عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے ١ ؎ اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed in Makkah (for fifteen days), praying each prayer with two rakahs.
صحيح بلفظ تسعة عشر يوماصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1453
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ فتح مکہ کی بات ہے اور دس دن کے قیام والی روایت حجۃ الوداع کے موقع کی ہے، فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں نبی اکرم ﷺ نے کتنے دنوں تک قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، صحیح بخاری کی روایت میں ١٩ دن کا ذکر ہے، اور ابوداؤد کی ایک روایت اٹھارہ دن، اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا، اس نے سترہ کی روایت کی ہے اور جس نے دخول کا شمار کیا اور خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں، اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے، رہی پندرہ دن والی مؤلف کی روایت تو یہ شاذ ہے، اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ١٧ دن ہے، پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ١٥ دن کی روایت کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٩ (١٢٣١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٦) (شاذ) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، صحیح روایت ” انیس دن “ کی ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آگئیں، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے، اور میں نے پوری پڑھی ہے، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا: عائشہ! تم نے اچھا کیا ، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی۔
It was narrated from Aishah that: She performed Umrah with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), traveling from Al-Madinah to Makkah. Then, when she came to Makkah, she said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), may my father and mother be ransomed for you, you shortened you prayers and I offered them in full, you did not fast and I fasted. He said: Well done, O Aishah! and he did not criticize me."
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1456
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٨) (منکر) (سند میں ” عبدالرحمن “ اور ” عائشہ ؓ “ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان میں کوئی عمرہ نہیں کیا ہے، جبکہ اس روایت کے بعض طرق میں ” رمضان میں “ کا تذکرہ ہے )
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
Wabarah bin Abdur-Rahman said: "Ibn Umar did not offer more than two rakahs when traveling, and he did not offer any prayer before or after that. It was said to him: What is this? He said: This is what I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) doing."
حسن صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1457
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ (اب) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، عمر اور عثمان ؓ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔
Eisa bin Hafs bin Asim said: "My father told me: I was with Ibn Umar on a journey, and he prayed Zuhr and Asr with two rakahs each, then he went and sat on his carpet. He saw some people offering voluntary prayers and said: What are these people doing? I said: They are offering voluntary prayers. He said: If I had wanted to pray before and after (the obligatory prayer) I would have offered it in full. I accompanied the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he did not pray more than two rakahs when traveling, and Abu Bakr (did likewise) until he died, as did Umar and Uthman, may Allah (SWT) be pleased with them all."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1458
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة ١١ (١١٠١، ١١٠٢)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٦ (١٢٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (الجمعة ٣٩) (٥٤٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٥ (١٠٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٣)، مسند احمد ٢/٢٤، ٥٦ (صحیح )