کتاب ایمان اور اس کے ارکان

Sunan An Nasai · Chapter 47 · 55 hadiths · Page 2 of 3

5008Sunan An Nasai

ایمان کی شاخیں

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَوْضَعُهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، ان میں سب سے سب سے بہتر لا الٰہ الا اللہ اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے، اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Faith has seventy-odd branches, the most virtuous of which is La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and the least of which is removing something harmful from the road. And modesty (Al-Haya) is a branch of faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5005
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5009Sunan An Nasai

ایمان کی شاخیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حیاء (شرم) ایمان کی ایک شاخ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Modesty (Al-Haya) is a branch of Faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5006
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٠٧ (صحیح )
5010Sunan An Nasai

اہل ایمان کا ایک دوسرے سے بڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ.

نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمار کا ایمان ہڈیوں کے پوروں تک بھر گیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shurahbil,: That one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Ammars heart overflows with Faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5007
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عمار ؓ کا ایمان بعض لوگوں سے زیادہ تھا، اس سے ایک دوسرے کا ایمان میں کم و بیش ہونا ثابت ہوا، سلف کا یہی عقیدہ ہے کہ ایمان میں کمی زیادتی خود ہر آدمی کے حساب سے بھی ہوتی ہے، نیز ایک دوسرے کے مقابلے میں بھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٣) (صحیح )
5011Sunan An Nasai

اہل ایمان کا ایک دوسرے سے بڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب بری بات دیکھے تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ دور کر دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ذریعہ اس کو دور کر دے، یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے ١ ؎۔

Abu Saeed said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever among you sees an evil, let him change it with his hand; if he cannot, then with his tongue; if he cannot, then with his heart- and that is the weakest of Faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5008
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے یعنی جو دل کے ذریعہ برائی کو ختم کرے گا وہ ہاتھ اور زبان کے ذریعہ برائی کو دور کرنے والے سے ایمان میں کم ہوگا اور دل کے ذریعہ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو برا جانے اور اس سے دور رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٠ (٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٨ (١١٤٠)، الملاحم ١٧ (٤٣٤٠)، سنن الترمذی/الفتن ١١ (٢١٧٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٥ (١٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥)، مسند احمد (٣/١٠، ٢٠، ٤٩، ٥٤، ٩٢) (صحیح )
5012Sunan An Nasai

اہل ایمان کا ایک دوسرے سے بڑھنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَغَيَّرَهُ بِيَدِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَغَيَّرَهُ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِلِسَانِهِ فَغَيَّرَهُ بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس کسی نے برائی دیکھی پھر اسے اپنے ہاتھ سے دور کردیا تو وہ بری ہوگیا، اور جس میں ہاتھ سے دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے زبان سے دور کردی ہو تو وہ بھی بری ہوگیا، اور جس میں اسے زبان سے بھی دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے اسے دل سے دور کیا ١ ؎ تو وہ بھی بری ہوگیا اور یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے ۔

It was narrated that Tariq bin Shihab said: "Abu Saeed Al-Khudri said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever among you sees an evil and changes it with his hand, then he has done his duty. Whoever is unable to do that, but changes it with his tongue, then he has done his duty. Whoever is unable to do that, but changes it with his heart, then he has done his duty, and that is the weakest of Faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5009
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے برا سمجھا، اور اس سے دور رہا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5013Sunan An Nasai

ایمان میں کمی بیشی سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ، قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ، قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ، قَالَ: فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا، قَالَ: وَيَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ، حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ، فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ إِلَى عَظِيمًا سورة النساء آية 48.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا دنیاوی حق کے سلسلے میں جھگڑا اس جھگڑے سے زیادہ سخت نہیں جو مومن اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں کے سلسلے میں کریں گے جو جہنم میں داخل کردیے گئے ہوں گے، وہ کہیں گے: ہمارے رب! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز ادا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے پھر بھی تو نے انہیں جہنم میں ڈال دیا۔ وہ کہے گا: جاؤ اور ان میں سے جنہیں تم جانتے ہو نکال لو، چناچہ وہ ان کے پاس آئیں گے اور انہیں ان کی شکلوں سے پہچان لیں گے، ان میں سے بعض ایسے ہوں گے جو آدھی پنڈلی تک جلے ہوئے ہوں گے اور بعض ایسے کہ ٹخنوں تک جلے ہوں گے، چناچہ وہ انہیں نکالیں گے تو وہ کہیں گے: ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا ہم نے انہیں نکال لیا، وہ کہے گا: جس کے دل میں ایک دینار برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لو، پھر کہے گا: جس کے دل میں آدھا دینار برابر ایمان ہو یہاں تک کہ کہے گا: جس کے دل میں ذرے کے وزن بھر ایمان ہو ۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: جسے یقین نہ ہو تو وہ یہ آیت: إن اللہ لا يغفر أن يشرک به ويغفر ما دون ذلک لمن يشائ سے عظيما یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دیتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا (النساء: ٤٨ ) تک پڑھے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No one of you disputes more intensely for something that is rightly his in this world, than the believers will dispute with their Lord for their brothers who have entered the Fire. They will say: Our Lord, our brothers used to pray with us and fast with us, and perform Hajj with us, and you have caused them to enter the Fire? He will say: Go and bring forth whomever you recognize among them. So they will go to them, and will recognize them by their appearances. Among them will be those who have been seized by the Fire up to the middle of their shins, and some among them those whom it has taken up to his ankles. They will bring them forth, then they will say: Our Lord, we have brought forth those whom You commanded us (to bring forth). He will say: Bring forth everyone in whose heart is faith the weight of a Dinar. Then He will say: Everyone in whose heart is faith the weight of half a Dinar, until He will say: In whose heart is faith the weight of the smallest speck." Abu Saeed said: "Whoever does not believe this, let him read the Verse: Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that (anything else) to whom He wills up to a tremendous (sin).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5010
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٧٨)، مسند احمد (٣/٩٤-٩٥) (صحیح )
5014Sunan An Nasai

