رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 18 · 220 hadiths · Page 1 of 11

1599Sunan An Nasai

گھروں میں نوافل ادا کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنِالْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔

It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar said: "Pray in your houses and do not make them like graves."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1598
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز سے مراد نوافل اور سنتیں ہیں۔ انہیں قبرستان نہ بناؤ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا وہ قبرستان کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح ایسے گھر بھی عمل اور عبادت سے محروم ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٥٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٥٢ (٤٣٢)، التھجد ٣٧ (١١٨٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٧٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٣)، ٣٤٦ (١٤٤٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٤ (٤٥١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٦ (١٣٧٧)، مسند احمد ٢/٦، ١٦، ١٢٣ (صحیح )
1600Sunan An Nasai

گھروں میں نوافل ادا کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ نَائِمٌ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صُنْعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائے، اور اگر وہ تم پر فرض کردی گئی تو تم اسے ادا نہیں کرسکو گے، تو لوگو! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل (بہترین) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے ۔

It was narrated from Zaid bin Thabit that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used some palm fiber mats to section off a small area in the masjid. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed in it for several nights until the people gathered around him. Then, one night they did not hear his voice, and they thought that he was sleeping, so they cleared their throats to make him come out to them. He said: You kept doing that until I feared that it would be made obligatory for you, and if it were made obligatory, you would not be able to do it. O people, pray in your houses, for the best prayer a person offers is in his house, apart from the prescribed (obligatory) prayers."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1599
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم تمام نفلی نمازوں کو شامل ہے، البتہ اس حکم سے وہ نمازوں مستثنیٰ ہیں جو شعائر اسلام میں شمار کی جاتی ہیں مثلاً عیدین، استسقاء اور کسوف و خسوف (چاند اور سورج گرہن) کی نمازوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٣١)، الأدب ٧٥ (٦١١٣)، الإعتصام ٣ (٧٢٩٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٨١)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٤)، ٣٤٦ (١٤٤٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٤ (٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٨)، موطا امام مالک/الجماعة ١ (٤)، مسند احمد ٥/١٨٢، ١٨٣، ١٨٦، ١٨٧، سنن الدارمی/الصلاة ٩٦ (١٤٠٦) (صحیح )
1601Sunan An Nasai

گھروں میں نوافل ادا کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَلَمَّا صَلَّى قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس (سنت) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو ۔

It was narrated from Sad bin Ishaq bin Kab bin Ujrah, from his father, that: His grandfather said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed Maghrib in the masjid of Banu Abdul-Ashhal, and when he finished praying some people stood up and offered Nafl prayers. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You should offer this prayer in your houses."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1600
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٤ (١٣٠٠)، سنن الترمذی/فیہ ٣٠٧ (الجمعة ٧١) (٦٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٧) (صحیح )
1602Sunan An Nasai

تہجد کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: عَائِشَةُ، ائْتِهَا فَسَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهَا إِلَّا مُضِيًّا، فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ لِحَكِيمٍ: مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قُلْتُ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ ؟ قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرًا، قَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَيْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنُ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَيْسَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وَتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، يَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَتِلْكَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَيَّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يَدُومَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً كَامِلَةً حَتَّى الصَّبَاحَ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَقَعَ فِي كِتَابِي وَلَا أَدْرِي مِمَّنِ الْخَطَأُ فِي مَوْضِعِ وَتْرِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ.

سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ابن عباس ؓ سے ملے تو ان سے وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اہل زمین میں رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سعد نے کہا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) تو انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ ہیں، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے سوال کرو، پھر میرے پاس لوٹ کر آؤ، اور وہ تمہیں جو جواب دیں اسے مجھے بتاؤ، چناچہ میں حکیم بن افلح کے پاس آیا، اور ان سے میں نے اپنے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس لے چلنے کے لیے کہا، تو انہوں نے انکار کیا، اور کہنے لگے: میں ان سے نہیں مل سکتا، میں نے انہیں ان دو گروہوں ١ ؎ کے متعلق کچھ بولنے سے منع کیا تھا، مگر وہ بولے بغیر نہ رہیں، تو میں نے حکیم بن افلح کو قسم دلائی، تو وہ میرے ساتھ آئے، چناچہ وہ عائشہ ؓ کے گھر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حکیم سے کہا: تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام ہیں، تو انہوں نے کہا: کون ہشام؟ میں نے کہا: عامر کے لڑکے، تو انہوں نے ان (عامر) کے لیے رحم کی دعا کی، اور کہا: عامر کتنے اچھے آدمی تھے۔ سعد نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے اخلاق سراپا قرآن تھے، پھر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام اللیل کے متعلق پوچھنے کا خیال آیا، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے نبی کریم ﷺ کے قیام اللیل کے متعلق بتائیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورة يا أيها المزمل نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے شروع میں قیام اللیل کو فرض قرار دیا، تو نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی آخر کی آیتوں کو بارہ مہینے تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، اور رات کا قیام اس کے بعد کہ وہ فرض تھا نفل ہوگیا، میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں رسول اللہ ﷺ کی وتر کے متعلق بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں بھی بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھ دیتے، تو اللہ تعالیٰ رات میں آپ کو جب اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا تو آپ مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ٢ ؎ جن میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، ذکر الٰہی کرتے، دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے تو اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ بوڑھے ہوگئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا تو وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! اس طرح کل نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ کو یہ پسند ہوتا کہ اس پر مداومت کریں، اور جب آپ نیند، بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کا قیام نہیں کر پاتے تو آپ (اس کے بدلہ میں) دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم ﷺ نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی آپ پوری رات صبح تک قیام ہی کرتے، اور نہ ہی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے، سوائے رمضان کے، پھر میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے ان کی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: عائشہ ؓ نے سچ کہا، رہا میں تو اگر میں ان کے یہاں جاتا ہوتا تو میں ان کے پاس ضرور جاتا یہاں تک کہ وہ مجھ سے براہ راست بالمشافہ یہ حدیث بیان کرتیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اسی طرح میری کتاب میں ہے، اور میں نہیں جانتا کہ کس شخص سے آپ کی وتر کی جگہ کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ٣ ؎۔

It was narrated from Sad bin Hisham that: He met Ibn Abbas and asked him about Witr. He said: "Shall I not lead you to one who knows best among the people of the world about the witr of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)?" He said: "Yes." (Ibn Abbas) said: "It is Aishah. So go to her and ask her (about witr) and then come back to me and tell me the answer that she gives you." So I went to Hakim bin Aflah and asked him to go accompany me to her. He said: "I shall not go to her, for I told her not to say anything about these two (conflicting) groups, but she refused (to accept my advice) and went on (to participate in the conflict)." I swore an oath, beseeching him (to take me to her). So he came with me and went unto her. She said to Hakim: "Who is this with you?" He said: "He is Sad bin Hisham." She said: "Which Hisham?" He said: "Ibn Amir." She supplicated for mercy for him and said: "What a good man Amir was." He said: "O Mother of the Believers, tell me about the character of the Messenger of Allah." She said: "Dont you read the Quran?" I said: "Yes." She said "The character of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was the Quran." He said: "I wanted to get up (and leave), then I thought of the Qiyam (night prayer) of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Tell me about the Qiyam of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." She said: "Do you not recite this surah: "O you wrapped in garments?" I said: "Yes." She said: "Allah, the Mighty and Sublime, made Qiyam Al-Lail obligatory at the beginning of this surah, so the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and his companions prayed Qiyam Al-Lail for one year. Allah (SWT) withheld the latter part of this surah for twelve months, then he revealed the lessening (of this duty) at the end of this surah, so Qiyam Al-Lail became voluntary after it had been obligatory." I felt inclined to stand up (and not ask anything further), then I thought of the witr of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). I said: "O Mother of the Believers, tell me about the witr of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." She said: "We used to prepare his siwak and water for his ablution, and Allah (SWT) would wake him when He wished during the night. He would use the siwak, perform ablution, and then pray eight rakahs in which he would not sit until he reached the eighth one. Then he would sit and remember Allah (SWT) and supplicate, then he would say the taslim that we could hear. Then he would pray two rakas sitting after uttering the taslim, then he would pray one rakah, and that made eleven rakahs, O my son! When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) grew older and put on weight, he prayed witr with seven rakahs, then he prayed two rakahs sitting down after saying the taslim, and that made nine rakahs. O my son, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)offered a prayer, he liked to continue to offer it, and when sleep, sickness, or pain distracted him from praying Qiyam Al-Lail, he would pray twelve rakahs during the day. I am not aware of the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) having recited the whole Quran during a single night, or praying through the whole night until morning, or fasting a complete month, except Ramadan." I went to Ibn Abbas and told him what she had said, and he said: "She has spoken the truth. If I could go to her (and meet her face to face) I would so that she could tell me all of that verbally."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1601
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی معاویہ اور علی ؓ کے درمیان میں۔ ٢ ؎: کسی راوی سے وہم ہوگیا ہے، صحیح نو رکعتیں ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، آٹھ رکعتیں لگاتار پڑھتے، اور آٹھویں رکعت پر بیٹھ کر نویں رکعت کے لیے اٹھتے۔ ٣ ؎: وتر کی جگہ میں غلطی اس طرح ہوئی ہے کہ اس حدیث میں بیٹھ کر پڑھی جانے والی دونوں رکعتوں کو اس وتر کی رکعت پر مقدم کردیا گیا جسے آپ آٹھویں کے بعد پڑھتے تھے، صحیح یہ ہے کہ آپ ان دونوں رکعتوں کو بیٹھ کر وتر کے بعد پڑھتے تھے جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٤٢، ١٣٤٣، ١٣٤٤، ١٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤)، مسند احمد ٦/٥٣، ٩٤، ١٠٩، ١٦٣، ١٦٨، ٢٣٦، ٢٥٨، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٥ (١٥١٦) (صحیح )
1603Sunan An Nasai

