عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے (نماز کا) حکم دیا تو الصلاة جامعة (نماز باجماعت پڑھی جائے گی) کی منادی کرائی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی (پہلی رکعت میں) آپ نے دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ١ ؎، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے (دوسری رکعت میں بھی) دو رکوع اور ایک سجدہ کیا۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے کبھی اتنا لمبا رکوع نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی اتنا لمبا سجدہ کیا۔ محمد بن حمیر نے مروان کی مخالفت کی ہے ٢ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), so he issued orders that the call be given: As-salatu jamiah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led the people in prayer, bowing twice and prostrating twice. Then he stood and prayed, bowing twice and prostrating once. Aishah said: I never bowed or prostrated for so long as that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1479
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں سجدہ سے مراد مکمل ایک رکعت ہے، کیونکہ کسی بھی نماز میں ایک سجدہ کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ ایک رکعت دو رکوع کے ساتھ پڑھی۔ ٢ ؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں مخالفت یہ ہے کہ مروان کی روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا واسطہ ہے، اور محمد بن حمیر کی روایت میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی جگہ ابوطعمہ کا واسطہ ہے، اور متن میں مخالفت یہ ہے کہ مروان کی روایت میں سجدہ کا لفظ آیا ہے، اور محمد بن حمیر کی روایت میں اس کی جگہ سجدتین کا لفظ آیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے دو رکوع کیے، اور دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The sun was eclipsed and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) bowed twice and prostrated twice, then he stood up and bowed twice and prostrated twice. Then the eclipse ended. Aishah used to say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) never prostrated or bowed for so long as that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1480
Notes · وضاحت
١ ؎: علی بن مبارک نے اسے مسند عائشہ میں سے قرار دیا ہے، اور معاویہ بن سلام نے مسند عبداللہ بن عمرو میں سے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا، اور حکم دیا تو ندا دی گئی: الصلاة جامعة (نماز باجماعت ہوگی) ، پھر آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے لمبا قیام کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورة البقرہ پڑھی، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے: سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا، اور سجدہ نہیں کیا، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا، پھر آپ بیٹھے، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا۔
Abu Hafs, the freed slave of Aishah, narrated that Aishah told him: "When the sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), he performed wudu and ordered that the call be given: As-salatu jamiah. He stood for a long time in prayer," and Aishah said: "I thought that he recited Surah Al-Baqarah. Then he bowed for a long time, then he said: Sami Allahu liman hamidah. Then he bowed, then prostrated. Then he stood up and did the same again, bowing twice and prostrating once. Then he sat and the eclipse ended."
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1481
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩٨) (صحیح) (اس کے راوی ” ابو حفص مولی عائشہ “ لین الحدیث ہیں لیکن متابعت اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے، آپ لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا، اور بیٹھے تو دیر تک بیٹھے رہے، پھر آپ سجدہ میں گئے تو لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا، اور کھڑے ہوگئے، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح قیام، رکوع، سجدہ اور جلوس کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا، پھر دوسری رکعت کے آخری سجدے میں آپ ہانپنے اور رونے لگے، آپ کہہ رہے تھے: تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ١ ؎، اور حال یہ ہے کہ میں ان میں موجود ہوں، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا، اور ہم تجھ سے (اپنے گناہوں کی) بخشش چاہتے ہیں ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تب سورج صاف ہوچکا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم ان میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، جنت مجھ سے قریب کردی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے کچھ گچھے لے لیتا، اور جہنم مجھ سے قریب کردی گئی یہاں تک کہ میں اس سے بچاؤ کرنے لگا، اس خوف سے کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے، یہاں تک کہ میں نے اس میں حمیر کی ایک عورت پر ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوتے ہوئے دیکھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس نے اسے زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے چھوڑا، اور نہ ہی اس نے اسے خود کچھ کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ مرگئی، میں نے اسے دیکھا وہ اس عورت کو نوچتی تھی جب وہ سامنے آتی، اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی تو اس کے سرین کو نوچتی، نیز میں نے اس میں دو چمڑے کی جوتیوں والے کو دیکھا، جو قبیلہ بنی دعدع کا ایک فرد تھا، اسے دو منہ والی لکڑی سے مار کر آگ میں دھکیلا جا رہا تھا، نیز میں نے اس میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والے کو دیکھا، جو حاجیوں کا مال چراتا تھا، وہ جہنم میں اپنی لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے کہہ رہا تھا: میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والا ہوں ۔
