عیدین سے متعلقہ احادیث کی کتاب

Sunan An Nasai · Chapter 17 · 42 hadiths · Page 2 of 3

1577Sunan An Nasai

خطبہ دیتے وقت امام کا منہ لوگوں کی طرف ہو

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الثَّانِيَةِ وَسَلَّمَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ وَإِلَّا أَمَرَ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے تو لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر جب دوسری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے، تو کھڑے ہوتے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، پھر اگر آپ کو کوئی ضرورت ہوتی جیسے کہیں فوج بھیجنا ہو تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ دینے کا حکم دیتے، تین بار کہتے: صدقہ کرو ، تو صدقہ دینے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھیں۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to go out to the prayer place on the day of Al-Fitr and the day of Al-Adha and lead the people in prayer. When he sat during the second rakah and said the taslim, he stood up and turned to face the people while the people were sitting. If he needed to mention something concerning the dispatch of an army he would tell the people, otherwise he would enjoin the people to give charity. He said: "Give charity" three times, and among those who gave the most charity were the women.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1576
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٦ (٣٠٤)، العیدین ٦ (٩٥٦)، الزکاة ٤٤ (١٤٦٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٤ (٨٠) مطولاً، العیدین (٨٨٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٨ (١٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧١)، مسند احمد ٣/٣٦، ٥٧ (صحیح )
1578Sunan An Nasai

دوران خطبہ دوسرے کو کہنا خاموش رہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If you say to your companion: Be quiet and listen when the imam is delivering the Khutbah, you have engaged in idle speech."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1577
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٥ (١١١٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٤٠)، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦)، مسند احمد ٢/٤٧٤، ٤٨٥، ٥٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٩٠) (صحیح )
1579Sunan An Nasai

خطبہ کیسے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِوَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ، وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے: جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ، پھر آپ فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہوجاتے، اور آواز بلند ہوجاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں: (ہوشیار رہو! دشمن) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے: جو (مرنے کے بعد) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "In his Khutbah the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to praise Allah as He deserves to be praised, then he would say: Whomsoever Allah (SWT) guides, none can lead him astray, and whomsoever Allah sends astray, none can guide. The truest of word is the Book of Allah and best of guidance is the guidance of Muhammad. The worst of things are those that are newly invented; every newly-invented thing is an innovation and every innovation is going astray, and every going astray is in the Fire. Then he said: The Hour and I have been sent like these two. Whenever he mentioned the Hour, his cheeks would turn red, and he would raise his voice and become angry, as if he were warning of an approaching army and saying: An army is coming to attack you in the morning, or in the evening! (Then he said): Whoever leaves behind wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependents, then these are my responsibility, and I am the most entitled to take care of the believers."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1578
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جن کا کفیل کوئی نہیں ان کا کفیل میں ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٧)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٥)، مسند احمد ٣/٣١٠، ٣١١، ٣١٩، ٣٣٧، ٣٧١، سنن الدارمی/المقدمة ٢٣ (٢١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٩) (صحیح )
1580Sunan An Nasai

امام کا دوران خطبہ صدقہ دینے کی تلقین کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قال: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا رَجَعَ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر خطبہ دیتے تو صدقہ کرنے کا حکم دیتے، تو صدقہ کرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھی، پھر اگر آپ کو کوئی حاجت ہوتی یا کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو ذکر کرتے ورنہ لوٹ آتے۔

It was narrated from Abu Saeed that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to go out on the day of Eid and pray two rakahs, then he would deliver the Khutbah and enjoin giving charity, and the ones who gave most charity were the women. If he had any exigency or he needed to send an army he would speak of that, if not, he would go back.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1579
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٧٧ (صحیح )
1581Sunan An Nasai

امام کا دوران خطبہ صدقہ دینے کی تلقین کرنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَأَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ.

حسن بصری سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو، تو (یہ سن کر) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، تو انہوں نے کہا: یہاں مدینہ والے کون کون ہیں، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو، چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام، مرد، عورت سب پر فرض کیا ہے۔

It was narrated from Al-Hasan that: Ibn Abbas gave a Khutbah in Al-Basrah and said: "Pay the zakah of your fasting." The people started looking at one another. He said: "Whoever there is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) enjoined sadaqat al-fitr on the young and the old, the free and the slave, the male and the female; half a sa of wheat or a sa of dried dates or barley."

