زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 48 · 339 hadiths · Page 2 of 17

5063Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُمَّتُهُ تَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو لال جوڑے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے مونڈھوں تک تھے ١ ؎۔

It was narrated that Al-Bara said: "I have never seen anyone who looked more handsome in a red Hullah than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), with his long hair that came down to his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5060
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے سر کے بال تین طرح تھے: آدھے کانوں تک، پورے کانوں تک، اور کندھے تک، تینوں صورتیں مختلف احوال میں ہوتی تھیں، ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥١)، اللباس ٣٥ (٥٨٤٨)، ٦٨(٥٩٠١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٢)، مسند احمد (٤/٢٩٥، ٣٠٣) (صحیح )
5064Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال کان کے آدھے حصہ تک ہوتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The hair of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came halfway down his ears.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5061
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٩ (٤١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٤٦٩)، مسند احمد (٣/١١٣، ١٦٥) (صحیح )
5065Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَرَأَيْتُ لَهُ لِمَّةً تَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے لال جوڑے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی آدمی کو نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے بال آپ کے مونڈھوں کے قریب تھے۔

Al-Bara said: "I have never seen any man more handsome in a red Hullah than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." He said: "And I saw his long hair, coming almost to his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5062
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٠٣) (صحیح )
5066Sunan An Nasai

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ ؟، لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَصَاحِبُ ذُؤَابَتَيْنِ، يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کس کی قرأت کے مطابق پڑھنے کے لیے کہتے ہو؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ستر سے زائد سورتیں پڑھیں، اس وقت زید (زید بن ثابت) کی دو چوٹیاں تھیں، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ١ ؎۔

Abdullah bin Masud said: "According to whose recitation do you want me to recite? Because I recited seventy-odd Surahs to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when Zaid had two braids, and was playing with the other boys.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5063
Notes · وضاحت
١ ؎: لمبے بال کو ذوابہ کہتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی طرح بندھی ہوئی چوٹی کو، ابن مسعود ؓ کے اس اثر نیز اگلی حدیث سے سر کے اتنے بڑے بالوں کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان دونوں (نبی اکرم ﷺ و ابن مسعود) نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن آپ ﷺ نے لمبے بالوں کی بجائے انہیں چھوٹے کرنے کو زیادہ پسند کیا، جیسا کہ حدیث نمبر ٥٠٦٩ میں صراحت ہے (نیز ملاحظہ ہو: فتح الباری: کتاب اللباس، باب الذوائب)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٥٩٢) (صحیح) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ اور ” اعمش “ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، مگر اگلی سند سے تقویف پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے )
5067Sunan An Nasai

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْأَبِي وَائِلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ.

ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ مجھ سے زید بن ثابت کی قرأت کے مطابق پڑھنے کو کہتے ہو ١ ؎، اس کے بعد کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ستر سے زائد کئی سورتیں سن چکا ہوں، اس وقت زید بچوں کے ساتھ تھے، ان کی دو چوٹیاں تھیں؟۔

It was narrated that Abu Wail said: "Ibn Masud addressed us and said: How do you want me to recite? According to the recitation of Zaid bin Thabit, when I learned seventy-odd Surahs from the mouth of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while Zaid was with the other boys with two braids?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5064
Notes · وضاحت
١ ؎: جب ابن مسعود ؓ سے کہا گیا ہے کہ آپ عثمان ؓ عنہ کے مصحف کے مطابق قرآن پڑھا کریں کیونکہ آپ کے مصحف اور اس میں فرق ہے، تب انہوں نے مصحف عثمانی کے جمع کرنے والے زید بن ثابت ؓ کے بارے میں یہ بات کہی، آپ کی نظر اس بات پر نہیں گئی کہ عام صحابہ نے مصحف عثمانی ہی پر اجماع کیا، بہرحال بتصریح رسول اللہ ﷺ قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا، ابن مسعود صحابی رسول تھے، اور ان کو اپنے اوپر اعتماد تھا، لیکن مصحف عثمانی پر اجماع کے بعد اس کے مطابق پڑھنے پر اجماع امت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٢٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن ٨ (٥٠٠٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٢ (٢٤٦٢)، مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٠٥، ٤١١، ٤٤٢) (صحیح )
5068Sunan An Nasai

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ.

حصین ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے قریب آؤ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی۔

Ziyad bin Al-Husain narrated that his father said: "When he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Al-Madinah, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Come closer to me. So he came closer to him, and he put his hand on his braid and wiped his head and prayed for him.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5065
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٤١٥) (صحیح الإسناد )
5069Sunan An Nasai

بالوں کو لمبا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ: ذُبَابٌ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا: نحوست ہے ، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے ۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I had long hair. He said: It is not good, and I thought he meant me, so I went and cut my hair. He said: I did not mean you, but this is better.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5066
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٥٥ (صحیح )
5070Sunan An Nasai

داڑھی کو موڑ کر چھوٹا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ: مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ، أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا بَرِيءٌ مِنْهُ.

