ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا: جاؤ اور اسے دھو ڈالو ، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو ۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو، پھر آئندہ نہ لگانا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a little dab of Khaluq." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Go and scrub it off. Then he came (again) and he said: Go and scrub it off. Then he came to him (again) and he said: Go and scrub it off, and dont put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5120
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٢٧١) (ضعیف) (اس کا راوی عمران بن ظبیان شیعہ اور ضعیف ہے )
یعلیٰ بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تمہاری بیوی ہے؟ کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا ۔
It was narrated from Yala bin Murrah that: He passed by the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing Khaluq. He said to him: "Do you have a wife?" I said: "No." He said: "Wash it off, then wash it off, then do not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5121
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٥١ (الإستئذان ٨٥) (٢٨١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٨٤٩)، مسند احمد (٤/١٧١، ١٧٣)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥١٢٥-٥١٢٨) (ضعیف) (اس کا راوی ابو حفص بن عمرو مجہول ہے )
یعلیٰ بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا: جاؤ اسے دھو لو، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا ۔
It was narrated from Yala bin Murrah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a man wearing Khaluq and said: "Go and wash it off, then wash it off, and do not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5122
اس سند سے بھی یعلیٰ ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے، چناچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے۔ (عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے۔ )
Narrated from Ibn Amr: A similar report was narrated from Ibn Amr, from a man, from Yala.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5123
یعلیٰ بن مرہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسے دھو لو، پھر نہ لگانا، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا ، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا۔
It was narrated that Yala bin Murrah Ath-Thaqafi said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw me wearing a little dab of Khaluq. He said: O Yala, do you have a wife? I said: No. He said: Wash it off and do not put it on again, then wash it off and do not put it on again, then wash it off and do not put it on again. I said: So I washed it off, and did not put it on again, then I washed it off and did not put it on again, then I washed it off, and did not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5124
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥١٢٤ (ضعیف) (اس کا راوی عبداللہ بن حفص وہی ابو حفص بن عمرو ہے جو مجہول ہے )
یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا، میں خلوق لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ، اسے دھوؤ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ، پھر ایسا نہ کرنا ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا۔
It was narrated that Yala said: "I passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I was wearing Khaluq. He said: O Yala, do you have a wife? I said: No. He said: Go and wash it off, then wash it off, then wash it off, and do not put it on again. So I went and washed it off, then washed it off, then washed it off, and I did not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5125
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے ۔
It was narrated that Al-Ashari said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Any woman who puts on perfume then passes by people so that they can smell her fragrance then she is an adulteress.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5126
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت مسجد کے لیے نکلے تو خوشبو مٹانے کے لیے اس طرح غسل کرے جیسے غسل جنابت کرتی ہے ، یہ حدیث مختصر ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a woman goes out to the Masjid, let her perform Ghusl to remove perfume as she would perform Ghusl to remove Janabah (impurity following sexual activity)." This is an abridged form of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5127
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٥٠٧)، سنن ابی داود/فی الترجل ٧(٤١٧٤)، وسنن ابن ماجہ/فی الفتن ١٩ (٤٠٠٢)، وحم (٢/٢٩٧، ٤٤٤، ٤٦١) بلفظ ” لا تقبل صلاة لامرأة تطیب للمسجد حتی ترجع فتغسل غسلہا من الجنابة “ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت خوشبو لگائے ہو تو ہمارے ساتھ عشاء کی جماعت میں نہ آئے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے روایت کرتے ہوئے عن ابی ھریرہ کہنے میں متابعت کی ہو۔ اس کے برعکس یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اسے روایت کرنے میں عن زینب الثقفی ۃ کہا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a woman has perfumed herself with incense, let her not attend Isha prayer.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5128
Notes · وضاحت
١ ؎: یزید بن خصیفہ کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، یہ بالکل ممکن ہے کہ روایت یزید کے پاس دونوں سندوں سے ہو۔
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے (مسجد) آئے تو خوشبو نہ لگائے ۔
It was narrated that Zainab, the wife of Abdullah, said: "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) said: If one of you wants to attend Isha prayer, let her not touch perfume.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5129
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں عشاء میں آئے تو خوشبو نہ لگائے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ اور جریر کی حدیث وہب بن خالد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے، واللہ اعلم ١ ؎۔
It was narrated that Zainab, the wife of Abdullah, said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If one of you wants to attend Isha prayer, let her not touch perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5130
