خواتین کو کونسی خوشبو لگانا ممنوع ہے؟
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْالْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ.
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے ۔
It was narrated that Al-Ashari said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Any woman who puts on perfume then passes by people so that they can smell her fragrance then she is an adulteress.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5126
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٧ (١٤٧٣)، سنن الترمذی/الأدب ٣٥ (الاستئذان ٦٩) (٢٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٢٣)، مسند احمد (٤/٣٩٤، ٤٠٠، ٤٠٧، ٤١٣، ٤١٤، ٤١٨) (حسن )