صحيح المرفوع منهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1580
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٠ (١٦٢٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٤)، مسند احمد ١/٢٢٨، ٣٥١، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٥١٠، ٢٥١٧ (صحیح) (سند میں حسن بصری کا سماع ابن عباس ؓ سے نہیں ہے، اس لیے صرف حدیث کا مرفوع حصہ دوسرے طرق سے تقویت پاکر صحیح ہے )
1582Sunan An Nasai

امام کا دوران خطبہ صدقہ دینے کی تلقین کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي ؟ قَالَ: نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: جس نے ہماری (طرح) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کردی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ١ ؎ تو ابوبردہ بن نیار ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کردیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کردی، چناچہ میں نے (خود) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہوئی (اب قربانی کے طور پر دوسری کرو) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے (بھی) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہوگا ۔

It was narrated that Al-Bara said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us on the day of An-Nahr after the prayer, then he said: Whoever prays and offers the sacrifice as we do, his ritual is complete, and whoever offers the sacrifice before the prayer, that is just ordinary meat. Abu Burdah bin Niyar said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), by Allah, we offered the sacrifice before I came out to the prayer, because I knew that today is the day of eating and drinking, so I hastened to do it and I ate of it and fed it to my family and neighbors. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: That is just a sheep for meat. He said: I have a jadhaah that is better than two meaty sheep, will that be sufficient (as a sacrifice) for me? He said: Yes, but it will not be sufficient for anyone after you."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1581
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ قربانی کے لیے نہیں بلکہ صرف کھانے کے لیے ذبح کی گئی بکری ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٦٤ (صحیح )
1583Sunan An Nasai

متوسط خطبہ دینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتا تھا، تو آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی، اور آپ کا خطبہ (بھی) درمیانہ (اوسط درجہ کا) ہوتا تھا۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I used to pray with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and his prayer was moderate in length and his Khutbah was moderate in length."

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1582
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٧ (٥٠٧)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩ (١٥٩٨)، ٢٠٠ (١٦٠٠) (صحیح )
1584Sunan An Nasai

دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا اور سکوت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ فِيهَا، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ خَبَّرَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا فَلَا تُصَدِّقْهُ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivering the Khutbah standing up, then he sat down for a while and did not speak, then he stood up and delivered another Khutbah. Whoever tells you that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered a Khutbah sitting do not believe him."

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1583
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مؤلف کا محض استنباط ہے، جس کی بنیاد عیدین کے خطبہ کو جمعہ کے خطبہ پر قیاس ہے، خاص طور پر عیدین کے خطبہ کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی صراحت مروی نہیں ہے، اس لیے بعض علماء جمعہ کے خطبہ پر قیاس کر کے عیدین میں بھی دو خطبے کے قائل ہیں، جب کہ بعض علماء صرف ایک خطبہ کے قائل ہیں، عیدین کے سلسلے میں ایک خطبہ ہی قرین قیاس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٨ (١٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٩٧)، مسند احمد ٥/٩٠، ٩٧ (حسن )
1585Sunan An Nasai

خطبہ دوم میں تلاوت قرآن و ذکر الہی کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط (درمیانی) ہوا کرتی تھی۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver the Khutbah standing, then he would sit down, then he would stand up and recite some verses and remember Allah (SWT). And his Khutbah was moderate in length, and his prayer was moderate in length."

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1584
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤١٩ (صحیح )
1586Sunan An Nasai

اختتام خطبہ سے قبل امام کا نیچے آنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلَام، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ وَحَمَلَهُمَا، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى نَزَلْتُ فَحَمَلْتُهُمَا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حسن اور حسین ؓ سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آتے دکھائی دیے، آپ منبر سے اتر پڑے، اور ان دونوں کو اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: إنما أموالکم وأولادکم فتنة تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا یہاں تک کہ میں منبر سے اتر گیا، اور میں نے ان کو اٹھا لیا۔

It was narrated from Ibn Buraidah that: His father said: "While the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was on the minbar, Al-Hasan and Al-Husain came,wearing red shirts, walking and stumbling. He came down and picked them up, then said: Allah has spoken the truth: Your wealth and your children are only a trial. I saw these two walking and stumbling in their shirts, and I could not be patient until I went down and picked them up."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1585
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤١٤ (صحیح )
1587Sunan An Nasai

خطبہ کے بعد خواتین کو نصیحت اور صدقے کی ترغیب

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ، يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِفَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلَقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.

عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں میں نے ابن عباس ؓ سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، تو آپ نے (وہاں) نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے (اور اپنا زیور اتار اتار کر) بلال ؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔

Abdur-Rahman bin Abbas said: "I heard Abbas when a man said to him: Did you go out (to the Eid prayer) with the Messenger of Allah? He said: Yes, and were it not for my kinship (position) with him I would not have done so"-meaning due to him being so young- "He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) went to the mark near the house of Kathir bin As-Salt and prayed, then delivered a Khutbah. Then he went to the women. He exhorted them and reminded them and told them to give charity. So a woman would bring her hand near her neck and take off her necklace and put it in the garment of Bilal."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1586
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٢ (٩٨)، الأذان ١٦١ (٨٦٣)، العیدین ٨ (٩٦٤)، ١٩ (٩٧٧)، الزکاة ٢١ (١٤٣١)، ٣٣ (١٤٤٩)، تفسیر الممتحنة ٣ (٤٨٩٥)، النکاح ١٢٥ (٥٢٤٩)، الإعتصام ١٦ (٧٣٢٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٠ (١١٤٦)، (تحفة الأشراف: ٥٨١٦)، مسند احمد ١/٢٣٢، ٣٤٥، ٣٥٧، ٣٦٨، وانظر أیضاً حدیث رقم: ١٥٧٠ (صحیح )
1588Sunan An Nasai

نماز عید سے قبل یا بعد نماز پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عید کے دن نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، نہ تو ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی، اور نہ ہی ان کے بعد۔

It was narrated from Ibn Abbas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out on the day of Eid and prayed two rakahs, and he did not pray before or after them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1587
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٢٦ (٩٨٩)، الزکاة ٢١ (١٤٣١)، اللباس ٥٧ (٥٨٨١)، ٥٩ (٥٨٨٣)، صحیح مسلم/العیدین ٢ (٨٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٦ (١١٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٠ (الجمعة ٣٥) (٥٣٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦٠ (١٢٩١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٨)، مسند احمد ١/٢٨٠، ٣٤٠، ٣٥٥، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٩ (١٦٤٦) (صحیح )
1589Sunan An Nasai

امام کا قربانی کرنا تعداد قربانی

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کے دن ہمیں خطبہ دیا، اور (اس کے بعد) آپ دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف جھکے اور انہیں ذبح کیا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us on the day of Al-Adha and went to two black and white rams and slaughtered them."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1588
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأضاحي ٤ (٥٥٤٩)، ٩ (٥٥٥٨)، ١٢ (٥٥٦١)، ١٤ (٥٥٦٥)، صحیح مسلم/الأضاحي ١ (١٩٦٢)، سنن ابی داود/الضحایا ٤ (٢٧٩٣)، سنن الترمذی/الأضاحي ٢ (١٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٢ (٣١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٥)، مسند احمد ٣/١١٣، ١١٧، ویأتی عند المؤلف فی الأضاحي ٤٣٩٣، ٤٤٠١ (صحیح )
1590Sunan An Nasai

امام کا قربانی کرنا تعداد قربانی

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ ہی میں ذبح یا نحر کرتے تھے۔

It was narrated from Nafi that: Abdullah (bin Umar) told him that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to offer sacrifice in the prayer place.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1589
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٢٢ (٩٨٢)، الأضاحي ٦ (٥٥٥٢)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٧ (٣١٦١)، (تحفة الأشراف: ٨٢٦١)، مسند احمد ٢/١٠٨، ویأتی عند المؤلف برقم: ٤٣٧١ (صحیح )
1591Sunan An Nasai

جمعہ کے دن عید ہو تو کیا کرے؟

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، قُلْتُ: عَنْ أَبِيهِ، قال: نَعَمْ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ وَالْعِيدِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَإِذَا اجْتَمَعَ الْجُمُعَةُ وَالْعِيدُ فِي يَوْمٍ قَرَأَ بِهِمَا.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ اور عید دونوں میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہوجاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔

It was narrated that An-Numan bin Bashir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite: Glorify the Name of your Lord, the Most High and "Has there come to you the narration of The Overwhelming?, on Friday and on Eid, and when Friday and Eid converged, he would recite them both."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1590
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤٢٥ (صحیح )
1592Sunan An Nasai

اگر عید اور جمعہ ایک ہی روز ہوں تو جس شخص نے نماز عید پڑھی ہو اسے جمعہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا اختیار ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْإِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَأَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ ؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى الْعِيدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ.