Notes · وضاحت
١ ؎: جریر کی روایت یہی ہے، اور جریر و یحییٰ کی مشترکہ روایت نمبر ٥٢٦٢ پر آرہی ہے، مؤلف کا مقصد یہ ہے زینب ؓ کی روایت میں بسر بن سعید سے روایت کرنے والے بکیر کا ہونا یعقوب بن عبداللہ کے بالمقابل زیادہ قرین صواب بات ہے۔
زینب ثقفیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں جو کوئی عورت مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah that : The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If any one of you goes out to the Masjid, let her not go near perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5131
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ثقفیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ جب عشاء کے لیے مسجد جائیں تو خوشبو نہ لگائیں ۔
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah, the wife of Abdullah, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told her not to touch perfume if she wanted to go out to Isha the later.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5132
زینب ثقفیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت عشاء کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a woman goes out to (pray) Isha, let her not touch perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5133
زینب ثقفیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت جب نماز کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زہری کی روایت سے غیر محفوظ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Zainab Ath-Thaqafiyyah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If one of you wants to attend the prayer, let her not touch perfume.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5134
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بسر سے زہری کا راوی ہونا غیر محفوظ ہے، ان کی جگہ بکیر کا ہونا محفوظ ہے، بہرحال روایت محفوظ ہے۔
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ جب دھونی لیتے تو کبھی خالص عود کی دھونی جس میں کچھ نہ ملا ہوتا لیتے اور کبھی کافور ملا کر دھونی لیتے، پھر کہتے کہ اسی طرح رسول اللہ ﷺ دھونی لیتے تھے۔
It was narrated that Nafi said: "When Ibn Umar burned incense he would burn Al-Uluwwah that was not mixed with anything else, or camphor mixed with some Al-Uluwwah. Then he said: This is what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to burn.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5135
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے: اگر تم لوگ جنت کے زیورات اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو اسے دنیا میں نہ پہنو ١ ؎۔
Uqbah bin Amir narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to tell his wives not to wear jewelry and silk. He said: "If you want the jewelry and silk of Paradise, then do not wear them in this world.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5136
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں مذکور بعض احادیث میں عورتوں کے لیے بھی سونے کے استعمال کو حرام بتایا گیا ہے، مؤلف نیز جمہور أئمہ عورتوں کے لیے سونے کے مطلق استعمال کے جواز کے قائل ہیں، اس لیے مؤلف نے ان احادیث کی گویا ایک طرح سے تاویل کرتے ہوئے یہ باب باندھا ہے، یعنی: ان احادیث میں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کو حرام قرار دیا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب وہ ان کو پہن کر بطور فخر و مباہات کی نمائش کرتی پھریں، ورنہ ہر طرح کا سونے کا زیور عورتوں کے لیے حلال ہے، بعض علماء ان احادیث کو اس حدیث سے منسوخ مانتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا اور ریشم کو مردوں کے لیے حرام کردیا گیا ہے، اور عورتوں کے حلال کردیا گیا ہے، اس حدیث میں کوئی قید نہیں کہ سونے کا زیور حلقہ دار ہو یا ٹکڑے والا، علامہ البانی نے دونوں طرح کی احادیث میں تطبیق کی راہ یہ نکالی ہے (جس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے) کہ عورتوں کے لیے حلقہ دار سونے کا زیور (جیسے کنگن، بالی اور انگوٹھی وغیرہ) حرام ہے، ہاں ٹکڑے ٹکڑے والا زیور حلال ہے جیسے بٹن، ٹپ، اور ایسا ہار جس کا بعض حصہ دھاگہ ہو، وغیرہ وغیرہ، احتیاط علامہ البانی کے قول ہی میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: آداب الزفاف للألبانی )
حذیفہ ؓ کی بہن کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے خطاب کیا تو فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں؟ دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہوگا ۔
It was narrated from Ribi, from his wife, that the sister of Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us and said: O women, do you not have any silver to wear for adornment? For there is no woman among you who wears gold and shows it, but she will be punished because of it.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5137
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٣، ١٨٣٨٦)، مسند احمد (٦/٣٥٧، ٣٥٨، ٣٦٩)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٧ (٢٦٨٧) (ضعیف) (اس کی راویہ ” ربعی کی اہلیہ “ مجہول ہیں )
حذیفہ ؓ کی بہن کہتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطاب کیا اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں، دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہوگا ۔
It was narrated from Ribi, from his wife, that the sister of Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us and said: O women, do you not have any silver to wear for adornment? For there is no woman among you who wears gold and shows it, but she will be punished because of it.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5138
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اللہ تعالیٰ اس کی گردن میں اسی جیسا آگ کا ہار پہنائے گا، اور جو کان میں سونے کی بالیاں پہنے گی، اللہ تعالیٰ اس کے کان میں اسی جیسی آگ کی بالیاں قیامت کے دن پہنائے گا ۔
Asma bint Yazid narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Any woman who puts on a necklace of gold, Allah will put something similar of fire around her neck. Any woman who puts earrings of gold on her ears, Allah, the Mighty and Sublime, will put earrings of fire on her ears on the Day of Resurrection.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5139
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٦)، مسند احمد (٦/٤٥٣، ٤٥٧، ٤٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” محمود “ لین الحدیث ہیں )