زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 48 · 339 hadiths · Page 4 of 17

5103Sunan An Nasai

جو خواتین چہرہ کے بال (یعنی منہ کا) رواں اکھاڑیں

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: الْمُتَفَلِّجَاتِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے (متفلجات للحسن کے بجائے) صرف متفلجات کہا اور حدیث بیان کی۔

It was narrated that Ibrahim said: "Abdullah said: The women who have their teeth separated..." and he quoted the Hadith.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5100
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٥ م)، (تحفة الأشراف: ٩٤٣١)، ویأتي عند المؤلف: بأرقام: ٥٢٥٥، ٥٢٥٧) (صحیح )
5104Sunan An Nasai

جو خواتین چہرہ کے بال (یعنی منہ کا) رواں اکھاڑیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَاشِمَةِ، وَالْمُسْتَوْشِمَةِ، وَالْوَاصِلَةِ، وَالْمُسْتَوْصِلَةِ، وَالنَّامِصَةِ، وَالْمُتَنَمِّصَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے، گودوانے، بال جوڑنے، جڑوانے اور بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے والی عورتوں کو ایسا کرے کرنے سے منع فرمایا۔

Aban bin Samah narrated that his mother said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the woman who does tattoos and the woman who has that done, the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, An-Namisah (the one who does the plucking) and Al-Mutanammisah (the one who has it done).

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5101
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٥)، مسند احمد (٦/٢٥٧) (صحیح) (اس کی راویہ ” ام ابان “ لین الحدیث ہیں، نیز ” ابان “ آخر میں مختلط ہوگئے تھے، مگر اس حدیث کے تمام مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں )
5105Sunan An Nasai

جسم گدوانے والیوں کا بیان اور راویوں کا اختلاف اور راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ذَلِكَ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمَوْشُومَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: سود کھانے والا، کھلانے والا، اور اس کا لکھنے والا ١ ؎ جب کہ وہ اسے جانتا ہو (کہ یہ حرام ہے) اور خوبصورتی کے لیے گودنے اور گودوانے والی عورتیں، صدقے کو روکنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی (دیہاتی) ہوجانے والا ٢ ؎ یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ملعون ہیں۔

It was narrated from Abdullah bin Murrah, from Al-Harith, from Abdullah, who said: "The one who consumes Riba, the one who pays it, and the one who writes it down, if they know that it is Riba; the woman who does tattoos and the woman who has that done for the purpose of beautification; the one who withholds Sadaqah (Zakah); and the one who reverts to the life of a Bedouin after having emigrated- they will (all) be cursed upon the tongue of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5102
Notes · وضاحت
١ ؎: سود کھانا اور کھلانا تو اصل گناہ ہے، اور حساب کتاب گناہ میں تعاون کی قبیل سے ہے اس لیے وہ بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے۔ اسی طرح وہ کام جو اس حرام کام میں ممدو معاون ہوں موجب لعنت ہیں۔ ٢ ؎: یہ اس وقت کے تناظر میں تھا جب اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ رہ کر ان کی مدد کرنی واجب تھی اور مدینہ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی بھی نہیں تھا، اگر دنیا میں کہیں اب بھی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو دنیاوی منفعت کی خاطر مرکز اسلام کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوجانے کا یہی حکم ہوگا، مگر اب ایسا کہاں؟۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩١٩٥)، مسند احمد (١/٤٠٩، ٤٣٠، ٤٦٥)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساقاة ١٩ (١٥٩٧)، سنن ابی داود/البیوع ٤ (٣٣٣٣)، سنن الترمذی/البیوع ٢ (١٢٠٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٨ (٢٢٧٧)، مسند احمد (١/ ٣٩٣، ٣٩٤، ٤٠٢، ٤٥٣) (صحیح )
5106Sunan An Nasai

جسم گدوانے والیوں کا بیان اور راویوں کا اختلاف اور راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْعَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ. أَرْسَلَهُ ابْنُ عَوْنٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا حساب لکھنے والے اور صدقہ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ہے، نیز آپ نوحہ (مردے پر چیخ چیخ کر رونے) سے منع فرماتے تھے۔ اسے ابن عون و عطا بن سائب نے مرسلاً روایت کیا ہے۔

It was narrated from Husain, Mughirah, and Ibn Awn, from Ash-Shabi, from Al-Harith, from Ali, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who writes it down, and the one who withholds Sadaqah (Zakah). And he used to forbid wailing (in mourning for the dead).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5103
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٠٣٦، ١٨٤٨٢)، مسند احمد (١/٨٣، ٨٧، ١٠٧، ١٣٣، ١٥٠، ١٥٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥١٠٧، ٥١٠٨) (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حارث اعور “ ضعیف ہیں ۔ )
5107Sunan An Nasai

جسم گدوانے والیوں کا بیان اور راویوں کا اختلاف اور راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ، قَالَ: إِلَّا مِنْ دَاءٍ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِوَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ.

حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود پر گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، الا یہ کہ وہ کسی مرض کی وجہ سے ہو تو آپ نے فرمایا: ہاں اور آپ نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر، اور زکاۃ نہ دینے والے پر (لعنت فرمائی) اور آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے (نوحہ کے بارے میں) لعن کا لفظ نہیں کہا۔

It was narrated from Ibn Awn, from Ash-Shabi, from Al-Harith, who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who writes it down and the one who witnesses it; the woman who does tattoos and the woman who has that done"- he said: "Unless it is done as a remedy;" he said: "Yes"- "the man who married a woman in order to divorce her so that she may go back to her first husband and the man (the first husband) for whom that is done; and the one who withholds Sadaqah (Zakah). And he used to forbid wailing (in mourning), but he did not say cursed

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5104
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ حارث اعور کی مرسل روایت ہے )
5108Sunan An Nasai

جسم گدوانے والیوں کا بیان اور راویوں کا اختلاف اور راویوں کے اختلاف کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ، وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ صَاحِبَ.

شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود کی گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، اور نوحہ سے منع فرمایا، (اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر) لعنت کا ذکر نہیں کیا۔

It was narrated that from Ata bin As-Saib, from Ash-Shabi who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who witnesses it and the one who writes it down; the woman who does tattoos and the woman who has that done; and forbade wailing (in mourning), but he did not say that its doer is cursed.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5105
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥١٠٦ (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح لغیرہ ہے )
5109Sunan An Nasai

جسم گدوانے والیوں کا بیان اور راویوں کا اختلاف اور راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتَهُ ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَا تَشِمْنَ وَلَا تَسْتَوْشِمْنَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنا گودتی تھی تو انہوں نے کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اس سلسلے میں تم میں سے کسی نے کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: چناچہ میں نے کھڑے ہو کر کہا: امیر المؤمنین! میں نے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: (اے عورتو! ) نہ گودو اور نہ گودواؤ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "A woman who did tattoos was brought to Umar and he said: I adjure you by Allah, did any one among you hear (anything from) the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم)? Abu Hurairah said: "I stood up and said: O Commander of the Believers! I heard him (say something). He said: What did you hear? I said: I heard him say: Do not do tattoos and do not have tattoos done.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5106
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨٧ (٥٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٠٩) (صحیح )
5110Sunan An Nasai

دانتوں کو کشادہ کرنے والیاں

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔

It was narrated that Ibn Masud said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursing Al-Mutanammisat, women who have their teeth separated, and women who have tattoos done, those who change the creation of Allah, the Mighty and Sublime.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5107
Takhrij · تخریج
تفرد النسائي (تحفة الأشراف: ٩٥٣٦)، مسند احمد (١/٤١٦، ٤١٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥١١١، ٥١١٢) (حسن صحیح )
5111Sunan An Nasai

دانتوں کو کشادہ کرنے والیاں

It was narrated that Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursing Al-Mutanammisat, women who have their teeth separated, and women who have tattoos done, those who change the creation of Allah, the Mighty and Sublime.

5112Sunan An Nasai

دانتوں کو کشادہ کرنے والیاں

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے بال اکھاڑنے والی، گودوانے والی اور دانتوں میں کشادگی کرانے والی عورتوں پر، جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں ۔

It was narrated that Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: May Allah curse Al-Mutanammisat, women who have tattoos done and women who have their teeth separated, those who change the creation of Allah, Mighty and Sublime.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5109
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥١١٠ (صحیح )
5113Sunan An Nasai

دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنا حرام ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَلْزَمَانِ أَبَا رَيْحَانَةَ يَتَعَلَّمَانِ مِنْهُ خَيْرًا، قَالَ: فَحَضَرَ صَاحِبِي يَوْمًا، فَأَخْبَرَنِي صَاحِبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَرَّمَ الْوَشْرَ، وَالْوَشْمَ، وَالنَّتْفَ.

ابوالحصین حمیری کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی ابوریحانہ ؓ کے ساتھ رہتے تھے اور خیر و بھلائی کی باتیں سیکھتے تھے، ایک دن میرے ساتھی میرے یہاں آئے اور مجھے بتایا کہ انہوں نے ابوریحانہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے، گودنے اور بال اکھاڑنے کو حرام قرار دیا ہے۔

It was narrated from Abu Al-Husain Al-Himyari that : He and a companion of his used to stay with Abu Raihanah to learn good things from him. He said: "One day my companion came and told me that he heard Abu Raihanah say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade filing (the teeth), tattoos, and plucking hairs.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5110
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٩٤ (ضعیف) (اس کے ایک راوی مبہم ہیں، اور وہ ابوعامر معافری ہیں جن کی صراحت سابقہ حدیث نمبر میں موجود ہے، یہ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت متصل اور صحیح ہے )
5114Sunan An Nasai

دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنا حرام ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ.

ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے اور گودنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Raihanah said: "We heard that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade filing (the teeth) and tattoos.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5111
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٩٤ (صحیح )
5115Sunan An Nasai

دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنا حرام ہونے سے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ.

ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے اور گودنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Raihanah said: "We heard that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade filing (the teeth) and tattoos.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5112
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٩٤ (صحیح )
5116Sunan An Nasai

سرمہ کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ. أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَيِّنُ الْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین سرمہ اثمد (ایک پتھر) ہوتا ہے، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "One of the best kinds of kohl that you use is Ithmid (antimony); it brightens the vision and makes the hair (eye-lashes) grow.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5113
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن دیگر بہت سے أئمہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز بقول حافظ ابن حجر: ایک روایت کے مطابق خود امام نسائی نے ان کی توثیق کی ہے، (دیکھئیے تہذیب التہذیب )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ٧، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٥ (٣٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ١٤ (٣٨٧٨)، اللباس ١٦ (٤٠٦١)، سنن الترمذی/اللباس ٢٣ (١٧٥٧)، الطب ٩ (٢٠٣٨)، مسند احمد (١/٢٣١، ٢٤٧، ٢٧٤، ٣٥٥، ٣٦٣ (صحیح )
5117Sunan An Nasai

تیل لگانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: كَانَ إِذَا ادَّهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ، وَإِذَا لَمْ يُدَّهَنْ رُئِيَ مِنْهُ.

سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ ؓ سے سنا، ان سے رسول اللہ ﷺ کے بالوں کی سفیدی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: جب آپ اپنے سر میں خوشبو (دہن عود) یا تیل لگاتے تو ان بالوں کی سفیدی نظر نہ آتی اور جب نہ لگاتے تو نظر آتی۔

It was narrated that Simak said: "I heard Jabir bin Samurah being asked about the gray hairs of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: If he put oil on his head they could not be seen, but if he did not put oil on his head, they could be seen.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5114
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤٤)، سنن الترمذی/الشمائل ٥ (٣٩)، (تحفة الأشراف: ٢١٨٢)، مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٠، ٩٥) (صحیح )
5118Sunan An Nasai

زعفران کے رنگ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ بِالزَّعْفَرَانِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ.

زید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ اپنے کپڑوں کو زعفران میں رنگتے تھے۔ ان سے (اس بارے میں) کہا گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ بھی رنگتے تھے ١ ؎۔

Abdullah bin Zaid narrated from his father that: Ibn Umar used to dye his garments with saffron. He was asked about that and he said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to dye his clothes (with it).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5115
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھے حاشیہ حدیث نمبر: ٥٠٨٨
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٨٨ (صحیح الإسناد )
5119Sunan An Nasai

عنبر لگانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ الْمُزَلِّقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَيَّبُ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بِذِكَارَةِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ.

محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ خوشبو لگاتے تھے؟ کہا: ہاں، مردانہ خوشبو: مشک اور عنبر۔

It was narrated that Muhammad bin Ali said: "I asked Aishah (RA): Did the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) wear perfume? She said: Yes, the perfumes used by men: Musk and amber.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5116
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٥٩٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکر اور عبداللہ ہاشمی حافظے کے کمزور ہیں )
5120Sunan An Nasai

مردوں اور خواتین کی خوشبو میں فرق سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ، وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ، وَخَفِيَ رِيحُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The perfume for men is that whose scent is apparent while its color is hidden, and the perfume for women is that whose color is apparent, while its scent is hidden.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5117
Notes · وضاحت
١ ؎: مردوں کے لیے رنگلین خوشبو اس لیے منع ہے کہ رنگ عورتوں کی چیز ہے جو مردانہ وجاہت کے خلاف ہے، رنگدار خوشبو جیسے زعفران اور خلوق جس کا تذکرہ حدیث نمبر: ٥١٢٣ (وما بعدہ) میں آ رہا ہے، سند کے لحاظ سے گرچہ وہ روایتیں ضعیف ہیں مگر اس حدیث سے ان کے معنی کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور عورتوں کے لیے یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب عورت گھر سے باہر نکلے، ورنہ شوہر کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٥٠ (٢١٧٤)، سنن الترمذی/الأدب ٣٦ (الاستئذان ٧٠) (٢٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٦)، مسند احمد (٢/٤٤٧، ٥٤٠) (حسن) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے )
5121Sunan An Nasai

مردوں اور خواتین کی خوشبو میں فرق سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ الطَّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو، عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The perfume for men is that whose scent is apparent while its color is hidden, and the perfume for women is that whose color is apparent, while its scent is hidden.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5118
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن لغیرہ) (اس کے راوی ” طفاوی “ مبہم ہیں )
5122Sunan An Nasai

سب سے بہتر خوشبو؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اتَّخَذَتْ خَاتِمًا مِنْ ذَهَبٍ وَحَشَتْهُ مِسْكًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اس میں مشک بھر دی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A woman from among the Children of Israel took a ring of gold and filled it with musk. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: That is the best kind of perfume.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5119
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٦ (صحیح )