زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 48 · 339 hadiths · Page 3 of 17

5083Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ. خَالَفَهُ الْجُرَيْرِيُّ، وَكَهْمَسٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے ۔ جریری اور کہمس نے ان کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5080
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اجلح کی مخالفت کی ہے، اور دونوں کی سندوں میں انقطاع ہے جو واضح ہے (ان دونوں کی روایتیں آگے آرہی ہیں)۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٨١ (صحیح )
5084Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Buraidah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5081
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٨١ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن بریدہ تابعی ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے )
5085Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that: He heard that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The best things with which you can change gray hair are Henna and Katam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5082
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٨١ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن بریدہ تابعی ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے )
5086Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ.

ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ نے اپنی ڈاڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Rimthah said: "My father and I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he had dyed his beard with Henna.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5083
Notes · وضاحت
١ ؎: آگے انس ؓ کی حدیث (نمبر: ٥٠٨٩ ) میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بالوں میں اتنے سفید بال تھے ہی نہیں کہ آپ خضاب لگاتے۔ دونوں حدیثوں میں باہم یوں تطبیق دی جاتی ہے کہ واقعی اتنے زیادہ بال تھے نہیں کہ آپ کو ان کے رنگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی (یعنی بذریعہ خضاب) مگر آپ نے ان کا رنگ تبدیل کیا تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو، اس عمل کو انس ؓ کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہوسکا۔ رہی ابن عمر ؓ کی اگلی حدیث (نمبر: ٥٠٨٨ ) کہ آپ ﷺ پیلے رنگ سے اپنے بال رنگتے تھے تو پیلے رنگ کا استعمال بعد میں منسوخ ہوگیا تھا جس کی خبر ابن عمر ؓ کو نہیں ہوسکی تھی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٧٣ (صحیح )
5087Sunan An Nasai

مہندی اور وسمہ کا خضاب

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُهُ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ.

ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میں نے دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں پیلے رنگ لگائے ہوئے ہیں۔

It was narrated that Abu Rimthah said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I saw that he had dyed his beard with yellow dye.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5084
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٧٣ (صحیح )
5088Sunan An Nasai

زدر رنگ سے خضاب کرنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْخَلُوقِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْخَلُوقِ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ بِهَا لِحْيَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَلَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ بِهَا ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.

زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ٢ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ٣ ؎۔

It was narrated that Zaid bin Aslam said: "I saw Ibn Umar dyeing his beard yellow with Khaluq and I said: O Abu Abdur-Rahman, are you dyeing your beard yellow with Khaluq? He said: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) dyeing his beard yellow with it, and there was no other kind of dye that was dearer to him than this. He used to dye all of his clothes with it, even his Imamah (turban).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5085
Notes · وضاحت
١ ؎: خلوق ایک قسم کی خوشبو ہے جو کئی چیز سے بنتی ہے، اس میں ورس اور زعفران بھی شامل ہے۔ ٢ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ کو پیلے رنگ کی اجازت منسوخ ہوجانے کی خبر نہیں مل سکی تھی، پیلا رنگ عورتوں کا رنگ ہونے کے سبب مردوں کے لیے منسوخ کردیا گیا۔ ٣ ؎: ابوقتیبہ کی روایت مؤلف کے یہاں آگے آرہی ہے (حدیث نمبر ٥٢٤٥ ) اس روایت میں ابن عمر ؓ سے سوال کرنے والے زید بن اسلم کی جگہ عبید ہیں، مؤلف یہی بتار ہے ہیں کہ سائل زید ہیں نہ کہ عبید۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٨ (٤٠٦٤)، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٨)، ویأتی برقم ٥١١٨ (صحیح الإسناد )
5089Sunan An Nasai

زدر رنگ سے خضاب کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَأَلَهُ: هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ.

قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے انس ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا تھا؟ کہا: آپ کو اس کی حاجت نہ تھی، کیونکہ صرف تھوڑی سی سفیدی کان کے پاس تھی۔

It was narrated from Qatadah : That he asked Anas: "Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) dye his hair? He said: "His gray hair didnt go far, it was only a little at his temples.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5086
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٠) (وراجع أیضا اللباس ٦٦ (٥٨٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٨)، مسند احمد (٤/١٩٢، ٢٥١، ٢٦٦) (صحیح )
5090Sunan An Nasai

زدر رنگ سے خضاب کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْأَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَخْضِبُ إِنَّمَا كَانَ الشَّمَطُ عِنْدَ الْعَنْفَقَةِ يَسِيرًا وَفِي الصُّدْغَيْنِ يَسِيرًا، وَفِي الرَّأْسِ يَسِيرًا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خضاب نہیں لگاتے تھے، کیونکہ تھوڑی سی سفیدی آپ کے ہونٹ کے نیچے تھے، تھوڑی سی کان کے پاس ڈاڑھی میں اور تھوڑی سی سر میں۔

It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not dye his hair; his gray hair were only a little beneath his lower lip and at his temples, and a little on his head.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5087
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل ٢٩(٢٣٤١)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨)، مسند احمد (٣/٢١٦) (صحیح الإسناد )
5091Sunan An Nasai

زدر رنگ سے خضاب کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِصَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَتَعْلِيقَ التَّمَائِمِ، وَعَزْلَ الْمَاءِ بِغَيْرِ مَحَلِّهِ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو دس عادتیں ناپسند تھیں: پیلا رنگ لگانا یعنی خلوق، بڑھاپے کا رنگ بدلنا ١ ؎، تہبند (لنگی) ٹخنے سے نیچے لٹکانا، سونے کی انگوٹھی پہننا، چوسر شطرنج کھیلنا، بےموقع و محل عورتوں کا اجنبیوں کے سامنے بن ٹھن کر نکلنا، معوذات کے علاوہ دوسرے منتر پڑھنا، تعویذ لٹکانا، ناجائز جگہ میں منی بہانا، بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا، ٢ ؎ البتہ آپ اسے حرام نہیں کہتے تھے۔

It was narrated from Abdullah bin Masud that: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) disliked ten things: Yellow dye, meaning Khaluq, changing gray hair, dragging ones Izar, wearing gold rings, playing with dice (Kiab), (a woman) showing her adornment to people to whom it is not permissible for her to show it, reciting Ruqyah, unless it is with Al-Muawidhat (Verses seeking refuge with Allah), hanging amulets, removing to ejaculate in other than the right place, and taking away the milk of an infant boy (by having intercourse with his mother)- but he did not say that this is Haram.

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5088
Notes · وضاحت
١ ؎: بڑھاپے کا رنگ بدلنا یعنی انہیں اکھیڑنا یا ان میں کالا خضاب لگانا۔ بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا یعنی ایام رضاعت میں بچے کی ماں سے صحبت کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٣ (٤٢٢٢)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٥)، مسند احمد (٣/٣٨٠، ٣٩٧، ٤٣٩) (منکر) (اس کے راوی ” قاسم “ اور ” عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں )
5092Sunan An Nasai

خواتین کا خضاب کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مَدَّتْ يَدَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، فَقَبَضَ يَدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ، فَلَمْ تَأْخُذْهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَةٍ هِيَ، أَوْ رَجُلٍ ؟قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ، قَالَ: لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کو خط دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے ایک خط دینے کے لیے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا ، میں نے عرض کیا: عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگا ہوتا ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA) that: A woman reached out her hand (to give) a letter to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he withdrew his hand. She said: "O Messenger of Allah, I reached out my hand (to give you) a letter and you did not take it." He said: "I did not know whether it was the hand of a woman or a man." She said: "It is the hand of a woman." He said: "If you were a woman, you would change your nails (by dyeing them with Henna).

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5089
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو اپنی نسوانیت کی علامت اختیار کئے رہنا چاہیئے اور مردوں سے مشابہت کی کوئی بات اختیار نہیں کرنی چاہیئے اس کی حکمت دراصل اللہ کی تخلیق کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی بات ہے، اللہ کی خلقت کو بدلنا حرام عمل ہے، اس کی خواہ کوئی صورت ہو، نسوانیت کی علامت کے سلسلے میں بھی خاص خاص مرد اور عورت کے امتیازی علامات کے علاوہ چیزوں میں علاقہ و سماج کے عزت و رواج کا لحاظ کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٤ (٤١٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦٨)، مسند احمد (٦/٢٦٢) (صحیح )
5093Sunan An Nasai

مہندی کی بو ناپسند ہونا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: سَمِعْتُكَرِيمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنْ الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ ؟ قَالَتْ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ هَذَا لِأَنَّ حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُتَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

کریمہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے سنا: ان سے کسی عورت نے مہندی لگانے کے بارے میں پوچھا تو وہ بولیں: اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن میں اسے اس لیے ناپسند کرتی ہوں کہ میرے محبوب ﷺ اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے یعنی نبی اکرم ﷺ۔

Karimah said: "I heard a woman asking Aishah (RA) about dyeing the hair with Henna. She said: There is nothing wrong with it, but I do not like to do it because my beloved- meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)- disliked its smell.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5090
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٤ (٤١٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٩)، مسند احمد (٦/١١٧، ٢١٠) (ضعیف) (اس کی راویہ ” کریمہ “ لین الحدیث ہیں )
5094Sunan An Nasai

سفید بال اکھاڑنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَأَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ، وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ شُفَيٌّ: إِنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ، رَجُلٌ مِنْ الْمَعَافِرِ، نُصَلِّي بِإِيلِيَاءَ، وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنْ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا أَمْثَالَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَوَاتِيمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ.

ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر ١ ؎ کا تھا دونوں ایلیاء (بیت المقدس) میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ صحابہ میں سے قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک شخص تھے، میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے، پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، (سفید) بال اکھیڑنے سے، دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، دوسروں کے مال لوٹنے سے، درندوں کی کھال پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ (حاکم) کے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Al-Husain Al-Haitham bin Shufayy that he said: "A friend of mine who was called Abu Amir, from Al-Maafir, and I went out to pray in Jerusalem. Their preacher was a man from (the tribe of) Azd who was called Abu Raihanah, one of the Companions." Abu Al-Husain said: "My companion reached the Masjid before I did, then I caught up with him, and sat beside him. He said: Have you heard the preaching of Abu Raihanah? I said: No. He said: I heard him say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade ten things: Filing (the teeth), tattoos, plucking (hair), for two men to lie under one cover with no barrier between them, for two women to lie under one cover with no barrier between them, for a man to add more than four fingers width of silk to the bottom of his garment like the foreigners (Persians), (and he forbade) plundering, riding (while sitting on) leopard skins and wearing rings- except for rulers.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5091
Notes · وضاحت
١ ؎: معافر یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: اکثر سلف نے صرف زیب و زینت کی خاطر انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے، (کچھ علماء اس ممانعت کو مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں) بادشاہ، یا بادشاہ کے نائبین جیسے عامل، گورنر، اسی طرح کسی بھی ادارے یا اس کے سربراہ کے لیے اپنی تحریر پر مہر لگانے کی خاطر انگوٹھی کے جواز کے سب قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٦ (٣٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٩)، مسند احمد (٤/١٣٤، ١٣٥)، سنن الدارمی/الإستئذان ٢٠ (٢٦٩٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥١١٣-٥١١٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو عامر معافری لین الحدیث ہیں، لیکن نمبر ٥١١٤ کی سند میں ان کا واسطہ نہیں ہے اس لیے اس سند سے یہ روایت صحیح ہے )
5095Sunan An Nasai

بالوں کو جوڑنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّمُعَاوِيَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فریب کاری (یعنی اپنے بالوں میں دوسرے بال جوڑنے) سے منع فرمایا۔

It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that Muawiyah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade giving a false impression.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5092
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٨٨)، اللباس ٨٣ (٥٩٣٨)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٤١٨)، مسند احمد (٤/٩١، ٩٣، ١٠١)، ویأتی عند المؤلف بأرقام ٥٢٤٨-٥٢٥٠ (صحیح )
5096Sunan An Nasai

بالوں کو جوڑنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ كُبَبِ النِّسَاءِ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: مَا بَالُ الْمُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا ؟ ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَادَتْ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُورٌ تَزِيدُ فِيهِ.

سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ کو منبر پر دیکھا ان کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں عورتوں کے بالوں کی ایک چوٹی تھی، انہوں نے کہا: کیا حال ہے مسلمان عورتوں کا جو ایسا کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس عورت نے اپنے سر میں کوئی ایسا بال شامل کیا جو اس میں کا نہیں ہے تو وہ فریب کرتی ہے ۔

It was narrated that Saeed Al-Maqburi said: "I saw Muawiyah bin Abi Sufyan on the Minbar, holding a ball of hair such as women use. He said: "What is wrong with Muslim women who put such things (on their heads)? I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Any woman who adds hair to her head that is not hers, it is something false, that she is adding to her head.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5093
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٤١٧) (صحیح )
5097Sunan An Nasai

جو خاتون بالوں میں جوڑ لگائے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور بال جو ڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

It was narrated from Hisham bin Urwah, from his wife Fatimah, from Asma bint Abi Bakr, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5094
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٣٥)، ٨٥ (٥٩٤١)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٢ (١٩٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٧)، مسند احمد (٦/١١١، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٢٥٢ (صحیح )
5098Sunan An Nasai

بالوں کو جڑوانا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ. أَرْسَلَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ بال جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) ولید بن ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, the woman who does tattoos and the woman who has that done.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5095
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨١٠٧)، ویأتي عند المؤلف: ٥٢٥٣ (صحیح )
5099Sunan An Nasai

بالوں کو جڑوانا

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْالْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ.

نافع سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

It was narrated from Nafi that he heard that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, the woman who does tattoos and the woman who has that done.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5096
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٣٧)، ٨٥ (٥٩٤٠)، ٨٧ (٥٩٤٧)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٤)، سنن ابی داود/الترجل ٥ (٤١٦٨)، سنن الترمذی/اللباس ٢٥ (١٧٥٩)، الأدب ٣٣ (٢٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٢ (١٧٥٩)، مسند احمد (٢/٢١)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٢٥١ و ٥٢٥٣ (صحیح) (یہ مرسل ہے لیکن اوپر کی حدیث میں نافع نے اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے اس سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے )
5100Sunan An Nasai

بالوں کو جڑوانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بال جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی عورت پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ۔

It was narrated from Safiyyah bint Shaibah, that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah curse the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5097
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٩٤ (٥٢٠٥)، اللباس ٨٣ (٥٩٣٤)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٩)، مسند احمد (٦/١١١، ١١٦، ٢٢٨) (صحیح )
5101Sunan An Nasai

بالوں کو جڑوانا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آ کر کہا: میرے سر پر بال بہت کم ہیں، کیا میرے لیے صحیح ہوگا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا کتاب اللہ (قرآن) میں ہے؟ کہا: نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ اور اسے کتاب اللہ (قرآن) میں بھی پاتا ہوں …، اور پھر آگے حدیث بیان کی۔

It was narrated from Masruq that: A woman came to Abdullah bin Masud and said: "I am a woman with little hair, is it alright for me to add extensions to my hair?" He said: "No." She said: "Is it something that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) or that you find in the Book of Allah?" He said: "No, rather I heard it from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I find it in the Book of Allah." And he quoted the Hadith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5098
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٥٨٤)، مسند احمد (١/٤١٥) (صحیح )
5102Sunan An Nasai

جو خواتین چہرہ کے بال (یعنی منہ کا) رواں اکھاڑیں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the women who do tattoos and the women who have them done, Al-Mutanammisat, and the women who have their teeth separated for the sake of beauty, those who change (the creation of Allah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5099
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ سارے اعمال ممنوع ہیں اس لیے ان کو کرنے والے اور ان کے کرنے میں مدد دینے والے سب پر لعنت کی گئی ہے، دانتوں میں کشادگی کے لیے، دانتوں کی تراش خراش کرنی پڑتی ہے اور یہ عمل قدرتی دانتوں میں تبدیلی ہے جو اللہ کی تخلیق میں دخل دینا ہے اس لیے یہ عمل بھی ممنوع ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیرسورة الحشر ٤ (٤٨٨٦)، اللباس ٨٢ (٥٩٣١)، ٨٤ (٥٩٣٩)، ٨٥ (٥٩٤٣)، ٨٦ (٥٩٤٤)، ٨٧ (٥٩٤٨)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٥)، سنن ابی داود/الترجل ٥ (٤١٦٩)، سنن الترمذی/الأدب ٣٣ (٢٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٢ (١٩٨٩)، (تحفة الأشراف: ٩٤٥٠)، مسند احمد (١/٤٣٣، ٤٤٣، ٤٦٥)، سنن الدارمی/الإستئذان ١٩ (٢٦٨٩)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥١١٠- ٥١١٢، ٥٢٥٤- ٥٢٥٧ (صحیح )