ایمان کی علامت
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے اپنے بال بچوں، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہوجاؤں ١ ؎۔
It was narrated from Qatadah that: He heard Anas say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: None of you has believed until I am dearer to him than his son, his father and all the people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5013
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اور باب کی دیگر حدیثوں میں جن جن اعمال کا بطور ایمان کی نشانی ذکر کیا گیا ہے وہ سب دل میں بیٹھے پختہ ایمان کا ہی نتیجہ ہیں اس لیے ان کو ایمان کی نشانی کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٨ (١٥)، صحیح مسلم/الإیمان ١٦ (٤٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٩)، مسند احمد (٣/١٧٧، ٢٠٧، ٢٧٥، ٢٧٨)، سنن الدارمی/الرقاق ٢٩ (٢٧٨٣) (صحیح )