ایاس بن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو سنا، انہوں نے زید بن ارقم ؓ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عیدین میں رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے صبح میں عید کی نماز پڑھی، پھر آپ نے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت دی۔

It was narrated that Iyas bin Abi Ramlah said: "I heard Muawiyah asking Zaid bin Arqam (RA): Did you attend two Eids with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? He said: Yes; he prayed Eid at the beginning of the day then he granted a concession with regard to jumuah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1591
Notes · وضاحت
١ ؎: عیدین سے مراد وہ دن ہے جس میں عید اور جمعہ دونوں ایک ساتھ آ پڑتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١٧ (١٠٧٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦٦ (١٣١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٧)، مسند احمد ٤/٣٧٢، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٥ (١٦٥٣) (صحیح )
1593Sunan An Nasai

اگر عید اور جمعہ ایک ہی روز ہوں تو جس شخص نے نماز عید پڑھی ہو اسے جمعہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا اختیار ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قال: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَةَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ لِلنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْجُمُعَةَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَصَابَ السُّنَّةَ.

وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ ابن زبیر ؓ کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہوگئیں، تو ابن زبیر ؓ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، پھر وہ نکلے، اور انہوں نے خطبہ دیا، تو لمبا خطبہ دیا، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات ابن عباس ؓ سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ١ ؎۔

Wahb bin Kaisan said: "Eid and Jumuah fell on the same day during the time of Ibn Az-Zubair, so he delayed going out until the sun had risen quite high. Then he went out and delivered a Khutbah, and he made the Khutbah lengthy. Then he came down and prayed, and he did not lead the people in praying jumuah that day. Mention of that was made to Ibn Abbas and he said: He has followed the sunnah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1592
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح صورت حال یہ ہے کہ آپ ﷺ نے خود اہل مدینہ کے ساتھ جمعہ پڑھا بھی اور انہیں پڑھایا بھی، ہاں دور سے آنے والے لوگوں کو جمعہ میں آنے سے رخصت دے دی، آپ نے فرمایا تھا: نحن مجمعون یعنی ہم تو جمعہ پڑھیں گے، (ابوداؤد، ابن ماجہ من حدیث ابوہریرہ وابن عباس) نیز ابھی حدیث رقم ١٥٩٠ میں گزرا کہ جب عید اور جمعہ ایک ہی دن آ پڑتے تھے تو آپ سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية دونوں میں پڑھا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢١٧ (١٠٧١)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٥٣٨) (صحیح )
1594Sunan An Nasai

عید کے روز دف بجانا!

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو ان دونوں کو ابوبکر ؓ نے ڈانٹا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انہیں چھوڑو (بجانے دو ) کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے (جس میں لوگ کھیلتے کودتے اور خوشی مناتے ہیں) ۔

It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon her and there were two girls with her who were beating the duff. Abu Bakr scolded them, but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Leave them, for every people has an Eid."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1593
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین ٢ (٩٤٩)، ٣ (٩٥٢)، ٢٥ (٩٨٧)، الجھاد ٨١ (٢٩٠٦)، المناقب ١٥ (٣٥٢٩)، مناقب الأنصار ٤٦ (٣٩٣١)، صحیح مسلم/العیدین ٤ (٨٩٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢١ (١٨٩٨)، مسند احمد ٦/٣٣، ٨٤، ٩٩، ١٢٧، ١٣٤ (صحیح )
1595Sunan An Nasai

عید کے دن امام کے سامنے کھیلنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ السُّودَانُ يَلْعَبُونَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَدَعَانِي، فَكُنْتُ أَطَّلِعُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي انْصَرَفْتُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھیل کود رہے تھے، آپ نے مجھے بلایا، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں (خود) ہی لوٹ آئی۔

It was narrated that Aishah said: "The black people came and played in front of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on the day of Eid. He called me and I watched them from over his shoulder, and I continued to watch them until I was the one who moved away."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1594
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٠٩١) صحیح البخاری/الصلاة ٦٩ (٤٥٤)، العیدین ٢ (٩٥٠)، ٢٥ (٩٨٨)، الجھاد ٨١ (٢٩٠٧)، المناقب ١٥ (٢٥٣٠) النکاح ٨٢ (٥١٩٠)، ١١٤ (٥٢٣٦)، صحیح مسلم/العیدین ٤ (٨٩٢)، مسند احمد ٦/٥٦، ٨٣، ٨٥، ١١٦، ١٨٦، ٢٣٣، ٢٤٢، ٢٤٧، ٢٧٠ (صحیح )
1596Sunan An Nasai

عید کے دن مسجد میں کھیلنا اور خواتین کا کھیل دیکھنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود (دیکھنے) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔

It was narrated that Aishah said: "I remember the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) covering me with his Rida while I was watching the Ethiopians playing in the masjid, until I got bored. So you should understand the keenness of young girls to play."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1595
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١١٤ (٥٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١٣)، مسند احمد ٦/٨٤، ٨٥ (صحیح )