کتاب ایمان اور اس کے ارکان

Sunan An Nasai · Chapter 47 · 55 hadiths · Page 1 of 3

4988Sunan An Nasai

افضل اعمال

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ مِنْ لَفْظِهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked: "Which deed is best?" "He said: Faith in Allah [SWT] and His messenger (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4985
Notes · وضاحت
١ ؎: ایمان کے لغوی معنیٰ تصدیق کے ہیں اور شرع کی اصطلاح میں ایمان یہ ہے : زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور اعضاء وجوارح سے عمل کرنا، نیز ایمان کا طاعت و فرمانبرداری سے بڑھنا اور عصیان و نافرمانی سے گھٹنا سلف کا عقیدہ ہے۔ اور ایمان سب سے بہتر عمل اس لیے ہے کہ تمام اچھے اور نیک اعمال و افعال کا دارومدار ایمان ہی پر ہے، اگر ایمان نہیں ہے تو کوئی بھی نیک عمل مقبول نہیں ہوگا، بہت سی احادیث میں مختلف اعمال کو أفضل عمل سب سے اچھا کام ) بتایا گیا ہے، تو ( ایمان کے بعد ) پوچھنے والے یا پوچھے جانے کے وقت کے خاص حالات اور پس منظر کے لحاظ سے جواب دیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٨ (٢٦)، الحج ٤(١٥١٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٦ (٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٣١٠١)، مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٨٧، ٣٤٨، ٣٨٨، ٥٣١)، سنن الدارمی/الجہاد ٤ (٢٤٣٨) (صحیح )
4989Sunan An Nasai

افضل اعمال

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ: إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ.

عبداللہ بن حبشی خثعمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، اور ایسا جہاد جس میں چوری نہ ہو، اور حج مبرور ۔

It was narrated from Abdullah bin Hubshi Al-Khathami that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked: "Which deed is best?" He said: "Faith in which there is no doubt, Jihad in which there is no Ghulul, and Hajjatun Mabrurah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4986
Notes · وضاحت
١ ؎: مقبول حج جس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد گناہوں سے بچا جائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٢٧ (صحیح )
4990Sunan An Nasai

ایمان کا مزہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ وَطَعْمَهُ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ فِي اللَّهِ، وَأَنْ يَبْغُضَ فِي اللَّهِ، وَأَنْ تُوقَدَ نَارٌ عَظِيمَةٌ فَيَقَعَ فِيهَا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں گی، وہ ایمان کی مٹھاس اور اس کا مزہ پائے گا، ایک یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں، دوسرے یہ کہ آدمی محبت کرے تو اللہ کے لیے اور نفرت کرے تو اللہ کے لیے، تیسرے یہ کہ اگر بڑی آگ بھڑکائی جائے تو اس میں گرنا اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہو بہ نسبت اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are three things, whoever attains them will find therein the sweetness of faith: When Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), the Mighty and Sublime, and His Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) are dearer to him than all else; when he loves for the sake of Allah and hates for the sake of Allah; and when a huge fire be lit and he fall into it, than associate anything with Allah (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4987
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی روایت میں ایمان کی مٹھاس ہے اور کسی میں اسلام کی مٹھاس ایسی جگہوں میں ایمان اور اسلام دونوں کا معنی مطلب ایک ہے یعنی دین اسلام، اور جہاں دونوں لفظ ایک سیاق میں آئیں تو دونوں کا معنی الگ الگ ہوتا ہے۔ (جیسے حدیث نمبر ٤٩٩٣ میں)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٢٨)، مسند احمد (٣/٢٠٧، ٢٧٨) (صحیح )
4991Sunan An Nasai

ایمان کے ذائقہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ أَحَبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ.