Abdullah bin Amr said: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) got up to pray, and those who were with him also got up. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and (then) prostrated for a long time. Then he raised his head and sat for a long time. Then he prostrated for a long time, then he raised his head and stood up, and he did in the second rakah the same as he had done in the first, standing, bowing, prostrating and sitting. He started blowing and weeping at the end of his prostration in the second rakah, saying: You did not tell me that You would do that while I was still among them; You d not tell me that You would do that while we are asking You for forgiveness. Then he raised his head and the eclipse ended. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood and addressed the people. He praised and glorified Allah then he said: "The sun and moon are two of the signs of Allah (SWT), the Mighty and Sublime. If you see either of them being eclipsed, then hasten to remember Allah (SWT), the Mighty and Sublime. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, Paradise was brought so near to me that if I had stretched out my hand, I could have taken some of its fruits. And Hell was brought so near to me that I tried to ward it off for fear it may overwhelm you. I saw therein a woman from Himyar who was being punished because of a cat she tied up, not leaving it free to eat of the vermin of the earth, nor feeding it or giving it water, until it died. I saw it biting her when she came and biting her backside when she went. And I saw the owner of the Sabtiyatain, the brother of Banu As-Dada, being pushed with a two-pronged stick in the Fire. And I saw the owner of the stick with a crooked end, who used to steal from the Hajj pilgrims with that crooked stick, leaning on his stick in Hell and saying: I am the thief with the crooked stick."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1482
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میری موجودگی میں انہیں عذاب دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا، بلکہ تو نے اس کے برعکس یہ وعدہ کیا تھا کہ تو انہیں میری موجودگی میں عذاب نہیں دے گا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے دو رکوع کیے، اور ان میں پہلے جیسا ہی کیا، پھر آپ نے دو سجدے کیے، ان دونوں میں اسی طرح کرتے رہے جیسے پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم انہیں (گرہن لگا) دیکھو، تو تم اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑ پڑو ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He stood and led the people in prayer. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood for a long time that was shorter than the first time, then he bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time that was shorter than the first time. Then he stood up and bowed twice again, doing the same again. Then he prostrated twice, doing the same again, until he had finished his prayer. Then he said: The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then hasted to remember Allah (SWT) and pray."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1483
ثعلبہ بن عباد العبدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب ؓ کے خطبہ میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ایک حدیث ذکر کی، سمرہ بن جندب ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے نشانہ بازی کر رہے تھے، یہاں تک کہ سورج دیکھنے والے کی نظر میں افق سے دو تین نیزے کے برابر اوپر آچکا تھا کہ اچانک وہ سیاہ ہوگیا، ہم میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: چلو مسجد چلیں، قسم اللہ کی اس سورج کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کے لیے آپ کی امت میں ضرور کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، پھر ہم مسجد گئے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے وقت میں پایا جب آپ لوگوں کی طرف نکلے، پھر آپ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، تو اتنا لمبا قیام کیا کہ ایسا قیام آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے رکوع کیا تو اتنا لمبا رکوع کیا کہ ایسا رکوع آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے ہمارے ساتھ سجدہ کیا تو اتنا لمبا سجدہ کیا کہ ایسا سجدہ آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے ایسے ہی دوسری رکعت میں بھی کیا، دوسری رکعت میں آپ کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج صاف ہوگیا، تو آپ نے سلام پھیرا، اور اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، اور گواہی دی کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور گواہی دی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، (یہ حدیث مختصر ہے) ۔
Thalabah bin Abbad Al-Abdi from the people of Al-Basrah narrated that: He attended a Khutbah one day that was delivered by Samurah bin Jundub. In his Khutbah he mentioned a Hadith from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). Samurah bin Jundub said: "One day a boy from among the Ansar and I were shooting at two targets of ours, during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), when the sun was at a height of two or three spears as it appears to one who is looking at the horizon. The sun turned black, and we said to one another, let us go to the masjid, for by Allah (SWT) this must herald some event concerning the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and his ummah. We went to the masjid and we saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) coming out to the people. He went forward and prayed. He stood for the longest time that he had ever stood in any prayer in which he led us, but we did not hear him saying anything. Then he bowed for the longest time that he had ever bowed in any prayer in which he led us, but we did not hear him saying anything. Then he prostrated for the longest time that he had ever prostrated in any prayer in which he led us, but we did not hear him saying anything. The he did likewise in the second rakah. And the eclipse ended as he was sitting at the end of the second rakah. The he said the salam, then he praised and glorified Allah (SWT), and bore witness that there is none worthy of worship but Allah (SWT) and he bore witness that he was the slave and Messenger of Allah." Narrated in abridged form.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1484
