ان سے بیعت کرلی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کردیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چناچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ١ ؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتور اور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چناچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
Abdullah bin Kab (RA) said: "I heard Kab bin Malik telling the story of when he stayed behind from going out on the campaign of Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ. He said: The Messenger of Allah ﷺ came back in the morning, and when he came back from a journey he would go to the Masjid first and pray two Rakahs there, then he would sit to (meet with) the people. When he did that, those who had stayed behind came to him and started giving their excuses, swearing by Allah. There were eighty-odd men, and the Messenger of Allah ﷺ accepted what they declared and accepted their oaths of allegiance; he prayed for forgiveness for them and left whatever was in their hearts to Allah. Then when I came and greeted him, he smiled as one who is angry, then he said: Come here. So I came and sat in front of him, [1] and he said: What kept you behind? Did you not buy a mount? I said: O Messenger of Allah, if I were to sit before anyone other than you of those who hold high positions in this world, I would find a way to avoid his anger. I am an eloquent man but, by Allah, I know that if I were to tell you a lie today to make you pleased with me, Allah would soon make you angry with me, but if I tell you the truth, it will make you angry with me, but I will still have the hope that Allah may forgive me. I have never been in a better position, physically or financially, than the time when I stayed behind and did not join you. The Messenger of Allah ﷺ said: This man has spoken the truth. Go away until Allah decides concerning you. So I got up and went away." This is an abridged version of narration. [1] It is this which the author cited the narration for. While the absence of the mention of a thing - in this case prayer - is not a proof that it does not exist.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 731
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے اسی سے باب پر استدلال کیا ہے، یعنی: کعب ؓ بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھ گئے، پھر اٹھ کر چلے گئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہیں دیا، لیکن یہ بعض حالات کے لیے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٩٨ (٣٠٨٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٢ (٧١٦)، سنن ابی داود/الجہاد ١٧٣ (٢٧٧٣)، ١٧٨ (٢٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر ١٠ (٣١٠٢)، مسند احمد ٣/٤٥٥، ٤٥٧، ٤٥٩ و ٦/٣٨٨ (کعب بن مالک ؓ کی حدیث کی مفصل تخریج کے لیے حدیث رقم: (٣٤٥١) کی تخریج دیکھئے، یہاں باب کی مناسبت سے متن اور تخریج میں اختصار سے کام لیا گیا ہے) (صحیح )
ابوسعید بن معلی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔
It was narrated that Abu Saeed bin Al-Mualla said: "We used to go to the marketplace in the morning at the time of the Messenger of Allah ﷺ, and we would pass through the Masjid and pray there".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 732
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٨) (ضعیف) (سند میں ” مروان “ ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The angels send Salah upon any one of you so long as he is in the place where he prays, and so long as he does not invalidate his ablution, (saying): O Allah, forgive him, O Allah, have mercy on him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 733
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٧٦)، الصلاة ٦١ (٤٤٥)، ٨٧ (٤٧٧)، الأذان ٣٠ (٦٤٧)، ٣٦ (٦٥٩)، البیوع ٤٩ (٢١١٩)، بدء الخلق ٧ (٣٢٢٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٠ (٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٦)، موطا امام مالک/السفر ١٨ (٥٤)، مسند احمد ٢/٢٦٦، ٢٨٩، ٣١٢، ٣٩٤، ٤١٥، ٤٢١، ٤٨٦، ٥٠٢ (صحیح )
عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ forbade praying in the camel pens. [1] Atan: Kneeling places, or, where they kneel to drink water.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 735
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٢ (٧٦٩) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٩٦٥١)، مسند احمد ٤/٨٥، ٨٦، و ٥/٥٤، ٥٥، ٥٦ (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پوری روئے زمین ١ ؎ میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنادی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The earth has been made for me a place of prostration and a means of purification, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 736
