گرہن کے متعلق احادیث کی کتاب

Sunan An Nasai · Chapter 14 · 45 hadiths · Page 1 of 3

1460Sunan An Nasai

چاند گرہن اور سورج گرہن کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔

It was narrated that Abu Bakrah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The sun and moon are two signs of Allah (SWT), the Most High, and they do not become eclipsed for death or birth of anyone, rather Allah (SWT), the Mighty and Sublime, strikes fear into His slaves through them."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1459
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ١ (١٠٤٠)، ٦ (١٠٤٨)، ١٧ (١٠٦٣)، اللباس ٢ (٥٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦١)، مسند احمد ٥/٣٧، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٤٦٤، ١٤٦٥، ١٤٩٢، ١٤٩٣، ١٥٠٣ (صحیح )
1461Sunan An Nasai

بوقت سورج گرہن تسبیح و تکبیر پڑھنا اور دعا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ هُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قال: بَيْنَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَجَمَعْتُ أَسْهُمِي، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَأَتَيْتُهُ مِمَّا يَلِي ظَهْرَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا، قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تیر اندازی میں مشغول تھا، اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا، میں نے اپنے تیروں کو سمیٹا اور دل میں ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کے موقع پر کیا نئی بات کی ہے، اسے چل کر ضرور دیکھوں گا، میں آپ کے پیچھے کی جانب سے آپ کے پاس آیا، آپ مسجد میں تھے، تسبیح و تکبیر اور دعا میں لگے رہے، یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت نماز پڑھی، اور چار سجدے کیے ١ ؎۔

Abdur-Rahman bin Samurah said: "While I was (practicing) shooting some arrows in Al-Madinah, the sun became eclipsed. I gathered up my arrows and said: I want to see what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) will say about the eclipse of the sun. So I came to him from behind when he was in the masjid, and he started to say the tasbih and takbir and to supplicate until the eclipse was over. Then he stood up and prayed two rakahs with four prostrations."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1460
Notes · وضاحت
١ ؎: ظاہر حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آفتاب صاف ہوجانے کے بعد آپ ﷺ نے نماز پڑھی، حالانکہ کسوف کی نماز گرہن صاف ہوجانے کے بعد درست نہیں، لہٰذا اس کی تاویل اس طرح کی جاتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ نے آپ کو نماز ہی کی حالت میں کھڑا پایا، آپ تسبیح و تکبیر نماز ہی میں کر رہے تھے جیسا کہ مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ فأتیناہ وھو قائم فی ال صلا ۃ ، رافع یدیہ، فجعل یسبح ویحمد ویہلل ویکبر ویدعو چناچہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نماز میں کھڑے اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تھے اور اللہ کی تسبیح و تحمید اور تہلیل و تکبیر کے ساتھ ساتھ دعا بھی کر رہے تھے، بعضوں نے کہا ہے یہ دونوں رکعتیں نماز کسوف سے الگ بطور شکرانہ کے تھیں، لیکن یہ قول ضعیف ہے، اور دوسری روایات کے ظاہر کے خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٧ (١١٩٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٦)، مسند احمد ٥/ ١٦، ٦٢ (صحیح )
1462Sunan An Nasai

سورج گرہن کے وقت نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے نہیں لگتا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sun and moon do not become eclipsed for death or birth of anyone, rather they are two of the signs of Allah (SWT) the Most High, so when you see that then pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1461
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ١ (١٠٤٢)، بدء الخلق ٤ (٣٢٠١)، صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٣)، مسند احمد ٢/١٠٩، ١١٨ (صحیح )
1463Sunan An Nasai

چاند گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کے مرنے سے نہیں لگتا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو ۔

It was narrated that Abu Masud said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone, rather they are two of the signs of Allah (SWT), the Mighty and Sublime, so when you see that then pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1462
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ١ (١٠٤١)، ١٢ (١٠٥٧)، بدء الخلق ٤ (٣٢٠٤)، صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٢ (١٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٣)، مسند احمد ٤/١٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٦٦) (صحیح )
1464Sunan An Nasai