رویفع بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری عمر لمبی ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتادینا کہ جس نے کر اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے کے گلے میں تانت ڈالی (کہ نظر نہ لگے) یا کسی چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد اس سے بری ہیں ۔

Ruwaifi bin Thabit said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Ruwaifi, you may live for a long time after me, so tell the people that whoever ties up his beard, or twists it, or hangs an amulet, or cleans himself (after relieving himself) with animal dung or bones, Muhammad has nothing to do with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5067
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٠ (٣٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٦)، مسند احمد (٤/١٠٨، ١٠٩) (صحیح )
5071Sunan An Nasai

سفید بال اکھاڑنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفید بال اکھاڑنے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade plucking gray hairs.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5068
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٦٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٥٩ (٢٨٢١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٥ (٣٧٢١)، مسند احمد (٢/٢٠٦، ٢٠٧، ٢١٠، ٢١٢) (حسن، صحیح )
5072Sunan An Nasai

خضاب کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَأَبُو سَلَمَةَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَاابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Jews and Christians do not dye their hair, so be different from them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5069
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی مخالفت میں خضاب لگاؤ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٠ (٣٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٥١٩٠، ١٥٣٤٧)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٦٠، ٣٠٩، ٤٠١) (صحیح )
5073Sunan An Nasai

خضاب کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے اسی جیسی روایت مروی ہے۔

Narrated from Abu Hurairah: A similar report was narrated from Abu Hurairah, from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5070
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٢٩٢) (صحیح )
5074Sunan An Nasai

خضاب کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ فَاصْبُغُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو اور خضاب لگاؤ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Jews and the Christians do not dye their hair, so be different from them and dye your hair.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5071
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5075Sunan An Nasai

خضاب کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبدِ الرَحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Jews and Christians do not dye their hair, so be different from them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5072
Takhrij · تخریج
واللباس ٦٧ (٥٨٩٩)، صحیح مسلم/اللباس ٢٥ (٢١٠٣)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٣)، سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٢) (نحوہ) سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢١)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٠)، مسند احمد (٢/٢٤٠)، ویأتي عند المؤلف: ٥٢٤٣) (صحیح )
5076Sunan An Nasai

خضاب کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Change gray hair, but do not imitate the Jews.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5073
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٣٢٥) (صحیح )
5077Sunan An Nasai

خضاب کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ. وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.

زبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو ، یہ دونوں روایتیں محفوظ نہیں ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Az-Zubair said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Change gray hair but do not imitate the Jews.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5074
Notes · وضاحت
١ ؎: عروہ کبھی اس کو ابن عمر ؓ کی حدیث سے روایت کرتے ہیں، اور کبھی زبیر ؓ کی حدیث سے، اور کبھی عائشہ ؓ کی حدیث سے، اسی وجہ سے مؤلف نے غیر محفوظ کہا ہے، جب کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ عروہ نے تینوں سے یہ روایت کی ہو، نیز اس کے صحیح شواہد موجود ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٦٤٢)، مسند احمد (١/١٦٥) (صحیح )
5078Sunan An Nasai

کالے رنگ کا خضاب ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَوْمٌ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ آخِرَ الزَّمَانِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اخیر زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کبوتر کے پوٹوں کی طرح کالا خضاب لگائیں گے، انہیں جنت کی خوشبو نصیب نہ ہوگی ۔

It was narrated that Ibn Abbas, who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "Some people will dye their hair black like the breasts of pigeons at the end of time, but they will not even smell the fragrance of Paradise.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5075
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٢٠ (٤٢١٢)، (تحفة الأشراف: ٥٥٤٨) مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
5079Sunan An Nasai

کالے رنگ کا خضاب ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ابوقحافہ ؓ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا، سفیدی میں ان کا سر اور ڈاڑھی دونوں ثغامہ کی طرح سفید تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا ۔

It was narrated that Jabir said: "Abu Quhafah was brought on the Day of the Conquest of Makkah, and his hair and beard were white like the Thaghamah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Change this with something, but avoid black.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5076
Notes · وضاحت
١ ؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢٤)، مسند احمد (٣/٣٠٦، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح )
5080Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفْضَلُ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّمَطَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

ابوذر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو مہندی اور کتم ہے ۔

It was narrated from Abu Dharr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5077
Notes · وضاحت
١ ؎: کتم ایک پودا ہے جسے مہندی کے ساتھ ملاتے ہیں، ان دونوں کو ملا کر استعمال سے بالوں کا رنگ سیاہی مائل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٩٦٦) (صحیح )
5081Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو مہندی اور کتم ہے ۔

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5078
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٨(٤٢٠٥)، سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٢(٣٦٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٧، ١٨٨٨٥)، مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٠٨٢- ٥٠٨٤) (صحیح )
5082Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَشْعَثَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْأَجْلَحِ، فَلَقِيتُ الْأَجْلَحَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے ۔

It was narrated that Abu Dharr said: "I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Some of the best things with which you can change gray hair are Henna and Katam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5079
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٨٠ (صحیح )