Sunan An Nasai 5107

زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

5107Sunan An Nasai

جسم گدوانے والیوں کا بیان اور راویوں کا اختلاف اور راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ، قَالَ: إِلَّا مِنْ دَاءٍ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِوَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ.

حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود پر گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، الا یہ کہ وہ کسی مرض کی وجہ سے ہو تو آپ نے فرمایا: ہاں اور آپ نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر، اور زکاۃ نہ دینے والے پر (لعنت فرمائی) اور آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے (نوحہ کے بارے میں) لعن کا لفظ نہیں کہا۔

It was narrated from Ibn Awn, from Ash-Shabi, from Al-Harith, who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who writes it down and the one who witnesses it; the woman who does tattoos and the woman who has that done"- he said: "Unless it is done as a remedy;" he said: "Yes"- "the man who married a woman in order to divorce her so that she may go back to her first husband and the man (the first husband) for whom that is done; and the one who withholds Sadaqah (Zakah). And he used to forbid wailing (in mourning), but he did not say cursed

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5104
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ حارث اعور کی مرسل روایت ہے )