ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دس چیزیں فطرت ٢ ؎ (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں) : مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا ۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ کلی کرنا ہو ۔
It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ten things are part of the Fitrah: Trimming the mustache, trimming the nails, washing the joints, letting the beard grow, using the Siwak, rinsing the nose, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and washing with water (after relieving oneself)." Musab bin Shaibah said: "I have forgotten the tenth, unless it was rinsing the mouth.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5040
Notes · وضاحت
١ ؎: عنوان کتاب: کتاب الزین ۃ من السنن ہے، یعنی یہ احادیث سنن کبریٰ سے ماخوذ ہیں، جن کے نمبرات کا حوالہ ہم نے ہر حدیث کے آخر میں دے دیا ہے، اس کے بعد دوسرا عنوان: کتاب الزین ۃ من المجتبیٰ ہے، یعنی اب یہاں سے منتخب ابواب ہوں گے جو ظاہر ہے کہ سنن کبریٰ سے ماخوذ ہوں گے یا مؤلف کے جدید اضافے ہوں گے، اس تنبیہ کی ضرورت اس واسطے ہوئی کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے نسخے میں عنوان کتاب صحیح آیا ہے، اور مولانا نے اس پر حاشیہ لکھ کر یہ واضح کردیا ہے کہ اس کتاب میں یہ ابواب سنن کبریٰ سے منقول ہیں، لیکن مولانا وحیدالزماں کے مترجم نسخے میں کتاب الزین ۃ : باب من السنن الفطر ۃ مطبوع ہے، اور حدیث کے ترجمہ میں آیا ہے: دس باتیں پیدائشی سنت ہیں (یعنی ہمیشہ سے چلی آتی ہیں، سب نبیوں نے اس کا حکم کیا) ( ٣ /٤٥٥) اور اس کا ترجمہ کتاب آرائش کے بیان میں، پھر نیچے پیدائشی سنتیں لکھا ہے، اور مشہور حسن کے نسخے میں کتاب الزین ۃ من السنن الفطر ۃ مطبوع ہے، جب کہ من السنن کا تعلق کتاب الزین ۃ سے ہے۔ ٢ ؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول: فبهداهم اقتده (سورة الأنعام: 90) میں دیا ہے، بعض علماء اس کی تفسیر فطرت ہی سے کرتے ہیں، یعنی یہ سب کام انسانی فطرت کے ہیں جس پر انسان کی خلقت ہوئی ہے، بعض علماء دونوں باتوں کو ملا کر یوں تفسیر کرتے ہیں کہ یہ سب حقیقی انسانی فطرت کے کام ہیں اسی لیے ان کو انبیاء (علیہم السلام) نے اپنایا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٦١)، سنن ابی داود/الطھارة ٢٩ (٥٣)، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٨، ١٨٨٥٠)، مسند احمد (١٣٧٦) (حسن) (اس کے راوی ” مصعب “ ضعیف ہیں لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے )
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں فطرت (انبیاء کی سنتیں) ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا۔
Al-Mutamir narrated that his father said: "I heard Talq mentioning ten things that have to do with the Fitrah: Using the Siwak, trimming the mustache, clipping the nails, washing the joints, shaving the pubes, rinsing the nose, and I am not sure about rinsing the mouth.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5041
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Talq bin Habib said: "Ten things are from the Sunnah: Using the Siwak, trimming the mustache, rinsing the mouth, rinsing the nose, letting the beard grow, trimming the nails, plucking the armpit hairs, circumcision, shaving the pubes and washing ones backside.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5042
Notes · وضاحت
١ ؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
أخبرنا حميد بن مسعدة عن بشر قال حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلمخمس من الفطرة الختان وحلق العانة ونتف الضبع وتقليم الظفر وتقصير الشارب. وقفه مالك .
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن اور مونچھیں کاٹنا ۔ مالک نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Five things are of the Fitrah: Circumcision, shaving the pubes, plucking the armpit hair, clipping the nails and trimming the mustache.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5043
Notes · وضاحت
١ ؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے یہاں حصر مراد نہیں ہے، خود پچھلی حدیث میں دس کا تذکرہ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ پانچ، یا دس چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں جن کا تذکرہ کئی روایات میں آیا ہے (نیز دیکھئیے فتح الباری کتاب اللباس باب ٦٣ )۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ناخن کترنا، مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "Five things are of the Fitrah: Clipping the nails, trimming the mustache, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and circumcision." (Sahih Mawquf)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5044
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated that Zaid bin Al-Arqam said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever does not take from his mustache, he is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5047
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو ۔
It was narrated from Ibn Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a boy, part of whose head had been shaven and part had been left. He forbade that and said: "Shave all of it, or leave all of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5048
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے قزع (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, has forbidden me from Al-Qaza (to shave part of the head and leave part).
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5050
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٢(٥٩٢١)، صحیح مسلم/اللباس ٣١(٢١٢٠)، سنن ابی داود/الترجل ١٤(٤١٩٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٨(٣٦٣٧)، مسند احمد (٢/٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤)، ویأتي عند المؤلف بأرقام ٥٢٣٠- ٥٢٣٣ (منکر) (اس کے راوی ” عبدالرحمن “ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کے بعد کی حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Qaza (to shave part of the head and leave part).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5051
Notes · وضاحت
١ ؎: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث باب ذکر النہی عن أن یحلق بعض شعر الصبي و یترک بعضہ کے ضمن میں نمبر ٥٢٣٢ ، ٥٢٣٣ کے تحت ذکر ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں عبیداللہ اور نافع کے درمیان عمر بن نافع کا ذکر ہے، جب کہ سفیان کی اس روایت میں ایسا نہیں ہے۔
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میرے سر پر (لمبے) بال تھے، آپ نے فرمایا: نحوست ہے ، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں، چناچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تم سے نہیں کہا تھا، لیکن یہ بہتر ہے ۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I had hair. He said: This is bad, and I thought he meant me, so I cut my hair then I came to him. He said to me: I didnt mean you, but this is better.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5052
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں الأخذ من الشعر ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے بال درمیانے قسم کے تھے، نہ بہت گھنگرالے تھے، نہ بہت سیدھے، کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک ہوتے تھے۔
It was narrated that Anas said: "The hair of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was wavy, neither curly nor straight, and (hung down) between his ears and his shoulders.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5053
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں ابوہریرہ ؓ کی طرح چار سال رہا تھا، اس نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman Al-Himyari said: "I met a man who accompanied the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) as Abu Hurairah accompanied him for four years, who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from combing our hair everyday.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5054
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، ناسخین کتاب کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے۔
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں؟ وہ بولے: نبی اکرم ﷺ ہمیں ارفاہ سے منع فرماتے تھے، ہم نے کہا: ارفاہ کیا ہے؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا۔
It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said: "One of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was a governor in Egypt, and one of his companions came to him and found him with unkempt, wild hair. He said: How come I see you with wild hair when you are a governor? He said: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from Al-Irfah, and we said: What is Al-Irfah? He said: To comb your hair every day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5058
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (کاموں کو) دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے (کوئی چیز) لیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، دیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، نیز آپ ﷺ ہر کام میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا پسند فرماتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to like to start in the right. He would accept with his right hand and give with his right hand, and he liked to start on the right in all his affairs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5059