رمضان المبارک کی راتوں میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کے ثواب کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے (رات کا) قیام کرے گا، تو اس کے گناہ جو پہلے ہوچکے ہوں بخش دیے جائیں گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever prays Qiyam during Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1602
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧)، الصوم ٦ (١٨٩٨)، التراویح ١ (٢٠٠٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٣)، ٨٣ (٨٠٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٣ (١٣٢٦)، موطا امام مالک/رمضان ١ (٢)، مسند احمد ٢/٢٤١، ٢٨١، ٢٨٩، ٤٠٨، ٤٢٣، ٤٧٣، ٤٨٦، ٥٠٣، ٢٩، سنن الدارمی/الصوم ٥٤ (١٨١٧)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ٢٢٠١، ٢٢٠٢، ٢٢٠٣ (صحیح )
1604Sunan An Nasai

رمضان المبارک میں عبادت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو بَكْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، قال: قَالَ الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے (رات کا) قیام کرے گا، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever prays Qiyam during Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1603
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٧، ١٥٢٤٨)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: ٥٠٢٨، ٥٠٢٩ (صحیح )
1605Sunan An Nasai

ماہ رمضان میں نفلی عبادت کرنا۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ وَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْوَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ کی نماز کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ نے آنے والی رات میں بھی نماز پڑھی اور لوگ بڑھ گئے تھے، پھر تیسری یا چوتھی رات میں لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی طرف نکلے ہی نہیں، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم نے جو دلچسپی دکھائی اسے میں نے دیکھا، تو تمہاری طرف نکلنے سے مجھے صرف اس چیز نے روک دیا کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ تمہارے اوپر فرض نہ کردی جائے ، یہ رمضان کا واقعہ تھا ١ ؎۔

It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed in the masjid one night, and some people followed his prayer. Then he prayed the following night and more people came. Then they gathered on the third or fourth night and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not come out to them. When morning came he said: "I saw what you did, and nothing prevented me from coming out to you but the fact that I feared that this would be made obligatory for you," and that was in Ramadan.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1604
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد یہ اندیشہ باقی نہیں رہا اس لیے تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنے میں اب کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مشروع ہے، رہا یہ مسئلہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان تینوں راتوں میں تراویح کی کتنی رکعتیں پڑھیں، تو دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ نے ان راتوں میں اور بقیہ قیام اللیل میں آٹھ رکعتیں پڑھیں اور وتر کی رکعتوں کو ملا کر اکثر گیارہ اور کبھی تیرہ رکعت تک پڑھنا ثابت ہے، یہی صحابہ سے اور خلفاء راشدین سے منقول ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے بیس رکعتیں پڑھیں لیکن یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، لائق استناد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨٠ (٧٢٩)، الجمعة ٢٩ (٩٢٤)، التھجد ٥ (١١٢٩)، التراویح ١ (٢٠١١)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦١)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٤)، موطا امام مالک/رمضان ١ (١)، مسند احمد ٦/١٦٩، ١٧٧ (صحیح )
1606Sunan An Nasai

