چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 46 · 115 hadiths · Page 6 of 6

4974Sunan An Nasai

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ، لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے، علانیہ لوٹ کرلے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ (اس کی دلیل اگلی سند ہے )

It was narrated from Sufyan, from Abu Az-Zubair, from Jabir that: the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) robber and pilferer is not to be cut off." (Sahih) Sufyan did not hear it from Abu Az-Zubair.

صحيح لم يسمعه سفيان من أبي الزبيرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4971
Notes · وضاحت
١ ؎: خیانت، اچک لینے اور چھین لینے میں اسی لیے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر یہ ممکن ہے کہ ان کو انجام دینے والوں پر آسانی سے اور جلد قابو پایا جاسکتا ہے اور گواہی قائم کی جاسکتی ہے، برخلاف چوری کے، اس لیے کہ چوری کا جرم زیادہ سنگین ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٧٦١) (صحیح )
4975Sunan An Nasai

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَيْضًا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹ لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے ابن جریج نے بھی ابو الزبیر سے نہیں سنا، (اس کے متعلق مؤلف کی وضاحت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated from Sufyan, from Abu Az-Zubair, that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The pilferer is not to be cut off." (Sahih) Ibn Juraij also did not hear it from Abu Az-Zubair. Ibn Juraij also did not hear it from Abu Az-Zubair.

صحيح ولم يسمعه أيضا ابن جريج من أبي الزبيرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4972
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٣ (٤٣٩١)، سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠) مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٩٧٦، ٤٩٧٧) (صحیح )
4976Sunan An Nasai

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچک کرلے جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The hand of the pilferer is not to be cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4973
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩٧٥ (صحیح )
4977Sunan An Nasai

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَال جَابِرٌ: لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ وَهْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَعِيدٍ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، قَالَ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ: وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، وَلَا أَحْسَبُهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج سے: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے: ان میں سے کسی نے حدثنی ابوالزبیر یعنی مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے، واللہ اعلم ١ ؎۔

It was narrated from Hajjaj from Ibn Juraij from Abu Az-Zubair, that Jabir said: "The hands of the traitor is not to be cut off." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This Hadith had been reported from Ibn Juraij by Isa bin Yunus, Al-Fadl bin Musa, Ibn Wahb, Muhammad bin Rabiah, Makhlad bin Yazid, and Salamah bin Saeed from Al-Basrah, who is trustworthy and Ibn Abi Safwan said: "He was the best of the people of his time" and not one of them said: "Abu Az-Zubair narrated to me" and I do not think that he heard it from Abu Az-Zubair, and Allah knows best.

ضعيف والصحيح مرفوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4974
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن اگلی سند کے مغیرہ بن مسلم کا ابوالزبیر سے سماع ثابت ہے، نیز اس حدیث کے دیگر صحیح شواہد بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩٧٥ (ضعیف) (اس کے مقابل صحیح مرفوع حدیث ہے) ۔
4978Sunan An Nasai

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ رَوْحٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاشَبَابَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى مُخْتَلِسٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا خَائِنٍ قَطْعٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ تو اچک کرلے جانے والے کا، نہ کسی لوٹنے والے کا، اور نہ ہی کسی خائن کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The hand of the pilferer, robber and traitor is not to be cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4975
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٩٦٧) (صحیح )
4979Sunan An Nasai

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ قَطْعٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعِيفٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔

It was narrated that Jabir said: "The hand of the traitor is not to be cut off." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Ashath bin Sawwar (one of its narrators) is weak.

ضعيف والصحيح مرفوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4976
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٦٦٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” اشعث “ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سند سے مرفوعاً یہ حدیث صحیح ہے )
4980Sunan An Nasai

ہاتھ کاٹنے کے بعد چور کا پاؤں کاٹنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْمَصَاحِفِيُّ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُوسُفُ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوا يَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَرَقَ، فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ كُلُّهَا، ثُمَّ سَرَقَ أَيْضًا الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ، قَالَ: اقْتُلُوهُ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ لِيَقْتُلُوهُ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ يُحِبُّ الْإِمَارَةَ، فَقَالَ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ فَأَمَّرُوهُ عَلَيْهِمْ فَكَانَ إِذَا ضَرَبَ ضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ.