ایمان میں کمی بیشی سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، قَالَ: فَمَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: الدِّينَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ اسی دوران میں نے خواب دیکھا کہ لوگ مجھ پر پیش کئے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک ہے، بعض کی اس سے نیچے ہے اور میرے سامنے عمر بن خطاب کو پیش کیا گیا، وہ ایسی قمیص پہنے ہوئے تھے جسے وہ گھسیٹ رہے تھے ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دین ١ ؎۔

Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: While I was sleeping, I saw the people being shown to me, and they were wearing shirts. Some reached the breast and some reached lower than that. And Umar bin Al-Khattab was shown to me, and he was wearing a shirt that he was dragging; They said: How do you interpret that, O Messenger of Allah? He said: The religion.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5011
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کا ایمان ان کے جسم میں کامل شکل میں رچا بسا ہوا ہے، یہی نہیں بلکہ ان کا ایمان اوروں کی نسبت سے زیادہ پختہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٥ (٢٣)، فضائل الصحابة ٦ (٣٦٩١)، التعبیر ١٧ (٧٠٠٨)، ١٨ (٧٠٠٩)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٩٠)، سنن الترمذی/الرؤیا ٩(٢٢٨٥، ٢٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ٣٩٦١)، مسند احمد (٣/٨٦)، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢١٩٧) (صحیح )
5015Sunan An Nasai

ایمان میں کمی بیشی سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: أَيُّ آيَةٍ ؟، قَالَ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَأَعْلَمُ الْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، وَالْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ.

طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ یہود کا ایک یہودی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آ کر بولا: امیر المؤمنین! آپ کی کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے، اگر وہ ہم یہودیوں پر اترتی تو (جس روز اترتی) ہم اسے عید کا دن بنا لیتے، کہا: کون سی آیت؟ یہودی بولا: اليوم أکملت لکم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا آج کے دن میں نے تمہارا دین پورا کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا (المائدہ: ٣ ) ۔ عمر ؓ نے کہا: مجھے وہ مقام جہاں یہ اتری وہ مقام معلوم ہے، وہ دن معلوم ہے جب یہ نازل ہوئی، یہ جمعہ کے دن عرفات میں رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔

It was narrated that Tariq bin Shihab said: "A Jewish man came to Umar bin Al-Khattab and said: O Commander of the Believers! There is a Verse in your Book which you recite; if it had been revealed to us Jews we would have taken that day as a festival. He said: Which Verse is that? He said: This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion. Umar said: I know the place where it was revealed and the day on which it was revealed. It was revealed to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) at Arafat, on a Friday.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5012
Notes · وضاحت
یہ آیت بھی ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے پر دلالت کرتی ہے، اس طرح کہ دین اسلام دیگر ادیان کے مقابلے میں کامل ہے، اور کامل کا ضد ناقص ہوتا ہے، تو اہل اسلام کا ایمان اگلی امتوں سے زیادہ ہوا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٠٥ (صحیح )
5016Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے اپنے بال بچوں، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہوجاؤں ١ ؎۔

It was narrated from Qatadah that: He heard Anas say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: None of you has believed until I am dearer to him than his son, his father and all the people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5013
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اور باب کی دیگر حدیثوں میں جن جن اعمال کا بطور ایمان کی نشانی ذکر کیا گیا ہے وہ سب دل میں بیٹھے پختہ ایمان کا ہی نتیجہ ہیں اس لیے ان کو ایمان کی نشانی کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٨ (١٥)، صحیح مسلم/الإیمان ١٦ (٤٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٩)، مسند احمد (٣/١٧٧، ٢٠٧، ٢٧٥، ٢٧٨)، سنن الدارمی/الرقاق ٢٩ (٢٧٨٣) (صحیح )
5017Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ. ح وَأَنْبَأَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ وَأَهْلِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے بیوی بچوں، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہوجاؤں ۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: None of you has believed until I am dearer to him than his family, his wealth and all the people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5014
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٨ (١٥)، صحیح مسلم/الإیمان ١٦ (٤٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣، ١٠٤٧) (صحیح )
5018Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، مِمَّا ذُكِرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے بال بچے اور اس کے ماں باپ سے زیادہ اسے محبوب نہ ہوجاؤں ۔

Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "By the One in Whose hand is my soul, none of you has believed until I am dearer to him than his son or his father.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5015
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٨ (١٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٣٤) (صحیح )
5019Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔

It was narrated that Qatadah said: "I heard Anas say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said (Humaid bin Masdah said in his Hadith: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said): None of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5016
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٧ (١٣)، صحیح مسلم/الإیمان ١٧ (٤٥)، سنن الترمذی/الزہد ١٢٤ (القیامة ٥٩) (٢٥١٥)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٩)، مسند احمد (٣/١٧٦، ٢٧٢، ٢٧٨، سنن الدارمی/الرقاق ٢٩ (٢٧٨٢)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٠٤٢ (صحیح )
5020Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ الْمُعَلِّمُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے ۔

It was narrated from Anas that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, none of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself of goodness.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5017
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٧ (١٣ م)، صحیح مسلم/الإیمان ١٧ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٣)، مسند احمد (٣/٢٠٦، ٢٥١، ٢٨٩) (صحیح )
5021Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنَّهُ: لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغُضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی امّی ﷺ نے سے مجھ سے عہد کیا کہ تم سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، اور تم سے صرف منافق ہی بغض رکھے اور نفرت کرے گا ۔

It was narrated that Zirr said: Ali said: "The Unlettered Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) made a covenant with me, that none but a believer would love me, and none but a hypocrite would hate me.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5018
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٨)، سنن الترمذی/المناقب ٢١ (٣٧٣٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٢)، مسند احمد (١/٨٤، ٩٥، ١٢٨)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٠٢٥ (صحیح )
5022Sunan An Nasai

ایمان کی علامت

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ الْإِيمَانِ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ آيَةُ النِّفَاقِ.

انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اور انصار سے نفرت نفاق کی نشانی ہے ۔

It was narrated from Anas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Love for Ansar is a sign of Faith, and hatred for Ansar is a sign of hypocrisy.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5019
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٠ (١٧)، مناقب الأنصار ٤ (٣٧٨٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٣)، مسند احمد (٣/١٣٠، ١٣٤، ٢٤٩) (صحیح )
5023Sunan An Nasai

منافق کی علامات

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَن سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرْبَعَةٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا، أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ الْأَرْبَعِ، كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس میں چار چیزیں ہوں، وہ منافق ہے، یا ان چار میں سے کوئی ایک خصلت (عادت) ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، عہد و پیمان کرے تو توڑ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are four (traits), whoever has them is a hypocrite and whoever has one of them, then has one of the traits of hypocrisy, until he gives it up: When he speaks, he lies; when he makes a promise, he breaks it; when he makes a covenant, he betrays it; and when he argues, he resorts to foul language.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5020
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٢٤ (٣٤)، المظالم ١٧ (٢٤٥٩)، الجزیة ١٧ (٣١٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٥ (٥٨)، سنن ابی داود/السنة ١٦ (٤٤٨٨)، سنن الترمذی/الإیمان ١٤ (٢٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ٨٩٣١)، مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٨) (صحیح )
5024Sunan An Nasai

منافق کی علامات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آيَةُ النِّفَاقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نفاق کی تین علامتیں (نشانیاں) ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The signs of the hypocrite are three: When he speaks, he lies; when he makes a promise he breaks it; and when he is entrusted with something, he betrays (that trust).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5021
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٤ (٣٣)، الشہادات ٢٨ (٢٦٨٢)، الوصایا ٨ (٢٧٤٩)، الأدب ٦٩ (٦٠٩٥)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٥ (٥٩)، سنن الترمذی/الإیمان ١٤ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٤١)، مسند احمد (٢/٣٥٧) (صحیح )
5025Sunan An Nasai

منافق کی علامات

أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ لَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغُضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے عہد کیا کہ مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا، اور مجھ سے بغض و نفرت صرف منافق کرے گا ۔

It was narrated that Ali said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) made a covenant with me that none would love me but a believer, and none would hate me but a hypocrite.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5022
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٢١ (صحیح )
5026Sunan An Nasai

منافق کی علامات

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْأَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، فَمَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ تَزَلْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَتْرُكَهَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ تین باتیں جس شخص میں ہوں، وہ منافق ہے: جب بات چیت کرے تو جھوٹ بولے، جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک عادت ہو تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔

It was narrated that Abu Wail said: "Abdullah said: There are three (traits), whoever has them is a hypocrite: When he speaks, he lies; when he is entrusted with something, he betrays that trust; and when he makes a promise, he breaks it. Whoever has one of these (traits) then a trait of hypocrisy has not ceased in him, until he leaves it." (Sahih Mawquf)

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5023
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٣٠٩ ألف) (صحیح الإسناد )
5027Sunan An Nasai

رمضان المبارک میں عبادت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا (یعنی تراویح پڑھی) کی تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever stands (in he voluntary night prayer of) the Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5024
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٠٤ (صحیح )