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس عموم میں اونٹوں کے باڑے بھی شامل ہیں، مگر پھر بھی اس عموم سے دیگر دلائل کی بنیاد پر زمین کے بعض حصے مستثنیٰ ہیں مثلاً گندی اور ناپاک جگہیں۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنالیں ١ ؎، چناچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Umm Sulaim (RA) asked the Messenger of Allah ﷺ to come to her and pray in her house so that she could take (the place where he prayed) as a Musalla (prayer place). So he came to her and she went and got a reed mat and sprinkled it with water, and he prayed on it, and they prayed with him.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 737
Notes · وضاحت
١ ؎: ام سلیم ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی کھانے کی دعوت کی تھی اس موقع پر آپ سے گھر میں مصلیٰ بنانے کی جگہ پر نماز ادا کرنے کی فرمائش کی تو آپ نے اسے قبول فرما لیا، یہ ایک اتفاقیہ بات تھی، مصلیٰ بنانے کی کوئی تقریب نہ تھی، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:( ٨٠٢ کے حوالہ جات)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٢٠) (صحیح) (یہ حدیث آگے (٨٠٢) پر آرہی ہے )
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی ؓ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل ؓ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول ﷺ پہلے پہل اس پر بیٹھے (ہوا یوں تھا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت (سہل ؓ نے اس کا نام لیا تھا) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چناچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیج دیا گیا، آپ ﷺ کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہوگئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کرسکو، اور (مجھ سے) میری نماز سیکھ سکو ۔
Abu Hazim bin Dinar narrated that some men came to Sahl (RA) bin Sad As-Saidi. They were wondering what kind of wood the Minbar was made of, so they asked him about that. He said: "By Allah, I know what it is made of. I saw it the first day it was set up and the first day the Messenger of Allah ﷺ sat on it. The Messenger of Allah ﷺ sent word to so-and-so" - a woman whose name Sahl mentioned - "telling her: Tell your carpenter slave to make me something of wood that I can sit on when I speak to the people. So she told him, and he made it from tamarisk wood from Al-Ghabah (a place near Al-Madinah). Then he brought it and it was sent to the Messenger of Allah ﷺ, who commanded that it be set up here. Then I saw the Messenger of Allah ﷺ ascend it and praying on it, and saying the Takbir while he was on top of it, then he bowed when he was on top of it, then he came down backward and prostrated at the base of the Minbar, then he went back. When he had finished he turned to face the people and said: O people, I only did this so that you can follow me in prayer and learn how I pray".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 739
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ سوار ہو کر خیبر کی طرف جا رہے تھے، اور قبلہ آپ کے پیچھے تھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے کہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن یحییٰ کی ان کے قول يصلي على حمار میں متابعت کی ہو ١ ؎ اور یحییٰ بن سعید کی حدیث جو انس ؓ سے مروی ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ موقوف ہے ٢ ؎ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he saw the Messenger of Allah ﷺ praying on a donkey while he was riding, praying toward Khaibar with the Qiblah behind him. Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: We do not know of anyone who reported anything to support what Amr bin Yahya said about praying on a donkey. As for the Hadith of Yahya bin Saeed from Anas, what is correct is that it is Mawquf. [1] And Allah knows best. [1] That is a saying or action of a Companion of the Prophet ﷺ.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 741
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کا یہ قول ابن عمر ؓ کی پچھلی حدیث سے متعلق ہے، اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمرو بن یحییٰ کے سوا دیگر رواۃ نے حمار کی جگہ مطلق سواری (راحلتہ ) کا ذکر کیا ہے، اور بعض روایات میں اونٹ کی صراحت ہے، یعنی آپ ﷺ اس وقت اونٹ پر سوار تھے نہ کہ گدھے پر، لیکن نووی نے دونوں روایتوں کو صحیح قرار دیا ہے کہ کبھی آپ اونٹ پر سوار ہوئے اور کبھی گدھے پر، اور اس سے اصل مسئلے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سواری کی حالت میں آپ ﷺ نے وتر یا نفل پڑھی ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم میں تو اس کی صراحت موجود ہے کہ لوگوں نے انس ؓ کو گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھتے دیکھا تو سوال کیا، اس پر انہوں نے صراحتاً کہا: اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا تو ایسا نہیں کرتا اس لیے ان کی روایت کو محض ان کا فعل قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ١٠ (١١٠٠)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٧ (٢٦) (حسن صحیح )