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا، ایک یہ کہ جو کسی آدمی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے، دوسرے یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ہر ایک سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں اور تیسرے یہ کہ آگ میں گرنا اس کے لیے زیادہ محبوب ہو بہ نسبت اس کے کہ وہ کفر کی طرف لوٹے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے نجات دے دی ۔

It was narrated that Qatadah said: "I heard Anas bin Malik (RA) narrating that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are three things, whoever attains them will find therein a sweetness of faith: When he loves a person, and only loves him for the sake of Allah; when Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and His Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) are dearer to him than all else; and when he would prefer to be thrown into the fire rather to go back to the disbelief from which Allah has saved him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4988
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٩ (٢١)، ١٤(٢١)، الأدب ٤٢ (٦٠٤١) الإکراہ ١ (٦٩٤١)، صحیح مسلم/الإیمان ١٥(٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥)، مسند احمد ٣/١٧٢، ٢٤٨، ٢٧٥) (صحیح )
4992Sunan An Nasai

اسلام کی شیر ینی

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِسْلَامِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ.

انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں جس میں پائی جائیں گی وہ اسلام کی مٹھاس پائے گا، ایک یہ کہ جس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ جو آدمی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، تیسرے یہ کہ کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے ۔

It was narrated from Anas that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three things, whoever attains them will find therein the sweetness of Islam: When Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and His Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) are dearer to him than all else; when he loves a person and only loves him for the sake of Allah; and when he would hate to go back to disbelief as much as he would hate to be thrown into the fire.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4989
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٩٨) (صحیح )
4993Sunan An Nasai

اسلام کی تعریف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاه، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ، قَالَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا ؟ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، قَالَ: عُمَرُ فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُمَرُ، هَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ ؟، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَاكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ أَمْرَ دِينِكُمْ.

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا، جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے، اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا اور اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا، اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھی، پھر کہا: محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، رمضان کے روزے رکھنا، اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا ، وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا، ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ خود ہی آپ سے سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی اس کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور ہر اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا ١ ؎۔ وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے ٢ ؎۔ وہ بولا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ اس نے کہا: اچھا تو مجھے اس کی نشانی بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک یہ کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ٣ ؎۔ دوسرے یہ کہ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے بڑے بڑے محل تعمیر کریں گے ۔ عمر ؓ کہتے ہیں: میں تین (دن) تک ٹھہرا رہا ٤ ؎، پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر! تم جانتے ہو پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے، وہ تمہیں تمہارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے ۔

Abdullah bin Umar said: "Umar bin Al-Khattab told me: While we were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one day, a man appeared before us whose clothes were exceedingly white and whose hair was exceedingly black. We could see no signs of travel on him, but none of us knew him. He came and sat before the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), putting his knees against his, and placing his hands on his thighs, then he said: "O Muhammad, tell me about Islam." He said: "It is to bear witness that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) is the Messenger of Allah, to establish the Salah, to give Zakah, to fast Ramadan, and to perform Hajj to the House if you are able to bear the journey." He said: "You have spoken the truth." And we were amazed by his asking him, and then saying, "You have spoken the truth". Then he said: "Tell me about Faith." He said: "It is to believe in Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), His Angels, His Books, His Messengers, the Last Day, and in the Divine Decree, its good and its bad." He said: "You have spoken the truth." He said: "Tell me about Al-Ihsan." He said: "It is to worship Allah as if you can see Him, for although you cannot see Him, He can see you." He said: "Tell me about the Hour." He said: "The one who is asked about it does not know more about it than the one who is asking." He said: "Then tell me about its signs." He said: "When a slave woman gives birth to her mistress, when you see the barefoot, naked, destitute shepherds competing in making tall buildings." Umar said: Three (days) passed, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: "O Umar, do you know who the questioner was?" I said: "Allah and His Messenger know best." He said: "That was Jibril, peace be upon him, who came to you to teach you your religion.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4990
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس نے ہر اس چیز کا اندازہ مقرر فرما دیا ہے اب ہر چیز اسی اندازے کے مطابق اس کے پیدا کرنے سے ہو رہی ہے کوئی چیز اس کے ارادے کے بغیر نہیں ہوتی۔ ٢ ؎: یعنی: اگر یہ کیفیت طاری نہ ہو سکے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو یہ تو یقین جانو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے، اس لیے اسی کیفیت میں عبادت کرو۔ ٣ ؎: اس کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ چھوٹے بڑے کا فرق مٹ جائے گا، اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرنے لگے گی۔ ٤ ؎: تین دن، تین ساعت یا تین رات یا چند لمحے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ١(٨)، سنن ابی داود/السنة ١٧ (٤٦٩٥، ٤٦٩٦)، سنن الترمذی/الإیمان ٤ (٢٦١٠)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٢٠)، مسند احمد (١/٢٧، ٢٨، ٥١، ٥٢) (صحیح )
4994Sunan An Nasai