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٠ (الجمعة ٤٥) (٥٦٢) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٢ (١٢٦٤) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٣)، مسند احمد ٥/١٤، ١٦، ١٧، ١٩، ٢٣، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٥٠٢ مختصراً (ضعیف) (اس کے راوی ” ثعلبہ “ لین الحدیث ہیں )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا، جب سورج صاف ہوگیا تو آپ نے فرمایا: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے پر لگتا ہے، ایسا کچھ نہیں ہے، سورج اور چاند گرہن نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے لگتا ہے اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کے لیے اپنی تجلی ظاہر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، تو جب کبھی تم اس صورت حال کو دیکھو تو تم اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو، جو تم نے (گرہن لگنے سے پہلے) پڑھی ہے ١ ؎۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir said: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he rushed out, dragging his cloak until he came to the masjid. He continued leading us in prayer until the eclipse ended. When it ended, he said: People claim that the eclipse of the sun and moon only happen when a great man dies, but that is not so. Eclipses of the sun and the moon do not happen for the death or birth of anyone, but they are signs from Allah (SWT), the Mighty and Sublime. When Allah, the Mighty and Sublime, manifests Himself to anything of His creation, it humbles itself before Him, so if you see that then pray like the last obligatory prayer you did before that."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1485
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے، آپ نے گرہن کی نماز عام نمازوں کی طرح ایک رکوع سے نہیں پڑھی تھی بلکہ دو رکوع سے پڑھی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٧ (١١٩٣) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٢ (١٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣١)، مسند احمد ٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧١، ٢٧٧، ویأتي عند المؤلف بأقام: ١٤٨٩، ١٤٩٠ (ضعیف) (اس کی سند اور متن دونوں میں اضطراب ہے، اس کا سبب ابو قلابہ مدلس ہیں، دیکھئے إرواء رقم: ٦٦٢ )
قبیصہ بن مخارق الہلالی ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ میں تھے، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، تو جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو جو تم نے (گرہن لگنے پہلے) پڑھی ہے ۔
It was narrated that Qabisah bin Mukhariq Al-Hilali said: "There was an eclipse of the sun and at the time we were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in Al-Madinah. He rushed out dragging his garment and prayed two rakahs, which he made lengthy. The end of his prayer coincided with the end of the eclipse. He praised and glorified Allah (SWT), then he said: The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see anything of that, then pray like the last obligatory prayer you did before that."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1486
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨٥، ١١٨٦)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦٥)، مسند احمد ٥/٦٠، ٦١ (ضعیف) (یہاں ابو قلابة مدلس نے ” نعمان “ کے بجائے ” قبیصہ “ کا نام لیا ہے، مذکورہ سبب سے یہ روایت بھی ضعیف ہے )
قبیصہ الہلالی ؓ سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو نبی کریم ﷺ نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے نئی بات پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی پر تجلی فرماتا ہے تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، لہٰذا جب ان دونوں میں سے کوئی رونما ہو تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چھٹ جائے، یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
It was narrated from Qabisah Al-Hilali: That there was an eclipse of the sun and the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed two rakahs until it ended. Then he said: "The sun and the moon do not become eclipsed for the death of anyone, but they are two of His creations. Allah, the Mighty and Sublime, causes whatever He wants to happen in His creation. If Allah (SWT), the Mighty and Sublime, manifests Himself to any of His creation, it humbles itself before Him, so if either of them (solar or lunar eclipse) happens, pray until it is over or until Allah causes something to happen."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1487
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب سورج اور چاند کو گرہن لگے تو نماز پڑھو، اس تازہ نماز کی طرح جو تم نے (گرہن لگنے سے پہلے) پڑھی ہے ۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If there is an eclipse of the sun or the moon, pray like the last obligatory prayer you did before that."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1488
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed when there was an eclipse of the sun like our prayer, bowing and prostrating.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1489
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ بڑی جلدی میں گھر سے مسجد کی طرف نکلے، سورج گرہن لگا تھا، آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن زمین والوں میں بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مرجانے کی وجہ سے لگتا ہے۔ حالانکہ سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، بلکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو نیا واقعہ چاہتا ہے رونما کرتا ہے، تو ان میں سے کوئی (بھی) گہنائے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہوجائے، یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came rushing out to the masjid one day when the sun eclipsed, and he prayed until the eclipse ended, then he said: "The people of Jahilliyyah used to say that eclipses of the sun and the moon only happened when some great man on earth died. But eclipses of the sun and the moon do not happen for the death or birth of anyone. Rather they are two of the creations of Allah (SWT) and Allah (SWT) causes to happen in His creation what He wills. Whichever of them becomes eclipsed, pray until it is over or Allah (SWT) causes something to happen."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1490
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٦١٥) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں اور یہاں روایت عنعنہ سے ہے، اور سند میں انقطاع ہے، تراجع الالبانی ٣٣٩ )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا، رسول اللہ ﷺ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے، اور لوگ (بھی) آپ کی طرف لپکے، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب سورج صاف ہوگیا تو آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ دونوں نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، تو جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز چھٹ جائے جو تم پر آن پڑی ہے ، اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ (اسی روز) آپ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ بات کہی تھی۔