ابتدائے گرہن سے گرہن ختم ہوجانے تک نماز میں مصروف رہنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم ان دونوں کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ صاف ہوجائیں ۔

It was narrated that Abu Bakrah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The sun and moon are two signs of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then pray until it (the eclipse) is over."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1463
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤٦٠ (صحیح )
1465Sunan An Nasai

ابتدائے گرہن سے گرہن ختم ہوجانے تک نماز میں مصروف رہنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَوَثَبَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی سے اٹھے، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ وہ چھٹ گیا۔

It was narrated that Abu Bakrah said: "We were sitting with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when the sun became eclipsed. He leapt up, dragging his garment and prayed two rakahs until the eclipse was over."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1464
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤٦٠ (صحیح )
1466Sunan An Nasai

صلوة کسوف (گرہن کی نماز) کے لئے اذان دینا

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَنِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعُوا وَاصْطَفُّوا، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ ﷺ نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہوجاؤ، تو سب جمع ہوگئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ، دو رکعت نماز پڑھائی۔

It was narrated that Aishah said: "The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded a caller to call out that prayer was about to begin in congregation. So they gathered and formed rows, and he led them in prayer, bowing four times in two rakahs and prostrating four times."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1465
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ١٩ (١٠٦٦)، صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٤ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٦٨)، ویأتي عند المؤلف برقم: ١٤٧٤ (صحیح )
1467Sunan An Nasai

گرہن کی نماز میں صفیں بنانے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ مسجد کی طرف نکلے، اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ اکبر ، کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، سورج آپ کے فارغ ہونے سے پہلے ہی صاف ہوگیا۔

Urwah bin Az-Zubair narrated that Aishah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sun was eclipsed during the life of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to the masjid and stood and said the takbir, and the people formed rows behind him. He bowed four times and prostrated four times, and the eclipse ended before he finished."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1466
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٤٨٧)، مسند احمد ٦/٨٧ (صحیح )
1468Sunan An Nasai

نماز گرہن کا طریقہ

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَعَنْ عَطَاءٍ مِثْلُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن لگنے پر آٹھ رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور عطاء نے بھی ابن عباس ؓ سے اسی کے مثل روایت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Tawus from Ibn Abbas, that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed when the sun was eclipsed, bowing eight times and prostrating four times.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1467
Notes · وضاحت
١ ؎: عطاء کی روایت جس کی طرف امام نسائی نے اشارہ کیا ہے، حقیقت میں وہ ابن عباس ؓ سے مروی نہیں ہے، بلکہ وہ مرسل ہے، جیسا کہ امام مزی نے اسے مراسیل میں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: تحفہ الأشراف: ١٩٠٤٩ ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ٤ (٩٠٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٩ (الجمعة ٤٤) (٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٧)، مسند احمد ١/٢٢٥، ٣٤٦، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٦٧) (شاذ) (حبیب بن ابی ثابت مدلس کثیر الارسال ہیں، یہ حدیث انہوں نے ابن عباس سے نہیں سنی ہے، نیز یہ روایت خود ابن عباس سے مروی دیگر روایات کے خلاف ہے، دیکھئے حدیث رقم: ١٤٧٠ )
1469Sunan An Nasai

نماز گرہن کا طریقہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُصَلَّى فِي كُسُوفٍ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے گرہن لگنے پر نماز پڑھی، آپ نے قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری رکعت بھی ایسے ہی پڑھی۔

It was narrated from Tawus from Ibn Abbas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed when there was an eclipse. He recited then he bowed, then he recited then he bowed, then he recited then he bowed, then he recited then he bowed, then he prostrated, and he did the second rakahs in same fashion.