ایمان اور اسلام کی صفت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأبِي ذَرٍ، قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ، فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلَا يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ ؟ حَتَّى يَسْأَلَ، فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ، فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ، وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِهِ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ، حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: ادْنُهْ فَمَا زَالَ، يَقُولُ: أَدْنُو مِرَارًا، وَيَقُولُ لَهُ: ادْنُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ صَدَقْتَ أَنْكَرْنَاهُ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَالْكِتَابِ، وَالنَّبِيِّينَ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ: فَنَكَسَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، وَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا عَلَامَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا إِذَا رَأَيْتَ الرِّعَاءَ الْبُهُمَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ مُلُوكَ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا خَمْسٌ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34، ثُمَّ قَالَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ هُدًى وَبَشِيرًا مَا كُنْتُ بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ، وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام نَزَلَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.

ابوہریرہ اور ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے درمیان اس طرح بیٹھتے تھے کہ اجنبی آتا تو آپ کو پہچان نہیں پاتا جب تک پوچھ نہ لیتا، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے خواہش ظاہر کی کہ ہم آپ کے بیٹھنے کی جگہ بنادیں تاکہ جب کوئی اجنبی شخص آئے تو آپ کو پہچان لے، چناچہ ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھتے تھے۔ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پر بیٹھے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا، جس کا چہرہ سب لوگوں سے اچھا تھا، جس کے بدن کی خوشبو سب لوگوں سے بہتر تھی، گویا کپڑوں میں میل لگا ہی نہ تھا، اس نے فرش کے کنارے سے سلام کیا اور کہا: السلام علیک یا محمد اے محمد! آپ پر سلام ہو، آپ نے سلام کا جواب دیا، وہ بولا: اے محمد! کیا میں نزدیک آؤں؟ آپ نے فرمایا: آؤ، وہ کئی بار کہتا رہا: کیا میں نزدیک آؤں؟ اور آپ ﷺ اس سے فرماتے رہے: آؤ، آؤ، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ آپ کے دونوں گھٹنوں کے اوپر رکھا۔ وہ بولا: اے محمد! مجھے بتائیے، اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز ادا کرو، زکاۃ دو، بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔ وہ بولا: جب میں ایسا کرنے لگوں تو کیا میں مسلمان ہوگیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی کہ آپ نے سچ کہا تو ہمیں عجیب لگا (خود ہی سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی) ۔ وہ بولا: محمد! مجھے بتائیے، ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر ایمان رکھنا اور تقدیر پر ایمان لانا ، وہ بولا: کیا اگر میں نے یہ سب کرلیا تو میں مومن ہوگیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، وہ بولا: آپ نے سچ کہا۔ پھر بولا: محمد! مجھے بتائیے، احسان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ وہ بولا: آپ نے سچ کہا۔ پھر بولا: محمد! مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ یہ سن کر آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سوال دہرایا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر سوال دہرایا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ قیامت کے آنے کے متعلق سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ البتہ اس کی کچھ نشانیاں ہیں جن سے تم جان سکتے ہو: جب تم دیکھو کہ جانوروں کو چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں اور دیکھو کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے زمین کے بادشاہ ہو رہے ہیں، اور دیکھو کہ غلام عورت اپنے مالک کو جنم دے رہی ہے (تو سمجھ لو کہ قیامت نزدیک ہے) ، پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر آپ نے إن اللہ عنده علم الساعة اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے (سورة لقمان: 34) سے لے کر إن اللہ عليم خبير اللہ علیم (ہر چیز کا جاننے والا) اور خبیر (ہر چیز کی خبر رکھنے والا) ہے کی تلاوت کی، پھر فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے محمد کو حق کے ساتھ ہادی و بشارت دینے والا بنا کر بھیجا، میں اس کو تم میں سے کسی شخص سے زیادہ نہیں جانتا، وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو دحیہ کلبی کی شکل میں آئے تھے۔