حارث بن حاطب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس نے ابوبکر ؓ کے عہد میں چوری کی یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، اس نے پھر پانچویں بار چوری کی تو ابوبکر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہی اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر انہوں نے اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کردیا تاکہ وہ اسے قتل کردیں۔ ان میں عبداللہ بن زبیر ؓ بھی تھے، وہ سرداری چاہتے تھے، انہوں نے کہا: مجھے اپنا امیر بنا لو، تو ان لوگوں نے انہیں اپنا امیر بنا لیا، چناچہ جب چور کو انہوں نے مارا تو سبھوں نے مارا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ١ ؎۔

It was narrated from Al-Harith bin Hatib that a thief was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Kill him." They said: "O Messenger of Allah, he only stole (something)." He said: "Kill him." They said: "O Messenger of Allah, he only stole (something)." He said: "Cut off his hand." Then he stole again, and his foot was cut off. Then he stole at the time of Abu Bakr, untilo all his extremities had been cut off. Then he stole a fifth time, and Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: "The Messenger of Allah ﷺ knew better about him when he said: Kill him." Then he handed him over to some young men of Quraish to kill him, among whom was Abdullah bin Az-Zubair who liked to be in a position of leadership. He said: "Put me in charge of them," so they put him in charge of them and when he struck him, they would strike him, until they killed him.

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4977
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوہریرہ اور جابر ؓ سے بھی اس طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن کسی بھی امام کے نزدیک اس پر عمل نہیں ہے، وجہ اس کا منسوخ ہوجانا ہے جیسا کہ امام شافعی نے کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٢٧٦) (صحیح الإسناد) (یہ حکم منسوخ ہے )
4981Sunan An Nasai

چور کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُفَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُفَقُطِعَ، فَأُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُ، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، قَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَد النَّعَمِ وَحَمَلْنَاهُ فَاسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ كَشَّرَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَانْصَدَعَتِ الْإِبِلُ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ، ثُمَّ رَمَيْنَا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَمُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا: اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا: اس نے صرف چوری کی ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو ، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو ، چناچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: (اس کا دایاں پاؤں) کاٹ دو ، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو ، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے مار ڈالو ، جابر ؓ کہتے ہیں: تو ہم اسے مربد نعم (جانور باندھنے کی جگہ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کردیا، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "A thief was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Kill him. They said: O Messenger of Allah, he only stole. He said: Cut off (his hand). So his hand was cut off. Then he was brought a second time and he said: Kill him. They said; O Messenger of Allah, he only stole. He said: Cut off (his foot). So his foot was cut off. He was brought to him a third time and he said: Kill him. They said: O Messenger of Allah, he only stole. He said: Cut off (his other hand). Then he was brought to him a fourth time and he said: Kill him. They said: O Messenger of Allah, he only stole. He said: Cut off (his other foot). He was brought to him a fifth time and he said: "So we took him to an animal pen and attacked him. He lay down on his back then waved his arms and legs (in the air), and the camels ran away. Then they attacked him a second time and he did the same thing, then they attacked him a third time, and we threw stones at him and killed him, then we threw him into a well and threw stones on top of him." (Hasan) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This Hadith is Munkar, Musab bin Thabit is not strong in Hadith.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4978
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٠ (٤٤١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٠٨٢) (حسن) (اس کے راوی ” مصعب “ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن یہ حکم منسوخ ہے )
4982Sunan An Nasai

سفر میں ہاتھ کاٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ.