شاذ والمحفوظ أربع رکوعات في رکعتينصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1468
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ) (دیکھیں سابقہ روایت )
1470Sunan An Nasai

سیدنا عبداللہ ابن عباس سے نماز گرہن سے متعلق ایک اور روایت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ نَمِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْكَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ. ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس دن سورج گرہن لگا، دو رکعت نماز پڑھی، تو چار رکوع اور چار سجدے کیے۔

It was narrated from Kathir bin Abbas, from Abdullah bin Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed on the day the sun was eclipsed, bowing four times in two rakahs and prostrating four times.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1469
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ٤ (١٠٤٦) مطولاً، صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١، ٩٠٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨١) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٥) (صحیح )
1471Sunan An Nasai

ایک اور طریقہ کی گرہن کی نماز

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، رَكَعَ الثَّالِثَةَ ثُمَّ سَجَدَ، حَتَّى إِنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ يُغْشَى عَلَيْهِمْ، حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ، يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُكُمْ بِهِمَا، فَإِذَا كَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْجَلِيَا.

عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جسے میں سچا سمجھتا ہوں، میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ام المؤمنین عائشہ ؓ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑی دیر تک نماز میں قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے پھر رکوع کرتے، اس طرح آپ نے دو رکعت پڑھی، ہر رکعت میں آپ نے تین رکوع کیا، تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ اس دن آدمیوں پر غشی طاری ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ان کے اوپر پانی کے ڈول انڈیلنے پڑگئے تھے، آپ جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده کہتے، آپ فارغ نہیں ہوئے جب تک کہ سورج صاف نہیں ہوگیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور فرمایا: سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لیکن یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ تمہیں ڈراتا ہے، تو جب ان میں گرہن لگے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور ذکر الٰہی میں لگے رہو جب تک کہ وہ صاف نہ ہوجائیں ۔

Ata said: "I heard Ubaid bin Umair say: Someone whom I trust- and I think he meant Aishah- told me: There was an eclipse of the sun during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He led the people in prayer and stood for a very long time, then he bowed, then he stood, then he bowed, then he stood, then he bowed. He prayed two rakahs, bowing three times in each rakah. After bowing for the third time he prostrated for a long time. Some men fainted on that day and had to be revived by having buckets of water thrown over them, because of having stood for so log. When he bowed, he said: Allahu Akbar, and when he raised his head, he said: Sami Allahu lima hamidah.He did not finish until the eclipse had ended. Then he stood and praised and glorified Allah (SWT) and said: The sun and moon do not eclipse for the death or birth of anyone, but they are two of the signs of Allah (SWT) with which He strikes fear unto you. If they are eclipsed then turn to the remembrance of Allah, the Mighty and Sublime, until it (the eclipse) is over."

شاذ والمحفوظ عنها في كل ركعة رکوعانصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1470
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦١ (١١٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٣)، مسند احمد ٦/٧٦ (شاذ) (تین رکوع کا تذکرہ شاذ ہے، محفوظ بات دو رکوع کی ہے، خود عائشہ ؓ کی روایت میں دو رکوع کا تذکرہ ہے، دیکھئے حدیث رقم: ١٤٧٣) ۔
1472Sunan An Nasai

ایک اور طریقہ کی گرہن کی نماز

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ فِي صَلَاةِ الْآيَاتِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، قُلْتُ لِمُعَاذٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا شَكَّ وَلَا مِرْيَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے نا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

It was narrated fom Ata from Ibn Umair, from Aishah, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed, bowing six times and prostrating four times. "I said to Muadh: Is this from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)? He said: Without a doubt."