It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: Peace be upon you, O Muhammad! He returned the greeting, and he said: Shall I come closer, O Muhammad? He came a little closer, and he kept telling him to come closer, until he put his hands on the knees of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: O Muhammad, tell me, what is Islam? He said: Islam means to worship Allah and not associate anything with Him; to establish Salah, to pay Zakah, to perform Hajj to the House, and to fast Ramadan. He said: If I do that, will I have submitted (be a Muslim)? He said: Yes. He said: You have spoken the truth, we found it odd. He said: O Muhammad, tell me, what is faith? He said: To believe in Allah, His Angels, the Book, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s, and to believe in the Divine Decree. He said: If I do that, will I have believed? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes. He said: You have spoken the truth. He said: O Muhammad, tell me, what is Al-Ihsan? He said: To worship Allah [SWT] as if you can see Him, for although you cannot see Him, He can see you. He said: You have spoken the truth. He said: O Muhammad, tell me about the Hour. He lowered his head and did not answer. Then he repeated the question, and he did not answer. Then he repeated the question (a third time) and he did not answer. Then he raised his head and said: The one who is being asked does not know more than the one who is asking. But it has signs, by which it may be known. When you see the herdsmen competing in building tall buildings, when you see the barefoot and naked ruling the Earth, when you see a woman giving birth to her mistress. Five things which no one knows except Allah Verily, Allah, with Him (alone) is the knowledge of the Hour up to His saying: Verily, Allah is All-Knower, All-Aware (of things). Then he said: No, by the One who sent Muhammad with the truth, with guidance and glad tidings, I did not know him more than any man among you. That was Jibril, peace be upon you, who came down in the form of Dihyah Al-Kalbi.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4991
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ١٧ (٤٦٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٠٢) (صحیح )
4995Sunan An Nasai

آیت|"قالت الاعراب اٰمنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا|" کی تفسیر

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمٌ، حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَوْ مُسْلِمٌ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو عطیہ دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا، سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو کچھ نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے؟ تو نبی آپ نے فرمایا: بلکہ وہ مسلم ہے ١ ؎، سعد ؓ نے تین بار دہرایا (یعنی وہ مومن ہے) اور نبی اکرم ﷺ (ہر بار) کہتے رہے: وہ مسلم ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں بعض لوگوں کو عطیہ دیتا ہوں اور بعض ایسے لوگوں کو محروم کردیتا ہوں جو مجھے ان سے زیادہ محبوب ہیں، میں اسے اس اندیشے سے انہیں دیتا ہوں کہ کہیں وہ اپنے چہروں کے بل جہنم میں نہ ڈال دیئے جائیں ٢ ؎۔

It was narrated from Amir bin Sad bin Abi Waqqas that his father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave a share (of some spoils of war) to some men and not to others. Sad said: O Messenger of Allah, you gave to so-and-so and so-and-so, but you did not give anything to so-and-so, and he is a believer. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Or a Muslim, until Sad had repeated it three times, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I give to some men, and leave those who are dearer to me, without giving them anything, lest (the former) be thrown into Hell on their faces.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4992
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ ایمان کی جگہ دل ہے اور وہ کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوسکتا ہے اس لیے کسی کے بارے میں یقینی طور پر یہ دعویٰ کرنا کہ وہ صحیح معنوں میں مومن ہے جائز نہیں اس کو صرف اللہ عالم الغیوب ہی جانتا ہے، اور اسلام چونکہ ظاہری ارکان پر عمل کا نام ہے اس لیے کسی آدمی کو مسلم کہا جاسکتا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے سعد ؓ کو مومن کی بجائے مسلم کہنے کی تلقین کی۔ ٢ ؎: یعنی: جن کو نہیں دیتا ہوں ان کے بارے میں یہ یقین سے جانتا ہوں کہ دینے نہ دینے سے ان کے ایمان میں کچھ فرق پڑنے والا نہیں ہے، اور جن کو دیتا ہوں ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر (تالیف قلب کے طور پر) نہ دوں تو ایمان سے پھر کر جہنم میں جاسکتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٩ (٢٧)، الزکاة ٥٣ (١٤٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٧ (٢٣٦)، الزکاة ٤٥ (٢٣٦)، سنن ابی داود/السنة ١٦ (٤٦٨٣، ٤٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ٣٨٩١)، مسند احمد (١/١٨٢) (صحیح )
4996Sunan An Nasai