It was narrated that Abu Bakrah said: "We were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when the sun became eclipsed. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out dragging his garment, until he came to the masjid, and the people gathered around him. He led us in praying two rakahs and when (the eclipse) ended he said: The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT) by means of which Allah (SWT), the Mighty and Sublime, strikes fear into His slaves. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that, then pray until Allah (SWT)r relieves you of fear. That was because his son named Ibrahim had died, and the people suggested to him that (the eclipse) happened because of that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1491
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری اسی نماز کی طرح دو رکعت نماز پڑھی، اور انہوں نے سورج گرہن لگنے کا ذکر کیا۔
It was narrated from Abu Bakrah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed two rakahs like this prayer of yours, and he mentioned the eclipse of the sun.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1492
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی، آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور سورة البقرہ جیسی سورت پڑھی، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر ایک لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، پھر ایک لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں کسی کے مرنے سے نہیں گہناتے ہیں، اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، چناچہ جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو ، لوگوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ میں کسی چیز کو آگے بڑھ کرلے رہے تھے، اور پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹ رہے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اس میں سے پھل کا ایک گچھا لینے کے لیے آگے بڑھا، اور اگر میں اسے لے لیتا تو تم اس سے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا چناچہ میں نے آج سے پہلے اس بھیانک منظر کی طرح کبھی نہیں دیکھا تھا، اور میں نے اہل جہنم میں زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ایسا ان کے کفر کی وجہ سے ہے ، پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: (نہیں بلکہ) وہ شوہر کے ساتھ کفر کرتی ہیں (یعنی اس کی ناشکری کرتی ہیں) اور (اس کے) احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرو، پھر اگر وہ تم سے کوئی چیز دیکھے تو وہ کہے گی: میں نے تم سے کبھی بھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "There was an eclipse of the sun and the Messenger of Allah (ﷺ) prayed and the people with him. He stood for long time reciting something like Surah Al-Baqarah, then he raised (his head) and stood for a long time, then he raised (his head) and stood for a long time which was shorter than the first time. Then he bowed for a long time, which was shorter than the first time, then he prostrated. Then he got up and stood for a long time, which was shorter than the first time, then he bowed for a long time, which was shorter than the first time, then he raised (his head) and stood for a long time, which was shorter than the first time. Then he bowed for a long time, which was shorter than the first time, then he prostrated, then he finished (his prayer) and the sun had been clear. He said: The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT) and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then remember Allah (SWT) the Mighty and Sublime. They said: O Messenger of Allah (ﷺ), we saw you stretching out your hand when you were standing, then we saw you moving backward. He said: I saw Paradise-or it was shown to me- and I reached out to a take a bunch of its fruits. If I ha taken it you would have eaten from it for as long as this world lasts. And I saw Hell and I have never seen anything like it, and I saw that most of its inhabitants are women. They said: "Why, O Messenger of Allah (ﷺ)? He said: Because of their ingratitude. It was said: Are they ungrateful to Allah? He said: They are ungrateful to their husbands and they are ungrateful for kind treatment. If you are kind to one of them for a lifetime, then she sees (one) bad thing from you, she will say: I have never seen anything good from you."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1493
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ (گرہن کی) نماز پڑھی، آپ نے ان میں بلند آواز سے قرآت کی، آپ جب جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده، ربنا ولک الحمد کہتے۔
It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed, bowing four times, and he recited loudly, and every time he raised his head he said: "Sami Allahu liman hamidah. Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, Our Lord to You be praise.)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1494
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی (وہ کہتے ہیں) کہ ہم آپ کی آواز نہیں سن رہے تھے۔
It was narrated from Samurah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) led them in prayer during an eclipse of the sun, and we did not hear him say anything.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1495
