یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے آیت کریمہ: ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم الذين کفروا تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے (النساء: ١٠١ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہوگئے ہیں؟ تو عمر ؓ نے کہا: مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے ١ ؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔
It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I said to Umar bin Al-Khattab: There is no sin on you if you shorten salah and if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you). But now the people are safe. Umar said: I wondered the same thing, so I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about that and he said: This is a favor from Allah (SWT) to you, so accept His favor."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1433
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری کمزوری اور درماندگی کو دیکھتے ہوئے تمہاری پریشانی اور مشقت کے ازالہ کے لیے بطور رحمت تمہارے لیے مشروع کیا ہے، لہٰذا آیت میں إن خفتم (اگر تمہیں ڈر ہو) کی جو قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ١ ؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ٢ ؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر ؓ نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ٣ ؎۔
It was narrated from Umayyah bin Abdullah bin Khalid that: He said to Abdullah bin Umar: "We find (mention of) prayer when one is at home (i.e., not traveling) and prayer at times of fear in the Quran, but we do not find any mention in the Quran of prayer when traveling. Ibn Umar said to him: O son of my brother, Allah (SWT) send Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) to us when we did not know anything, and all we should do is to do that which we saw Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) doing."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1434
Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن کے سلسلہ میں جو مطلق اوامر وارد ہیں ان کا محمل یہی حضر کی صلاۃ ہے۔ ٢ ؎: خوف کی صلاۃ کا ذکر آیت کریمہ: وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا (النساء: 101) میں ہے۔ ٣ ؎: اور آپ نے بغیر خوف کے بھی قصر کیا ہے، لہٰذا یہ ایسی دلیل ہے جس سے اسی طرح حکم ثابت ہوتا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ١ ؎ (اس کے باوجود) آپ (راستہ بھر) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) set out from Makkah to Al-Madinah, fearing nothing but the Lord of the worlds, and praying two rakahs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1435
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "We used to travel with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) between Makkah and Al-Madinah, fearing nothing but Allah, the Mighty and Sublime, and praying two rakahs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1436
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو ذوالحلیفہ ١ ؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Ibn Al-Simt said: "I saw Umar bin Al-Khattab praying two rakahs in Dhul-Hulaifah and I asked him about that. He said: I am simply doing that which I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم doing."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1437
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا۔
It was narrated that Anas said: "I went out with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) from Al-Madinah to Mekkah, and he continued to shorten his prayers, and he stayed there for ten days."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1438
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة ١ (١٠٨١)، المغازي ٥٢ (٤٢٩٧) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٩ (١٢٣٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (الجمعة ٤٠) (٥٤٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٧)، مسند احمد ٣/١٨٧، ١٩٠، ٢٨٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٥٥١)، ویأتی عند المؤلف فی باب ٤ (برقم: ١٤٥٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر ؓ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔
It was narrated that Abdullah said: "I prayed two rakahs with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on a journey, and two rakahs with Abu Bakr, and two rakahs with Umar, may Allah (SWT) be pleased with them both."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1439
عمر ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور بزبان نبی اکرم ﷺ یہ سب پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
It was narrated that Umar said: "The prayer for jumuah is two rakahs, and for Al-Fitr is two rakahs, and for An-Nahr is two rakahs, and for traveling is two rakahs, complete and not shortened, on the tongue of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1440
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضر (اقامت) کی نماز تمہارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں، اور سفر کی نماز دو رکعت، اور خوف کی نماز ایک رکعت ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The prayer of the resident was enjoined on the tongue of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), four (rakahs), and the prayer of the traveler is two rakahs, and the prayer of fear is one rakah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1441
Notes · وضاحت
١ ؎: حذیفہ ؓ کی روایت میں اس کی صراحت ہے، بعض صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر حضر (اقامت) میں چار رکعتیں، اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Allah, the Mighty and Sublime, enjoined the prayer on the tongue of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): While a resident four (rakahs), while traveling two, and at times of fear one."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1442
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ میں مکہ میں کس طرح نماز پڑھوں کہ جب میں جماعت سے نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھو، ابوالقاسم ﷺ کی سنت (پر عمل کرو) ۔
It was narrated that Qatadah said: "I heard Muas- bin Salamah-say: I said to Ibn Abbas: How should I pray in Makkah if I do not pray in congregation? He said: Two rakahs, the sunnah of Abu Al-Qasim."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1443
موسیٰ بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: میں نے کہا: مجھ سے باجماعت نماز چھوٹ جاتی ہے اور میں بطحاء میں ہوتا ہوں، تو میں کتنی رکعت پڑھوں؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھو، ابوالقاسم ﷺ کی سنت (پر عمل کرو) ۔
Musa bin Salamah narrated that he asked Ibn Abbas: "I missed the prayer in congregation when I was in Al-Batha; how do you think I should pray?" He said: "Two rakahs, the sunnah of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1444
حارثہ بن وہب خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو ہی رکعت پڑھی، ایک ایسے وقت میں جس میں کہ لوگ سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے، اور تعداد میں زیادہ تھے۔
It was narrated that Harithah bin Wahab Al-Khuzai said: "I prayed two rakahs with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Mina when the people were more secure and greater in number."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1445
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ.
حارثہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت پڑھائی، ایک ایسے وقت میں جس میں لوگ تعداد میں زیادہ تھے، اور سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے۔
It was narrated that Harithah bin Wahab said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in prayer in Mina, two rakahs, when the people were greater in number and more secure."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1446
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر ؓ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور عثمان ؓ عنہ کے ساتھ بھی ان کی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he said: "I prayed two rakahs with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in Mina, and with Abu Bakr and Umar, and two rakahs with Uthman at the beginning of his Caliphate."
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1447
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان ؓ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت پڑھی یہاں تک کہ اس کی خبر عبداللہ بن مسعود ؓ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی ہے۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: "Uthman prayer four (rakahs) in Mina until news of that reached Abdullah who said: I prayed two rakahs with the Messenger of Allah (ﷺ)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1449
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر ؓ کے ساتھ بھی دو رکعت، اور عمر ؓ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی۔
It was narrated that Ibn Umar said: "I prayed two rakahs with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in Mina, and two rakahs with Abu Bakr, may Allah (SWT) be pleased with him, and two rakahs with Umar, may Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) be pleased with him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1450
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة ٢ (١٠٨٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٢ (٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٨١٥١)، مسند احمد ٢/١٦، ٥٥ (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر اور عمر ؓ نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی، اور عثمان ؓ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔
Ubaidullah bin Abdullah bin Umar narrated that: His father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed two rakahs in Mina, and Abu Bakr prayed two rakahs, and Umar prayed two rakahs, and Uthman prayed (two rakahs) at the beginning of his Khilafah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1451
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة ٢ (١٠٨٢)، الحج ٨٤ (١٦٥٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢ (٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٧٣٠٧)، مسند احمد ٢/١٤٠ (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا۔
It was narrated from Yahya bin Abi Ishaq that : Anas bin Malik (RA) said: " We went out with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) from Al-Madinah to Makkah and he used to lead us in praying two rakahs until we came back." I (Yahya) said: "Did he stay in Makkah?" He (Anas) said: "Yes, we stayed there for ten days."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1452