آیت|"قالت الاعراب اٰمنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا|" کی تفسیر

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُمَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ قَسْمًا، فَأَعْطَى نَاسًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَمَنَعْتَ فُلَانًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، قَالَ: لَا تَقُلْ، مُؤْمِنٌ وَقُلْ مُسْلِمٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا سورة الحجرات آية 14.

سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال تقسیم کیا تو کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ آپ نے فرمایا: مومن نہ کہو، مسلم کہو ۔ ابن شہاب زہری نے یہ آیت پڑھی: قالت الأعراب آمنا۔

It was narrated from Sad that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) distributed (some spoils of war) and gave to some people but withheld from others. I said: "O Messenger of Allah, you gave to so-and-so and so-and-so, and you withheld from so-and-so, who is a beliver." He said: "Do not say a believer, say a Muslim." Ibn Shihab (one of the narrators) said: The Bedouins say: "We believe"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4993
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4997Sunan An Nasai

آیت|"قالت الاعراب اٰمنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا|" کی تفسیر

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.

بشر بن سحیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق ( ١٠ ، ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذی الحجہ) میں اعلان کردیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہوگا ١ ؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ٢ ؎۔

It was narrated from Bishr bin Suhaim that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded him to call out on the days of At-Tashriq that no one would enter Paradise except a believer, and that these were the days of eating and drinking.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4994
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: جنت میں پہلی مرتبہ ہی داخل ہونے کا شرف کامل ایمان والوں کو ہی حاصل ہوگا۔ ٢ ؎: سال کے سارے ہی دن کھانے پینے کے دن ہوں یہاں مراد یہ ہے کہ خاص طور سے کھانے پینے کے دن ہیں، یعنی ایام تشریق، قربانی کے دن ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٥ (١٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠١٩)، مسند احمد (٣/٤١٥، ٤/٣٣٥)، سنن الدارمی/الصوم ٤٨ (١٨٠٧) (صحیح )
4998Sunan An Nasai

مومن کی صفات سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں اطمینان رکھیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Muslim is the one from whose tongue and hand the people are safe, and the believer is the one from whom the peoples lives and wealth are safe.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4995
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: کامل مسلم وہ ہے جس کے شر و فساد سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، یہاں باب ہے مومن کی صفات اور حدیث میں مسلم کا لفظ ہے، مطلب یہ ہے کہ اسلام اگر حقیقی ہوگا تو وہ ایمان ہی کا مظہر ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ١٢(٢٦٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٤)، مسند احمد (٢/٣٧٩) (حسن، صحیح )
4999Sunan An Nasai

مسلمان کی صفت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (حقیقی اور کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے ۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "The Muslim is the one from whose tongue and hand the Muslims are safe, and the Muhajir is the one who forsakes (Hajara) that which Allah has forbidden to him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4996
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤ (١٠)، الرقاق ٢٦ (٦٤٨٤)، صحیح مسلم/الإیمان ١٤(٤٠)، سنن ابی داود/الجہاد ٢(٢٤٨١)، (تحفة الأشراف: ٨٨٣٤)، مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٢، ١٩٣، ٢٠٣، ٢٠٥، ٢٠٩، ٢١٢، ٢٢٤، سنن الدارمی/الرقاق ٨ (٢٧٥٨) (صحیح )
5000Sunan An Nasai

