Sunan An Nasai 4990

کتاب ایمان اور اس کے ارکان

4990Sunan An Nasai

ایمان کا مزہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ وَطَعْمَهُ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ فِي اللَّهِ، وَأَنْ يَبْغُضَ فِي اللَّهِ، وَأَنْ تُوقَدَ نَارٌ عَظِيمَةٌ فَيَقَعَ فِيهَا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں گی، وہ ایمان کی مٹھاس اور اس کا مزہ پائے گا، ایک یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں، دوسرے یہ کہ آدمی محبت کرے تو اللہ کے لیے اور نفرت کرے تو اللہ کے لیے، تیسرے یہ کہ اگر بڑی آگ بھڑکائی جائے تو اس میں گرنا اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہو بہ نسبت اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are three things, whoever attains them will find therein the sweetness of faith: When Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), the Mighty and Sublime, and His Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) are dearer to him than all else; when he loves for the sake of Allah and hates for the sake of Allah; and when a huge fire be lit and he fall into it, than associate anything with Allah (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4987
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی روایت میں ایمان کی مٹھاس ہے اور کسی میں اسلام کی مٹھاس ایسی جگہوں میں ایمان اور اسلام دونوں کا معنی مطلب ایک ہے یعنی دین اسلام، اور جہاں دونوں لفظ ایک سیاق میں آئیں تو دونوں کا معنی الگ الگ ہوتا ہے۔ (جیسے حدیث نمبر ٤٩٩٣ میں)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٢٨)، مسند احمد (٣/٢٠٧، ٢٧٨) (صحیح )