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤٨٥ (ضعیف) (اس کے راوی ” ثعلبہ بن عباد “ لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے نماز پڑھی، تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے) سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے (شعبہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے عطاء نے سجدے کے سلسلہ میں بھی یہی بات کہی ہے) اور آپ سجدے میں رونے اور پھونک مارنے لگے، آپ فرما رہے تھے: میرے رب! تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا، میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا اور حال یہ ہے کہ میں لوگوں میں موجود ہوں ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: مجھ پر جنت پیش کی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے پھلوں گچھوں میں سے توڑ لیتا، نیز مجھ پر جہنم پیش کی گئی تو میں پھونکنے لگا اس ڈر سے کہ کہیں اس کی گرمی تمہیں نہ ڈھانپ لے، اور میں نے اس میں اس چور کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو چرایا تھا، اور میں نے اس میں بنو دعدع کے اس شخص کو دیکھا جو حاجیوں کا مال چرایا کرتا تھا، اور جب وہ پہچان لیا جاتا تو کہتا: یہ (میری اس) خمدار لکڑی کا کام ہے، اور میں نے اس میں ایک کالی لمبی عورت کو دیکھا جسے ایک بلی کے سبب عذاب ہو رہا تھا، جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ تو وہ اسے کھلاتی پلاتی تھی اور نہ ہی اسے آزاد چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے، یہاں تک کہ وہ مرگئی، اور سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گہناتے ہیں، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب ان میں سے کوئی گہنا جائے (یا کہا: ان دونوں میں سے کوئی اس میں سے کچھ کرے، یعنی گہنا جائے) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed and stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up and (remained standing) for a long time." (One of the narrators) Shubh said: "I think he said something similar concerning prostration."- "He started weeping and blowing during his prostration and said: Lord, You did not tell me that You would do that while I am asking You for forgiveness; You did not tell me that You would do that while I was still among them. When he finished praying he said: "Paradise was shown to me, and if I had stretched forth my hand I could have taken some of its fruits. And Hell was shown to me, so I started blowing for fear that its heat might overwhelm you. I saw therein the thief who stole the two camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); and I saw therein the brother of Banu As-Dudu; the thief who stole from the pilgrims, and when he was caught he said: The crooked stick did it; and I saw therein a tall black woman who was being punished because of a cat she tied up and did not feed or give it water, and she did not let it eat of the vermin of the earth, until it died. Then sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone, but they are two of the signs of Allah. If one of them becomes eclipsed- or he said: if one of them does anything like that- then hasten to remember Allah, the Mighty and Sublime."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1496
عبدالرحمٰن بن نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے زہری سے گرہن کی نماز کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ہے وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا کہ نماز جماعت سے ہونے والی ہے، تو لوگ جمع ہوگئے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی، آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، اپنے قیام کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا سجدہ کیا اپنے رکوع کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور اپنا سر اٹھایا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ایک لمبی قرآت کی، یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی لیکن یہ پہلی قرآت سے جو دوسری رکعت میں کی تھی کم تھی، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنا سر اٹھایا، پھر سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر اللہ اکبر کہا، اور سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ نے تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے سے گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو ان میں سے کسی کو گہن لگ جائے تو نماز کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو ۔
It was narrated that Aishah said: "There was an eclipse of the sun and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered a man to call out: As-salatu jamiah (prayer is about to begin in congregation). The people gathered and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led them in prayer. He said the takbir, then he recited at length. Then he said the takbir and bowed for a long time, as long as he had recited or longer. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him) Then he recited at length, but it was shorter than the first time, then he said the takbir and bowed for a long time, but it was shorter than the first time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him). Then he said the takbir and prostrated for a long time, as long as he had bowed or longer. Then he said the takbir and raised his head, then he said the takbir and prostrated. Then he said the takbir and stood up, and recited for a long time that was shorter than the first time. Then he said the takbir and bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah. (Allah hears those who praise Him). Then he recited for a long time that was shorter than the first recitation in the second standing. Then he said the takbir and bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him). Then he said the takbir and prostrated for a long time that was shorter than the first time. Then he recited the tashahhud, then he said the taslim. Then he stood before them and praised and glorified Allah, then he said: The sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone, but they are two of the signs of Allah (SWT). Whichever of them becomes eclipsed, turn to Allah (SWT), the Mighty and Sublime, and pray."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1497
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گرہن کی نماز پڑھی، تو آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر (اپنا سر رکوع سے) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر (اپنا سر سجدہ سے) اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور نماز سے فارغ ہوگئے۔
It was narrated that Asma bint Abi Bakr said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed during an eclipse. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up and (remained standing) for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up, then he prostrated for a long time, then he stood up and (remained standing) for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up, then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time, then he sat up and then he finished."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1498
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٠ (٧٤٥) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٢ (١٢٦٥) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٧)، مسند احمد ٦/٣٥٠، ٣٥١ (صحیح )