مسلمان کی صفت سے متعلق

أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكُمُ الْمُسْلِمُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے جیسی نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever prays as we pray, turns to face the same Qiblah as us and eats our slaughtered animals, that is a Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4997
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اعمال اسلام کے مظاہر اور شرائط ہیں۔ یہ حقیقی بھی ہوسکتے ہیں اور بناوٹی بھی، اگر حقیقی ہوں گے تو یہ ایمان کامل کے مظاہر ہوں گے، اور اگر بناوٹی ہوں گے تو نفاقاً ہوگا، اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ جو صرف ان چند متعین اور خاص اعمال کو انجام دے لے وہ مسلمان ہوگیا، یہ باتیں خاص طور پر اس وقت کے یہود و نصاریٰ کے تناظر میں کہی گئی ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے، مسلمانوں کے قبلے کی طرف نماز نہیں پڑھتے تھے، اور نہ ہی مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتے تھے۔ آج کل کی دیگر غیر مسلم قومیں بھی ایسا نہیں کرتیں، اور بعض نام نہاد مسلمان ان سب اعمال کو انجام دے کر بھی شرک میں مبتلا ہیں تو یہ بھی مسلم نہیں ہیں۔ مگر ان کے ساتھ حرب و مقاطعہ جیسے معاملات سو فیصد اس طرح نہیں کیے جائیں گے جس طرح کھلم کھلا کفار و مشرکین کے ساتھ کیے جاتے ہیں، ان کے لیے دعوت الی الحق اور وعظ و نصیحت ہوگی جب کہ یہود و نصاریٰ اور ہنود و مشرکین کے ساتھ جہاد و قتال ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٨ (٣٩١)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠) (صحیح )
5001Sunan An Nasai

کسی انسان کے اسلام کی خوبی

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا، وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا، ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی بندہ اسلام قبول کرلے اور اچھی طرح مسلمان ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر نیکی لکھ لیتا ہے جو اس نے کی ہو اور اس کی ہر برائی مٹا دی جاتی ہے جو اس نے کی ہو، پھر اس کے بعد یوں ہوتا ہے کہ بھلائی کا بدلہ اس کے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے، اور برائی کا بدلہ اتنا ہی ہوتا ہے (جتنی اس نے کی) سوائے اس کے کہ اللہ معاف ہی کر دے (تو کچھ بھی نہیں ہوتا) ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a person accepts Islam, such that his Islam is good, Allah will decree reward for every good deed that he did before, and every bad deed that he did before will be erased. Then after that will come the reckoning; each good deed will be rewarded ten times up to seven hundred times. And each bad deed will be recorded as it is, unless Allah, the Mighty and Sublime, forgives it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4998
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣١ (٤١ تعلیقا)، (تحفة الأشراف: ٤١٧٥) (صحیح )
5002Sunan An Nasai

افضل اسلام کونسا ہے؟

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ وَهَوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: "I said: O Messenger of Allah, whose Islam is most virtuous? He said: The one from whose tongue and hand the Muslims are safe.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4999
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: کون سا مسلمان سب سے اچھا ہے؟ یا اسلام والا کون آدمی سب سے اچھا ہے۔ ٢ ؎: یہ کئی بار گزر چکا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر سائل کے اپنے خاص احوال، یا سوال کے خاص تناظر میں اسی کے حساب سے جواب دیا کرتے تھے، کسی کے لیے کسی عمل پر تنبیہ مقصود تھی تو کسی کے لیے کسی اور عمل کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٥ (١١)، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٤٢)، سنن الترمذی/القیامة ٥٢ (٢٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠٤١) (صحیح )
5003Sunan An Nasai

کونسا اسلام بہترین ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا اسلام سب سے اچھا ہے؟ آپ نے فرمایا: کھانا کھلانا، سلام کرنا ہر شخص کو خواہ جان پہچان کا ہو یا نہ ہو ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "What quality of Islam is best?" He said: "To feed (the poor) and to say the Salam to whomever one knows and whomever one does not know.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5000
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اسلام کا کون سا عمل بہتر اعمال میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٦ (١٢)، ٢٠ (٢٨) الاستئذان ٩ (٦٢٣٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٩)، سنن ابی داود/الأدب ١٤٢ (٥١٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأطمعة ١ (٣٢٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٧)، مسند احمد (٢/١٦٩) (صحیح )
5004Sunan An Nasai