ماہ رمضان میں نفلی عبادت کرنا۔

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، فَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ، قَالَ: إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا وَلَمْ يَقُمْ حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ ؟ قَالَ: السُّحُورُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں روزے رکھے، تو آپ ہمارے ساتھ (تراویح کے لیے) کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، پھر چوبیسویں رات کو قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات کو قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہماری اس رات کے باقی حصہ میں بھی اسی طرح نفلی نماز پڑھاتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں پوری رات کے قیام (کا ثواب) لکھے گا ، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، اور نہ آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ستائیسویں رات میں ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ کہنے لگے: سحری ہے۔

It was narrated that Abu Dharr said: "We fasted with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in Ramadan and he did not lead us in praying Qiyam until there were seven days left in the month, when he led us in praying Qiyam until one-third of the night had passed. Then he did not lead us in praying Qiyam when there were six days left. Then he led us praying Qiyam when there were five days left until one-half of the night had passed. I said: "O Messenger of Allah! What if we spend the rest of this night praying Nafl?" He said: "Whoever prays Qiyam with the Imam until he finishes, Allah (SWT) will record for him the Qiyam of a (whole) night." Then he did not lead us in prayer or pray Qiyam until there were three days of the month left. Then he led us in praying Qiyam when there were three days left. He gathered his family and wives (and led us in prayer) until we feared that we would miss Al-Falah. I (one of the narrators) said: "What is Al-Falah?" He said: "The suhur".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1605
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣٦٥ (صحیح )
1607Sunan An Nasai

ماہ رمضان میں نفلی عبادت کرنا۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ، قال: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ، يَقُولُ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ وَكَانُوا يُسَمُّونَهُ السُّحُورَ.

نعیم بن زیاد ابوطلحہ کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بشیر ؓ کو حمص میں منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تیئسویں رات کو تہائی رات تک قیام کیا، پھر پچسویں رات کو آدھی رات تک قیام کیا، پھر ستائیسویں رات کو ہم نے آپ کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہم فلاح نہیں پاسکیں گے، وہ لوگ سحری کو فلاح کا نام دیتے تھے۔

Nuaim bin Ziyad Abu Talhah said: "I heard An-Numan bin Bashir on the minbar in Hims saying: "We prayed Qiyam with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) during Ramadan on the night of the twenty-third until one-third of the night had passed, then we prayed Qiyam with him on the night of the twenty-fifth until one-half of the night had passed, then we prayed Qiyam with him on the night of the twenty-seventh until we thought that we would miss Al-Falah- that is what they used to call suhur."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1606
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٦٤٢)، مسند احمد ٤/٢٧٢ (صحیح )
1608Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ عَقَدَ الشَّيْطَانُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا أَيِ ارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ أُخْرَى، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ كُلُّهَا فَيُصْبِحُ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی رات بہت لمبی ہے، پس سوئے رہ، تو اگر وہ بیدار ہوجاتا ہے، اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر اس نے نماز پڑھی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، اور وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ہش اس بش اس اور خوش دل ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ بددل اور سست ہوتا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When any one of you goes to sleep, the Shaitan ties three knots on his head, saying each time: "(Sleep) a long night." If he wakes up and remembers Allah (SWT), one knot is undone. If he performs wudu, another knot is undone. If he prays, all the knots are undone and he starts his day in a good mood and feeling energetic. Otherwise he starts his day in a bad mood and feeling lethargic."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1607
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد ١٢ (١١٤٢)، بدء الخلق ١١ (٣٢٦٩)، موطا امام مالک/المسافرین ٢٨ (٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٨٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٧ (١٣٠٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٤ (١٣٢٩)، موطا امام مالک/ صلاة السفر ٢٥ (٩٥)، مسند احمد ٢/٢٤٣، ٢٥٣ (صحیح )
1609Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، تو آپ نے فرمایا: یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "Mention was made in the presence of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about a man who slept all night until morning. He said: That is a man in whose ear the Shaitan has urinated."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1608
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے کہا کہ کان میں شیطان کا پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک یہ کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لیے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٣ (١١٤٤)، بدء الخلق ١١ (٣٢٧٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٨ (٧٧٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٤ (١٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٢٩٧)، مسند احمد ١/٣٧٥، ٤٢٧ (صحیح )
1610Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ الْبَارِحَةَ حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْطَانٌ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کل کی رات نماز سے سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، تو آپ نے فرمایا: اس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے ۔

It was narrated that Abdullah said: "A man said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). So-and-so slept and missed the prayer yesterday until morning came. He said: The Shaitan has urinated in that ones ears."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1609
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٠٩ (صحیح )
1611Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ثُمَّ أَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ثُمَّ أَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ (بھی) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو (بھی) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah (SWT) have mercy on a man who gets up at night and prays, then he wakes his wife and she prays, and if she refuses he sprinkles water in her face. And may Allah (SWT) have mercy on a woman who gets up at night and prays, then she wakes her husband and prays, and if he refuses she sprinkles water in his face."

