زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 48 · 339 hadiths · Page 1 of 17

5043Sunan An Nasai

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دس چیزیں فطرت ٢ ؎ (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں) : مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا ۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ کلی کرنا ہو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ten things are part of the Fitrah: Trimming the mustache, trimming the nails, washing the joints, letting the beard grow, using the Siwak, rinsing the nose, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and washing with water (after relieving oneself)." Musab bin Shaibah said: "I have forgotten the tenth, unless it was rinsing the mouth.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5040
Notes · وضاحت
١ ؎: عنوان کتاب: کتاب الزین ۃ من السنن ہے، یعنی یہ احادیث سنن کبریٰ سے ماخوذ ہیں، جن کے نمبرات کا حوالہ ہم نے ہر حدیث کے آخر میں دے دیا ہے، اس کے بعد دوسرا عنوان: کتاب الزین ۃ من المجتبیٰ ہے، یعنی اب یہاں سے منتخب ابواب ہوں گے جو ظاہر ہے کہ سنن کبریٰ سے ماخوذ ہوں گے یا مؤلف کے جدید اضافے ہوں گے، اس تنبیہ کی ضرورت اس واسطے ہوئی کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے نسخے میں عنوان کتاب صحیح آیا ہے، اور مولانا نے اس پر حاشیہ لکھ کر یہ واضح کردیا ہے کہ اس کتاب میں یہ ابواب سنن کبریٰ سے منقول ہیں، لیکن مولانا وحیدالزماں کے مترجم نسخے میں کتاب الزین ۃ : باب من السنن الفطر ۃ مطبوع ہے، اور حدیث کے ترجمہ میں آیا ہے: دس باتیں پیدائشی سنت ہیں (یعنی ہمیشہ سے چلی آتی ہیں، سب نبیوں نے اس کا حکم کیا) ( ٣ /٤٥٥) اور اس کا ترجمہ کتاب آرائش کے بیان میں، پھر نیچے پیدائشی سنتیں لکھا ہے، اور مشہور حسن کے نسخے میں کتاب الزین ۃ من السنن الفطر ۃ مطبوع ہے، جب کہ من السنن کا تعلق کتاب الزین ۃ سے ہے۔ ٢ ؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول: فبهداهم اقتده (سورة الأنعام: 90) میں دیا ہے، بعض علماء اس کی تفسیر فطرت ہی سے کرتے ہیں، یعنی یہ سب کام انسانی فطرت کے ہیں جس پر انسان کی خلقت ہوئی ہے، بعض علماء دونوں باتوں کو ملا کر یوں تفسیر کرتے ہیں کہ یہ سب حقیقی انسانی فطرت کے کام ہیں اسی لیے ان کو انبیاء (علیہم السلام) نے اپنایا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٦١)، سنن ابی داود/الطھارة ٢٩ (٥٣)، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٨، ١٨٨٥٠)، مسند احمد (١٣٧٦) (حسن) (اس کے راوی ” مصعب “ ضعیف ہیں لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے )
5044Sunan An Nasai

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقًا يَذْكُرُ: عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ: السِّوَاكَ، وَقَصَّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ، وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ.

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں فطرت (انبیاء کی سنتیں) ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا۔

Al-Mutamir narrated that his father said: "I heard Talq mentioning ten things that have to do with the Fitrah: Using the Siwak, trimming the mustache, clipping the nails, washing the joints, shaving the pubes, rinsing the nose, and I am not sure about rinsing the mouth.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5041
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
5045Sunan An Nasai

پیدائشی سنتوں سے متعلق

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Talq bin Habib said: "Ten things are from the Sunnah: Using the Siwak, trimming the mustache, rinsing the mouth, rinsing the nose, letting the beard grow, trimming the nails, plucking the armpit hairs, circumcision, shaving the pubes and washing ones backside.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5042
Notes · وضاحت
١ ؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
5046Sunan An Nasai

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أخبرنا حميد بن مسعدة عن بشر قال حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلمخمس من الفطرة الختان وحلق العانة ونتف الضبع وتقليم الظفر وتقصير الشارب. وقفه مالك .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن اور مونچھیں کاٹنا ۔ مالک نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Five things are of the Fitrah: Circumcision, shaving the pubes, plucking the armpit hair, clipping the nails and trimming the mustache.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5043
Notes · وضاحت
١ ؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے یہاں حصر مراد نہیں ہے، خود پچھلی حدیث میں دس کا تذکرہ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ پانچ، یا دس چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں جن کا تذکرہ کئی روایات میں آیا ہے (نیز دیکھئیے فتح الباری کتاب اللباس باب ٦٣ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٨) (صحیح )
5047Sunan An Nasai

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَالْخِتَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ناخن کترنا، مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "Five things are of the Fitrah: Clipping the nails, trimming the mustache, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and circumcision." (Sahih Mawquf)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5044
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٠١٣) (صحیح )
5048Sunan An Nasai

مونچھیں کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى.

عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔

It was narrated from Ibn Umar: That the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Trim the mustache and let the beard grow.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5045
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٢٩٧)، مسند احمد (٢/٥٢) (صحیح )
5049Sunan An Nasai

مونچھیں کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کترو ۔

Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Let the beard grow and trim the mustache.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5046
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5050Sunan An Nasai

مونچھیں کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

It was narrated that Zaid bin Al-Arqam said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever does not take from his mustache, he is not one of us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5047
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣ (صحیح )
5051Sunan An Nasai

سر منڈانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضًا فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَال: احْلِقُوهُ كُلَّهُ، أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو ۔

It was narrated from Ibn Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a boy, part of whose head had been shaven and part had been left. He forbade that and said: "Shave all of it, or leave all of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5048
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠)، سنن ابی داود/الترجل ١٤ (٤١٩٥)، (تحفة الأشراف: ٧٥٢٥)، مسند احمد ٢/٨٨) (صحیح )
5052Sunan An Nasai

عورت کو سر منڈانے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Ali: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade women to shave their heads.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5049
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٧٥ (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٥)، ١٨٦١٧) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے )
5053Sunan An Nasai

قزع (سر کے کچھ بال مونڈنا اور کچھ چھوڑنا) کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَهَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، عَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے قزع (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, has forbidden me from Al-Qaza (to shave part of the head and leave part).