اسلام کی بنیاد کیا ہیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: أَلَا تَغْزُو ؟، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: کیا آپ جہاد نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that: A man said to him: "Why dont you go out and fight?" He said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Islam is built on five (pillars): Testimony that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, giving Zakah, Hajj, and fasting Ramadan.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5001
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ بنیادی باتوں کو میں تسلیم کرچکا ہوں اور جہاد ان میں سے نہیں ہے، جہاد اسباب و مصالح کی بنیاد پر کسی کسی پر فرض عین ہوتا ہے اور ہر ایک پر فرض نہیں ہوتا۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نعوذ باللہ جہاد فی سبیل اللہ کے منکر تھے، بلکہ آپ تو اپنی زندگی میں دسیوں غزوات میں شریک ہوتے تھے، آپ نے مذکورہ بالا جواب:( ١ ) ارکان اسلام کو بیان کرنے کے لیے اور ( ٢ ) سائل کے سوال کی کیفیت کو سامنے رکھ کردیا تھا، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢ (٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٥ (١٦)، سنن الترمذی/الإیمان ٣ (٢٦٠٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤٤)، مسند احمد (٢/٢٦، ٩٣، ١٢٠، ١٤٣) (صحیح )
5005Sunan An Nasai

اسلام پر بیعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، قَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے ، پھر آپ نے سورة الممتحنہ کی آیت پڑھی ١ ؎ پھر فرمایا: تم میں سے جو اپنے اقرار کو پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جو ان میں سے کوئی کام کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے چھپالے تو اب یہ اللہ تعالیٰ پر ہے کہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے ۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in a gathering and he said: Give me your pledge that you will not associate anything with Allah, you will not steal and you will not have unlawful sexual relations- and then he recited the Verse to them. Whoever among you fulfills this pledge, his reward will be with Allah, and whoever commits any of those actions and Allah, the Mighty and Sublime, conceals him, it is up to Allah: If He wills, He will punish him, and if He wills, He will forgive him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5002
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ آیت یہ ہے: يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنك (سورة الممتحنة: 12 )
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٦٦ (صحیح )
5006Sunan An Nasai

لوگوں سے کس بات پر جنگ (قتال) کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہوگئے مگر کسی حق کے بدلے، ان کے لیے وہ سب ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے اور ان پر وہ سب ہے جو مسلمانوں پر ہے۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have been commanded to fight the people until they bear witness that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah ﷺ. If they bear witness that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah ﷺ, they turn to face the same Qiblah as us, they eat our slaughtered animals, and they pray as we pray; then their blood and their wealth are forbidden to us, except for a right that is due, and they have the same rights and duties as the Muslims.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5003
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٧٢ (صحیح )
5007Sunan An Nasai

ایمان کی شاخیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Faith has seventy odd branches and modesty (Al-Haya) is a branch of faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5004
Notes · وضاحت
١ ؎: ستر کا عدد عربوں میں غیر متعین کثیر تعداد کے لیے بولا جاتا تھا، اس سے خاص متعین ستر کا عدد مراد نہیں ہے، اور بضع کا لفظ تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے، اور ایمان کی ان شاخوں میں خاص طور پر حیاء کا تذکرہ اس کی اہمیت جتانے کے لیے کیا ہے کہ حیاء ان ستر اعمال پر ابھارنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس حیاء سے بھی مراد وہی حیاء ہے جو نیک کاموں پر ابھارے، نہ کہ وہ حیاء جو حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے سے روکے، وہ شرعی حیاء ہے ہی نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣ (٩)، صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٥)، سنن ابی داود/السنة ١٥ (٤٦٧٦)، سنن الترمذی/الإیمان ٦ (٢٦١٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٨١٦)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٠٠٨)، ٥٠٠٩) حم ٢/٤١٤، ٤٤٢، ٤٤٥) (صحیح )