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1610
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ پانی کے چھینٹے مارنے سے وہ جاگ جائے گا، اور نماز پڑھے گا تو وہ بھی اس کی مستحق ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٧ (١٣٠٨)، ٣٤٨ (١٤٥٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٥ (١٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٠)، مسند احمد ٢/٢٥٠، ٤٣٦ (حسن صحیح )
1612Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَلَا تُصَلُّونَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اور فاطمہ کو (دروازہ کھٹکھٹا کر) بیدار کیا، اور فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ ﷺ پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر (ہاتھ) مار کر فرما رہے تھے: وكان الإنسان أكثر شىء جدلا انسان بہت حجتی ہے ۔

It was narrated from Ali bin Abi Talib that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to him and Fatimah at night and said: "Wont you pray?" I said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), our souls are in the hand of Allah and if He wants to make us get up, He will make us get up." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went away when I said that to him. Then as he was leaving I heard him striking his thigh and saying: But, man is ever more quarrelsome than anything.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1611
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٥ (١١٢٧)، تفسیر الکھف ١ (٤٧٢٤)، الاعتصام ١٨ (٧٣٤٧)، التوحید ٣١ (٧٤٦٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٨ (٧٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٠)، مسند احمد ١/١١٢ (صحیح )
1613Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمِّي، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنِيحَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قال: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا، فَقَالَ: قُومَا فَصَلِّيَا، قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ: مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں میرے اور فاطمہ کے پاس آئے، اور آپ نے ہمیں نماز کے لیے بیدار کیا، پھر آپ اپنے گھر لوٹ گئے، اور جا کر دیر رات تک نماز پڑھتے رہے، جب آپ نے ہماری کوئی آہٹ نہیں سنی تو آپ دوبارہ ہمارے پاس آئے، اور ہمیں بیدار کیا، اور فرمایا: تم دونوں اٹھو، اور نماز پڑھو ، تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا، میں اپنی آنکھ مل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی، ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اگر وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تو بیدار کر دے گا تو یہ سنا تو رسول اللہ ﷺ پیٹھ پھیر کر جانے لگے، آپ اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ١ ؎ انسان بہت ہی حجتی ہے ۔

It was narrated from Ali bin Husain, from his father, that: Hs grandfather Ali bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came in to Fatimah and I, one night and woke us up to pray, then he went back to his house and prayed for part of the night, and he did not hear any movement from us. He came back to us and woke us up, and said: Get up and pray. I sat up, rubbing my eyes, and said: By Allah, we will only pray that which has decreed for us; our souls are in the hand of Allah (SWT) and if He wants to make us get up, He will make us get up. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned away, striking his hand on his thigh, saying: We will only pray that which Allah (SWT) has decreed for us! But man is ever more quarrelsome than anything."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1612
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ علی ؓ کی بات تھی جسے آپ بطور تعجب دہرا رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦١٢ (صحیح )
1614Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ١ ؎، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل (تہجد) ہے ۔

It was narrated from Humaid bin Abdur-Rahman- that is Ibn Awf, that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best fasting after the month of Ramadan is the month of Allah, Al-Muharram, and the best prayer is prayer at night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1613
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی طرف اس مہینے کی نسبت شرف و فضل کی علامت کے طور پر ہے، جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ وغیرہ تراکیب ہیں، محرم حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے، اسی مہینے سے ہجری سن کا آغاز ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣)، سنن ابی داود/الصیام ٥٥ (٢٤٢٩)، سنن الترمذی/الصل ا ٢٠٨ (٤٣٨) الصوم ٤٠ (٧٤٠)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٣ (١٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩٢)، مسند احمد ٢/٣٠٣، ٣٢٩، ٣٤٢، ٣٤٤، ٥٣٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٦ (١٥١٧)، الصوم ٤٥ (١٧٩٨، ١٧٩٩) (صحیح )
1615Sunan An Nasai

رات کو نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ قِيَامُ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ الْمُحَرَّمُأَرْسَلَهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ.

حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل (تہجد) ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں ۔ شعبہ بن حجاج نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔

It was narrated from Abu Bishr Jafar bin Abi Wahshiyyah that: He heard Humaid bin Abdur-Rahman say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best prayer after the obligatory (fard) prayers is prayer at night and the best fasting after the month of Ramadan is Al-Muharram." Shubah bin Al-Hajjaj narrated it in Mursal form.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1614
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح بما قبلہ) (یہ مرسل ہے لیکن پچھلی روایت متصل ہے )
1616Sunan An Nasai

سفر میں نماز تہجد پڑھنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ رِبْعِيًّا، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ، فَتَخَلَّفَهُمْ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَانْهَزَمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین شخص سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آیا، اور اس نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا، آپ سی قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، تو انہوں نے اسے نہیں دیا، پھر انہی میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے سے آیا، اور چھپا کر چپکے سے اسے دیا، اور اس کے اس صدقہ دینے کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اس شخص کے جس کو اس نے دیا ہے کوئی نہیں جانتا، اور دوسرا آدمی وہ ہے جس کے ساتھ کے لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب نیند انہیں بھلی معلوم ہونے لگی تو وہ اترے اور سو رہے، لیکن وہ خود کھڑا ہو کر اللہ کے سامنے عاجزی کرتا رہا، اور اس کی آیتیں تلاوت کرتا رہا، اور تیسرا وہ شخص ہے جو ایک لشکر میں تھا، دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی، تو وہ ہار گئے (جس کی وجہ سے بھاگنے لگے) لیکن وہ سینہ سپر رہا یہاں تک کہ وہ مارا جائے، یا اللہ اسے فتح دے ۔

It was narrated from Zaid bin Zabyan who attributed it to Abu Dharr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three whom Allah (SWT) loves: A man who comes to some people and asks (to be given something) for the sake of Allah and not for the sake of their relationship, but they do not give him, so a man stayed behind and gave it to him in secret, and no one knew of his giving except Allah (SWT) and the one to whom he gave it. People who travel all night until sleep becomes dearer to them than anything equated with it, so they lay down their heads (and slept), then a man among them got up and started praying to Me and beseeching Me, reciting My Verses. And a man who was on a campaign and met the enemy and they fled, but he went forward (pursuing them) until he was killed or victory was granted."

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1615
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة الجنة ٢٥ (٢٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ١١٩١٣)، مسند احمد ٥/١٥٣، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٥٧١ (کلھم بسیاق فیہ زیادة) (ضعیف) (اس کے راوی ” زیدبن ظبیان “ لین الحدیث ہیں )
1617Sunan An Nasai

رات میں نوافل پڑھنے کا وقت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ، قُلْتُ: فَأَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ ؟ قَالَتْ: إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ.

مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ١ ؎۔

It was narrated that Masruq said: "I said to Aishah: Which deed was most beloved to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? She said: That which was done persistently. I said: At what part of the night did he pray Qiyam? She said: When he heard the rooster."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1616
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عام معمول کی بات ہوگی، ورنہ خود عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ رات کے ہر حصے میں سوتے یا نماز پڑھتے پائے گئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٧ (١١٣٢)، الرقاق ١٨ (٦٤٦١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤١)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٢ (١٣١٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٥٩)، مسند احمد ٦/٩٤، ١١٠، ١٤٧، ٢٠٣، ٢٧٩ (صحیح )
1618Sunan An Nasai

شب میں بیدار ہونے پر سب سے پہلے کیا پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ ﷺ دس بار اللہ اکبر، دس بار الحمد للہ، دس بار سبحان اللہ اور دس بار لا الٰہ الا اللہ اور دس بار استغفر اللہ کہتے تھے، اور اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔

It was narrated that Asim bin Humaid said: "I asked Aishah with what did he- meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)- start Qiyam Al-Lail? She said: You have asked me something which no one before you has asked. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the takbir ten times, the tahmid ten times, the tasbih ten times, and the tahlil ten times, and pray for forgiveness ten times, and say: Allahummaghfirli, wahdini, warzuqni wa afini. Audhu billahi min diqil-maqami yawmal-qiyamah (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and good health. I seek refuge with Allah from the difficulty of standing on the Day of Resurrection.)"

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1617
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٦٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٠ (١٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٦) مسند احمد ٦/١٤٣، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: ٥٥٣٧ (حسن صحیح )