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5050
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٢(٥٩٢١)، صحیح مسلم/اللباس ٣١(٢١٢٠)، سنن ابی داود/الترجل ١٤(٤١٩٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٨(٣٦٣٧)، مسند احمد (٢/٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤)، ویأتي عند المؤلف بأرقام ٥٢٣٠- ٥٢٣٣ (منکر) (اس کے راوی ” عبدالرحمن “ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کے بعد کی حدیث صحیح ہے )
5054Sunan An Nasai

قزع (سر کے کچھ بال مونڈنا اور کچھ چھوڑنا) کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Qaza (to shave part of the head and leave part).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5051
Notes · وضاحت
١ ؎: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث باب ذکر النہی عن أن یحلق بعض شعر الصبي و یترک بعضہ کے ضمن میں نمبر ٥٢٣٢ ، ٥٢٣٣ کے تحت ذکر ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں عبیداللہ اور نافع کے درمیان عمر بن نافع کا ذکر ہے، جب کہ سفیان کی اس روایت میں ایسا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٩٠١) (صحیح )
5055Sunan An Nasai

سر کے بال کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخُو قَبِيصَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: لَمْ أَعْنِكَ، وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میرے سر پر (لمبے) بال تھے، آپ نے فرمایا: نحوست ہے ، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں، چناچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تم سے نہیں کہا تھا، لیکن یہ بہتر ہے ۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I had hair. He said: This is bad, and I thought he meant me, so I cut my hair then I came to him. He said to me: I didnt mean you, but this is better.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5052
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں الأخذ من الشعر ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١١ (٤١٩٠)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٧ (٣٦٣٦)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٢)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٠٦٩) (صحیح الإسناد )
5056Sunan An Nasai

سر کے بال کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرًا رَجْلًا، لَيْسَ بِالْجَعْدِ، وَلَا بِالسَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے بال درمیانے قسم کے تھے، نہ بہت گھنگرالے تھے، نہ بہت سیدھے، کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک ہوتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The hair of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was wavy, neither curly nor straight, and (hung down) between his ears and his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5053
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٨ (٥٩٠٥، ٥٩٠٦)، صحیح مسلم/فضائل ٢٦ (٢٣٣٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٦)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٤)، مسند احمد (٣/ ١٣٥، ٢٠٣) (صحیح )
5057Sunan An Nasai

سر کے بال کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًاصَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ.

حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں ابوہریرہ ؓ کی طرح چار سال رہا تھا، اس نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman Al-Himyari said: "I met a man who accompanied the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) as Abu Hurairah accompanied him for four years, who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from combing our hair everyday.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5054
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، ناسخین کتاب کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٩ (صحیح )
5058Sunan An Nasai

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (بالوں میں) کنگھی کرنے سے منع فرمایا، مگر ایک دن چھوڑ کر۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade combing ones hair, except every other day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5055
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١ (٤١٥٩)، سنن الترمذی/اللباس ٢٢ (١٧٥٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٠، ١٨٥٦٢، ١٩٣٠٦) مسند احمد (٤/٨٦) (صحیح )
5059Sunan An Nasai

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا.

حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر۔

It was narrated from Al-Hasan that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade coming ones hair except every other day.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5056
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، وہ بھی حسن بصری کی جو مدلس بھی ہیں، لیکن پچھلی روایت متصل مرفوع ہے )
5060Sunan An Nasai

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، قَالَا: التَّرَجُّلُ غِبٌّ.

حسن بصری اور محمد بن سیرین کہتے ہیں: (بالوں میں) کنگھی ایک ایک دن چھوڑ کر کرنا چاہیئے۔

It was narrated that Al-Hasan and Muhammad said: "Combing ones hair (should be done) every other day.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5057
Takhrij · تخریج
انظر للمرفوع قبلہ (صحیح )
5061Sunan An Nasai

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌمِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِلًا بِمِصْرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ، قَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ ؟ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنِ الْإِرْفَاهِ، قُلْنَا: وَمَا الْإِرْفَاهُ، قَالَ: التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں؟ وہ بولے: نبی اکرم ﷺ ہمیں ارفاہ سے منع فرماتے تھے، ہم نے کہا: ارفاہ کیا ہے؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا۔

It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said: "One of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was a governor in Egypt, and one of his companions came to him and found him with unkempt, wild hair. He said: How come I see you with wild hair when you are a governor? He said: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from Al-Irfah, and we said: What is Al-Irfah? He said: To comb your hair every day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5058
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٤٧، ١٥٦١١) ویأتی عندہ برقم: ٥٢٤١ (صحیح )
5062Sunan An Nasai

دائیں جانب سے پہلے کنگھی کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ، وَيُعْطِي بِيَمِينِهِ، وَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (کاموں کو) دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے (کوئی چیز) لیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، دیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، نیز آپ ﷺ ہر کام میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا پسند فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to like to start in the right. He would accept with his right hand and give with his right hand, and he liked to start on the right in all his affairs.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5059
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٦٠٠٦) (صحیح )