عید کے روز دف بجانا!
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو ان دونوں کو ابوبکر ؓ نے ڈانٹا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انہیں چھوڑو (بجانے دو ) کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے (جس میں لوگ کھیلتے کودتے اور خوشی مناتے ہیں) ۔
It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon her and there were two girls with her who were beating the duff. Abu Bakr scolded them, but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Leave them, for every people has an Eid."