عیدین سے متعلقہ احادیث کی کتاب

Sunan An Nasai · Chapter 17 · 42 hadiths · Page 3 of 3

1597Sunan An Nasai

عید کے دن مسجد میں کھیلنا اور خواتین کا کھیل دیکھنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ (مسجد میں) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑو (کھیلنے دو ) یہ بنو ارفدہ ہی تو ہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "Umar came in when the Ethiopians were playing in the masjid. Umar, may Allah (SWT) be pleased with him, rebuked them, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Let them be there, O Umar, for they are Banu Arfidah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1596
Notes · وضاحت
١ ؎: بنی ارفدہ حبشیوں کا لقب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣١٩٤)، وقد أخرجہ: خ /الجھاد ٧٩ (٢٩٠١)، صحیح مسلم/العیدین ٤ (٨٩٣)، مسند احمد ٢/٣٦٨، ٥٤٠ (صحیح )
1598Sunan An Nasai

عید کے روز گانے اور دف بجانے کی اجازت کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًىوَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ ان کے (گھر میں) داخل ہوئے، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور گانا گا رہی تھیں ١ ؎، رسول اللہ ﷺ اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا، اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑو کھیلنے دو، یہ عید کے دن ہیں، اور منیٰ کے دن تھے ٢ ؎ اور رسول اللہ ﷺ ان دنوں مدینہ میں تھے۔

It was narrated from Urwah that he narrated from Aishah that Abu Bakr As-Siddiq : Entered upon her and there were two girls with her beating the duff and singing, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was covered with his garment. He uncovered his face and said: "Let them be there, O Abu Bakr, for these are the days of Eid." Those were the days of Mina and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was in Al-Madinah on that day."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1597
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ گانا کوئی فحش گانا نہیں تھا، بلکہ ان کے آباء و اجداد کی بہادری کے قصے تھے، فحش گانے کسی بھی صورت میں اور کسی بھی موقع پر جائز نہیں، نیز جائز گانوں میں بھی موسیقی کی آمیزش ہو تو جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٠٩) (صحیح )