ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے تراویح پڑھے تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5025
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تراویح پڑھی تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5026
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے نماز تہجد پڑھی تو اس کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا، اس کے بھی گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے ۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven. And whoever spends the night of Lailat Al-Qadr in prayer out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5027
طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی گنگناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: دن رات میں پانچ وقت کی نماز ، اس نے کہا: اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں میرے اوپر؟ آپ نے فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل (سنت) پڑھنا چاہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے ، اس نے کہا: میرے اوپر اس کے علاوہ کچھ اور بھی روزے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل ادا کرو ، اور پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: میرے اوپر اس کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل دینا چاہو ، پھر وہ منہ موڑ کر چلا اور کہہ رہا تھا: نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ کامیاب ہوا ۔
Abu Suhail narrated from his father,: That he heard Talhah bin Ubaidullah say: "A man from Najd with unkempt hair came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); he was speaking loudly but his speech could not be understood until he came close. He was asking about Islam. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Five prayers every day and night. He said: Do I have to do any more than that? He said: No, not unless you do it voluntarily. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Fasting the month of Ramadan. He said: Do I have to do any more than that? He said: No, not unless you do it voluntarily. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told him about Zakah. He said: Do I have to do any more than that? He said: No, not unless you do it voluntarily. The man left saying, I will not do any more than that or any less. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He will succeed, if he is telling the truth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5028
Notes · وضاحت
١ ؎: زکاۃ بھی ایمان کے ارکان اور پہچان میں سے ہے اس لیے مؤلف نے یہ عنوان قائم کیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کی راہ میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا صرف اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے اور اس کی راہ میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ نے ایسے شخص کی) ضمانت اپنے ذمہ لے لی ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی طبعی موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا ۔
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Allah has promised the one who goes out in His cause and does not go out except with faith in Me and for Jihad in My cause, that he is guaranteed to enter Paradise no matter how, either he is killed, or he dies, or he will be brought back to his home from which he departed having acquired whatever he acquired of reward or spoils of war.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5029
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے اس شخص کی جو اس کے راستے میں نکلا ہو اور اس کا یہ نکلنا جہاد کے مقصد سے، اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے ہو تو وہ ضامن ہے اس کا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے وطن لوٹا دے جہاں سے وہ نکلا تھا اس اجر یا مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو جو بھی ملا ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah, the Mighty and Sublime, has guaranteed to the one who goes out in His cause, and he does not go out for any other purpose except Jihad in My cause and faith in Me, believing in My Messengers, but he is guaranteed that I will admit him to Paradise or I will send him back to his dwelling from which he set out, having acquired whatever he acquired of reward or spoils of war.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5030
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بنی عبدقیس کا وفد آیا، تو ان لوگوں بت کہا: ہم لوگ قبیلہ ربیعہ سے ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں کے علاوہ کبھی نہیں آسکتے تو آپ ہمیں کچھ باتوں کا حکم دیجئیے جو ہم آپ سے سیکھیں اور جو ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں اسے ان تک پہنچا سکیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: اللہ پر ایمان۔ پھر آپ نے اس کی تشریح کی کہ ایک تو گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں - دوسرے نماز قائم کرنا، تیسرے زکاۃ کی ادائیگی، چوتھے یہ کہ مال غنیمت کا پانچواں (خمس) مجھے لا کردینا، اور میں تمہیں روکتا ہوں: (تمبی) کدو کے بنے پیالے، لاکھی (سبز رنگ) کے برتنوں، لکڑی کے برتنوں اور تار کول ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The delegation of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: We are a group of people from (the tribe of) Rabiah, and we can only reach you during the sacred month. Tell us something that we can take from you and to which we may call those who are behind us. He said: I command you to do four things and I forbid you from four: Faith in Allah- and he explained that to them- bearing witness that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah, and giving me one-fifth (the Khumus) of the spoils of war you acquire. And I forbid you from Ad-Dubba, Al-Hantam, Al-Muqayyir, and Al-Muzaffat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5031