بسر بن ابی ارطاۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ١ ؎۔

It was narrated that Junadah bin Abi Umayyah said: "I heard Busr bin Abi Artah say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Hand should not be cut off while traveling.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4979
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی اور مسند احمد میں السفر کی جگہ الغزو ( یعنی : غزوہ ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی سفر سے مراد غزو ہوگا، اور غزو مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت ؓ کی مرفوع روایت أقیموا الحدود فی السفر والحضر میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی عبادہ ؓ میں وارد لفظ سفر سے عام سفر مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٨ (٤٤٠٨)، سنن الترمذی/الحدود ٢٠ (١٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠١٥)، مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح )
4983Sunan An Nasai

سفر میں ہاتھ کاٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو چاہے اس کی قیمت آدھا درہم ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عمر بن ابی سلمہ حدیث میں قوی نہیں ہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a slave steals, then sell him, even for half price." (Hasan) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Umar bin Abi Salamah is not strong in Hadith.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4980
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی ظاہری مناسبت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٢ (٤٤١٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٥ (٢٥٨٩)، تحفة الأشراف: ١٤٩٧٩)، مسند احمد (٢/٣٣٦، ٣٣٧، ٣٥٦، ٣٨٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” عمر بن ابی سلمہ “ حافظہ کے کمزور ہیں )
4984Sunan An Nasai

مرد کے بالغ ہونے کی عمر اور مرد و عورت پر کس عمر میں حد لگائی جائے؟

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كُنْتُ فِي سَبْيِ قُرَيْظَةَ، وَكَانَ يُنْظَرُ فَمَنْ خَرَجَ شِعْرَتُهُ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ تَخْرُجْ اسْتُحْيِيَ وَلَمْ يُقْتَلْ.

عطیہ قرظی ؓ کہتے ہیں کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ لوگ دیکھتے جس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوتے، اسے قتل کردیا جاتا، اور جس کے بال نہ اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیا جاتا اور قتل نہ کیا جاتا۔

It was narrated that Atiyyah said: I was among the prisoners of Quraizah; we were examined, and whoever had grown (pubic) hair was killed, and whoever had not grown hair, he was allowed to live and was not killed.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4981
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤٦٠ (صحیح )
4985Sunan An Nasai

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ فِي عُنُقِهِ، قَالَ: سُنَّةٌ،قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ وَعَلَّقَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ.

ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید ؓ سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا اور اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔

It was narrated that Ibn Muhairiz said; "I asked Fadalah bin Ubaid about hanging the hand (of the thief) from his neck, and he said: It is Sunnah. The Messenger of Allah ﷺ cut off a thiefs hand then hung it from his neck."(Daif)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4982
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢١ (٤٤١١)، سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣(٢٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٩) مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف اور ” عبدالرحمن بن محیریز “ مجہول ہیں )
4986Sunan An Nasai

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ مِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ: نَعَمْ،أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ، وَعَلَّقَهُ فِي عُنُقِهِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.

عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید ؓ سے کہا: کیا چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ان کی حدیث لائق حجت نہیں ہے۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Muhairiz said: "I said to Fadalah bin Ubaid: Do you think that hanging the hand from the thiefs neck is Sunnah? He said: Yes; a thief was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he cut off his hand and hung it from his neck." (Daif) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said; Al-Hajjaj bin Artah is weak, his narrations are not used as proof.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4983
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
4987Sunan An Nasai

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُغَرَّمُ صَاحِبُ سَرِقَةٍ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا مُرْسَلٌ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حد قائم ہوجائے تو چوری کرنے والے پر تاوان لازم نہ ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ مرسل (یعنی منقطع) ہے اور صحیح نہیں ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Awf that the Messenger of Allah ﷺ said: "The thief is not to be penalized (financially) if the Hadd punishment is carried out on him." (Daif) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is Mursal and it is not confirmed.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4984
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابوحنیفہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے، لیکن یہ حدیث منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جمہور کے نزدیک حد قائم ہونے کے باوجود مسروقہ مال کا تاوان لیا جائے گا کیونکہ ایک مسلم کا مال دوسرے مسلم پر بغیر جائز اسباب کے حرام ہے ( جائز اسباب یعنی : خرید، ہدیہ و ہبہ، وراثت، مشاہرہ وغیرہ ) اس لیے چور سے لے کر چوری کا مال صاحب مال کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر موجود ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تاوان لیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٢٥) (ضعیف) (اس کی سند میں مسور اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان انقطاع ہے ۔ )