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1471
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٥) (شاذ) (دیکھئے سابقہ روایت )
1473Sunan An Nasai

سیدہ ّ عائشہ صدیقہ سے روایت کیا گیا ایک اور طریقہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي أَرَدْتُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے بڑی لمبی قرآت کی، پھر اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، تو سمع اللہ لمن حمده ربنا لک الحمد کہا، پھر آپ کھڑے رہے، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کہی، اور ایک لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا، پھر آپ نے سمع اللہ لمن حمده ربنا لک الحمد کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہوگیا، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا، اور میں نے جہنم کو دیکھا، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ١ ؎، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Shihab rom Urwah bin Az-Zubair, that Aishah said: "The sun was eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He stood and said the takbir, and the people formed rows behind him. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited for a long time, then he said the takbir and bowed for a long time, then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd. Then he stood and recited for a long time, but it was a shorter recitation than the first recitation, then he said the takbir and bowed but it was shorter than the first bowing. Then he said: Sami Allahu liman hamidah, then he prostrated. In this manner, he bowed four times, and the eclipse ended before he had finished. Then he stood and addressed the people. He praised and glorified Allah (SWT), the Mighty and Sublime, as He deserves, then he said: The sun and moon are two of the signs of Allah (SWT), Most High. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that (eclipsed) then pray until it ends. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: While I was standing just now I saw everything you have been promised. When you saw me moving forward, I wanted to take a cluster of fruit from Paradise. And I saw Hell; parts of it were consuming other parts when you saw me step backward. And I saw therein Ibn Luhayy, who was the first one to establish the Saibah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1472
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا نام عمرو ہے اور باپ کا نام عامر ہے اور لقب لحی ہے۔ ٢ ؎: سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو، اور اس سے سواری اور بار برداری کا کوئی کام نہ لیا جاتا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ٤ (١٠٤٦)، ٥ (١٠٤٧)، ١٣ (١٠٥٨)، العمل فی ال صلاة ١١ (١٢١٢)، بدء الخلق ٤ (٣٢٠٣)، صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨٠) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٢ (١٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٢) (صحیح )
1474Sunan An Nasai

سیدہ ّ عائشہ صدیقہ سے روایت کیا گیا ایک اور طریقہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو الصلاة جامعة (صلاۃ باجماعت ہوگی) کی منادی کرائی گئی، چناچہ لوگ اکٹھا ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ دو رکعت میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔

It was narrated from Az-Zuhri, from Urwah, that : Aishah said: "The sun was eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and it was called out: As-salatu jamiah (prayer is about to begin in congregation). So the people gathered and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led them in prayer, bowing four times in two rakahs and prostrating four times."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1473
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤٦٦ (صحیح )
1475Sunan An Nasai

سیدہ ّ عائشہ صدیقہ سے روایت کیا گیا ایک اور طریقہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا، ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، اور سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، پھر آپ فارغ ہوئے اس حال میں کہ سورج صاف ہوچکا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے جینے سے، تو جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اور اس کی بڑائی بیان کرو، اور صدقہ کرو ، پھر آپ نے فرمایا: اے امت محمد! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر غیرت کرنے والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے، اے امت محمد! قسم اللہ کی، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔

It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, that Aishah said: The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led the people in prayer. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood for a long time, but it was shorter than the first standing, then he bowed for a long time but it was shorter than the first bowing. Then he stood up, then he prostrated, then he did the same in the second rakah, and when he finished the eclipse had ended. Then he addressed the people; he praised and glorified Allah (SWT), then he said: The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT). They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then call upon Allah (SWT), the Mighty and Sublime, and magnify Him, and give charity. Then he said: O Ummah of Muhammad! There is no one more jealous than Allah (SWT), the Mighty and Sublime, when his male or female slave commits zina. O Ummah of Muhammad! By Allah, if you knew what I know, you would laugh little and weep much."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1474
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ٢ (١٠٤٤)، صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٥ (١١٩١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٤٨)، موطا امام مالک/الکسوف ١ (١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٧٠) (صحیح )
1476Sunan An Nasai

سیدہ ّ عائشہ صدیقہ سے روایت کیا گیا ایک اور طریقہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَحَدَّثَتْهَا، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا، فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَائِذًا بِاللَّهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ، وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی پناہ ۔ نبی اکرم ﷺ کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہوگئیں، اور رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہوگیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے ، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔

It was narrated from Yahya bin Saeed that : Amrah told him that Aishah told her that a Jewish woman came to her and said: "May Allah protect you from the torment of the grave." Aishah said: "O Messenger of Allah, will people be tormented in the graves?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sought refuge with Allah. Aishah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out, and the sun became eclipsed. We went out to another room and the women gathered with us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us and that was at the time of forenoon. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raises his head and stood for a shorter time than the first one; then he bowed for a shorter time than the first one. Then he prostrated, then he stood up for the second (rakah) and did the same again, except that his bowing an prostrating were shorter than in the first rakah. Then he prostrated, and the eclipse had ended. When he had finished, he sat on the minbar and one of the things he said was: The people will be tried in their graves like the trial of the Dajjal. Aishah siad: After that, we used to hear him seeking refuge with Allah (SWT) from the torment of the grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1475
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ٧ (١٠٤٩)، ١٢ (١٠٥٥)، صحیح مسلم/الکسوف ٢ (٩٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٦)، موطا امام مالک/الکسوف ١ (٣)، مسند احمد ٦/٣٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٦٨، ١٥٧٣)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٤٧٧، ١٥٠٠ (صحیح )
1477Sunan An Nasai

ایک اور قسم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ ؟ فَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ، فَرَكِبَ مَرْكَبًا يَعْنِي وَانْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ نِسْوَةٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ ﷺ آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ ، پھر آپ (کہیں جانے کے لیے) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری سے اتر کر آئے، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ (سجدہ سے کھڑے ہوئے) اور آپ نے قیام کیا، مگر اپنے پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اور سورج صاف ہوگیا، تو آپ نے فرمایا: تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔

Amrah said: "I heard Aishah say: A Jewish woman came to me begging, and said: May Allah grant you protection from the torment of the grave. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came, I said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), will people be tormented in their graves? He sought refuge with Allah (SWT) and climbed onto his mount. The sun became eclipsed while I was between the apartments with some women. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came from his mount and came to his prayer place, and led the people in prayer.He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and stood for a long time, then he prostrated for a long time. Then he stood for a shorter time than in the first (rakah), then he bowed for a shorter time than the first, then he raised his head and stood for a shorter time than the first, then he bowed for a shorter time than the first, then he raised his head and stood for a shorter time than the first, so he bowed four times and prostrated four times, and the eclipse ended. He said: "You will be tried in your graves like the trial of the Dajjal. Aishah said: I heard him after that seeking refuge with Allah from the torment of the grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1476
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1478Sunan An Nasai

ایک اور قسم

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔

It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed during an eclipse in a shaded area near Zamzam, bowing four times and prostrating four times.

صحيح دون ذکر الصفة فإنه شاذ مخالف لکل الروايات السابقة واللاحقةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1477
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف ١٨ (١٠٦٤) بلفظ ” أربع رکعات فی سجدتین “ بدون ذکر الصفة (شاذ) (آپ صلی الله علیہ وسلم نے زندگی میں صرف ایک بار وہ بھی مدینہ میں سورج گرہن کی صلاة پڑھی ہے، یہ روایت شاذ ہے، کسی راوی سے وہم ہوگیا ہے )
1479Sunan An Nasai

ایک اور قسم

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهِمْ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا، فَإِذَا انْخَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ (بیہوش ہو ہو کر) گرنے لگے، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on a very hot day. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led his companions in prayer, and he stood for so long that they started to fall over. Then he bowed for a long time, then he stood up (and remained standing) for a long time. Then he bowed again for a long time, then he stood up (again) and (remained standing) for a long time. Then he prostrated twice, then he stood up and did the same again. He started to move forward, then he started to step back. He bowed four times and prostrated four times. They used to say that eclipses of the sun and moon only happened when one of their great men died, but they are two of the signs of Allah (SWT) that He shows to you, so when an eclipse happens, pray until it is over."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1478
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٧٩)، (تحفة الأشراف: ٢٩٧٦)، مسند احمد ٣/٣٧٤، ٣٨٢ (صحیح )