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں وارد الفاظ میں دباء، حنتم، مزفت، نقیر، مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا تاکہ لوگ شراب سے بالکل دور ہوجائیں اور اس حرام چیز کو اپنی زندگی سے مکمل طور پر خارج کردیں، یہ حکم سد باب کے طور پر تھا، جب مسلمان اس وبا سے دور ہوگئے تو ان برتنوں کے استعمال کی اجازت ہوگئی، بریدہ اسلمی ؓ کی روایت میں ہے كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء اس حدیث کی رو سے اب سابقہ نہی کا حکم منسوخ ہوگیا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان کے جنازے کے پیچھے جائے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے، اس کی نماز جنازہ ادا کرے پھر قبر میں رکھے جانے تک انتظار کرے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ایک قیراط جبل احد کی طرح ہوگا، اور جس نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور لوٹ آیا تو اسے صرف ایک قیراط ثواب ملے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever follows the funeral procession of a Muslim out of faith and in the hope of reward, then offers the funeral prayer for him and waits until he is placed in his grave, then he will have two Qirats, each of which is like Mount Uhud. Whoever offers the funeral prayer for him then returns, he will have one Qirat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5032
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا، جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، (یعنی اس کو یہ نصیحت کرنی چھوڑ دو ) شرم و حیاء تو ایمان میں داخل ہے ۔
It was narrated from Salim, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a man who was censuring his brother about modesty. He said: "Let him be, for modesty is part of faith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5033
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دین آسان ہے اور جو دین میں (عملی طور پر) سختی برتے گا تو دین اس پر غالب آجائے گا (اور اسے تھکا دے گا) لہٰذا صحیح راستے پر چلو (اگر مکمل طور سے عمل نہ کرسکو تو کم از کم) دین سے قریب رہو، لوگوں کو دین کے معاملے میں خوش رکھو (نفرت نہ پیدا کرو) انہیں آسانی دو اور صبح و شام اور کچھ رات گئے کی مدد سے اللہ کی عبادت کرو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Indeed, this religion is easy, and no one will ever overburden himself in religion, except that it will overcome him. So seek what is appropriate, and come as close as you can, and receive the glad tidings (that you will be rewarded), and take it easy; and gain strength by worshipping in the mornings, afternoons, and during the last hours of the nights.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5034
Notes · وضاحت
١ ؎: ان اوقات سے مدد طلب کرنے کا مطلب ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ کہا: فلانی ہے، یہ سوتی نہیں، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں، آپ نے فرمایا: ایسا مت کرو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے ۔
It was narrated from Aishah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon her and there was a woman with her. He said: "Who is this?" She said: "So-and-so; she does not sleep"- she mentioned her excessive praying. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah, the Mighty and Sublime, does not get tired. The most beloved religion to Him is that in which a person persists.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5035
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش ہونے کی جگہوں میں چلا جائے گا، وہ اس طرح فتنوں سے اپنے دین کو بچائے گا ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) said: Soon the best wealth of a Muslim will be the sheep which follows in the mountain peaks and places where rainfall is to be found, fleeing with his religion from the tribulations.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5036
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٢ (١٩)، بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٠)، المناقب ٢٥ (٣٦٠٠)، الرقاق ٣٤ (٦٤٩٥)، سنن ابی داود/الفتن ١٤(٤٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٠٣)، موطا امام مالک/الاستئذان ٦ (١٦)، مسند احمد (٣/٦، ٣٠، ٤٣، ٥٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے ۔
It was narrated from Ibn Umar that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The parable of the hypocrite is that of a sheep that hesitates between two flocks, sometimes following one, and sometimes following another, not knowing which to follow.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5037
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کے مانند ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ (خوشبودار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا تھوہڑ (اندرائن) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ۔
Abu Musa Al-Ashari said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The parable of the believer who recites the Quran is that of a citron, the taste and smell of which are good. The parable of a believer who does not read the Quran is that of a date, the taste of which is good but it has no smell. The parable of a hypocrite who reads the Quran is that of basil, the smell of which is good but its taste is bitter. And the parable of a hypocrite who does not read the Quran is that of a colocynth (bitter-apple), the taste of which is bitter and it has no smell.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5038
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) said: "None of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5039