Sunan An Nasai 5066

زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

5066Sunan An Nasai

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ ؟، لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَصَاحِبُ ذُؤَابَتَيْنِ، يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کس کی قرأت کے مطابق پڑھنے کے لیے کہتے ہو؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ستر سے زائد سورتیں پڑھیں، اس وقت زید (زید بن ثابت) کی دو چوٹیاں تھیں، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ١ ؎۔

Abdullah bin Masud said: "According to whose recitation do you want me to recite? Because I recited seventy-odd Surahs to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when Zaid had two braids, and was playing with the other boys.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5063
Notes · وضاحت
١ ؎: لمبے بال کو ذوابہ کہتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی طرح بندھی ہوئی چوٹی کو، ابن مسعود ؓ کے اس اثر نیز اگلی حدیث سے سر کے اتنے بڑے بالوں کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان دونوں (نبی اکرم ﷺ و ابن مسعود) نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن آپ ﷺ نے لمبے بالوں کی بجائے انہیں چھوٹے کرنے کو زیادہ پسند کیا، جیسا کہ حدیث نمبر ٥٠٦٩ میں صراحت ہے (نیز ملاحظہ ہو: فتح الباری: کتاب اللباس، باب الذوائب)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٥٩٢) (صحیح) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ اور ” اعمش “ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، مگر اگلی سند سے تقویف پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے )