Sunan An Nasai 5139

زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

5139Sunan An Nasai

خواتین کو زیور اور سونے کے اظہار کی کراہت سے متعلق

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ هُوَ الْمَعَافِرِيُّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُخْبِرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَهُ الْحِلْيَةَ وَالْحَرِيرَ، وَيَقُولُ: إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا، فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا.

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے: اگر تم لوگ جنت کے زیورات اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو اسے دنیا میں نہ پہنو ١ ؎۔

Uqbah bin Amir narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to tell his wives not to wear jewelry and silk. He said: "If you want the jewelry and silk of Paradise, then do not wear them in this world.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5136
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں مذکور بعض احادیث میں عورتوں کے لیے بھی سونے کے استعمال کو حرام بتایا گیا ہے، مؤلف نیز جمہور أئمہ عورتوں کے لیے سونے کے مطلق استعمال کے جواز کے قائل ہیں، اس لیے مؤلف نے ان احادیث کی گویا ایک طرح سے تاویل کرتے ہوئے یہ باب باندھا ہے، یعنی: ان احادیث میں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کو حرام قرار دیا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب وہ ان کو پہن کر بطور فخر و مباہات کی نمائش کرتی پھریں، ورنہ ہر طرح کا سونے کا زیور عورتوں کے لیے حلال ہے، بعض علماء ان احادیث کو اس حدیث سے منسوخ مانتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا اور ریشم کو مردوں کے لیے حرام کردیا گیا ہے، اور عورتوں کے حلال کردیا گیا ہے، اس حدیث میں کوئی قید نہیں کہ سونے کا زیور حلقہ دار ہو یا ٹکڑے والا، علامہ البانی نے دونوں طرح کی احادیث میں تطبیق کی راہ یہ نکالی ہے (جس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے) کہ عورتوں کے لیے حلقہ دار سونے کا زیور (جیسے کنگن، بالی اور انگوٹھی وغیرہ) حرام ہے، ہاں ٹکڑے ٹکڑے والا زیور حلال ہے جیسے بٹن، ٹپ، اور ایسا ہار جس کا بعض حصہ دھاگہ ہو، وغیرہ وغیرہ، احتیاط علامہ البانی کے قول ہی میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: آداب الزفاف للألبانی )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٩٢٠)، مسند احمد (٤/١٤٥) (صحیح )