انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، جب نبی اکرم ﷺ (مکہ سے ہجرت کر کے) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے (اب) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The people of the Jahiliyyah had two days each year when they would play. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Al-Madinah he said: You had two days when you would play, but Allah (SWT) has given Muslims something instead that is better than them: the day of Al-Fitr and the day of Al-Adha."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1556
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے (اور آپ سے اس کا ذکر کیا) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔
It was narrated from Umair bin Anas from his paternal uncles, that : Some people saw the crescent moon and came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he told them to break their fast after the sun has risen and to go out for Eid the (morning of the) following day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1557
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٥ (١١٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠٣)، مسند احمد ٥/٥٧، ٥٨ (صحیح )
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ ؓ جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ دوشیزائیں، پردہ والیاں، اور جو حیض سے ہوں (عید گاہ کو) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں ۔
It was narrated that Hafsah said: "Umm Atiyyah would never mention the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) without saying: May my father be ransomed for him. I said: Did you hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say such-and-such? And she said: Yes, may my father be ransomed for him. He said: Let the adolescent girls, women in seclusion and menstruating women come out and attend the Eid and supplications of the Muslims, but let the menstruating women keep away from the prayer place."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1558
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ام عطیہ ؓ سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ سے (ایسا ایسا کہتے ہوئے) سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، (انہوں نے کہا: ہاں) آپ نے فرمایا: بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی (عید کی نماز کے لیے) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ (عید گاہ) سے الگ تھلگ رہیں ۔
It was narrated that Muhammad said: "I met Umm Atiyyah and said to her: Did you hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say (anything)? When she mentioned him, she would say: May my father be ransomed for him. (He said) Bring out the adolescent girls and the women in seclusion and let them witness goodness and the supplication of the Muslims, but let the menstruating women keep away from the place where the people pray."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1559
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا (بکتے ہوئے) پایا، تو اسے لیا، اور اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیں، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہوگا، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہوگا ، تو عمر ؓ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بیچ دو، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو ١ ؎۔
It was narrated from Salim that: His father said: "Umar bin A-Khattab, may Allah be pleased with him, found a Hullah of Istibraq in the market. He took it and brought it to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), why dont you buy this and adorn yourself with it for the two Eids and when (meeting) the delegations? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: This is the clothing of one who has no share in the Hereafter, or: This is worn by one who has no share in the Hereafter. Then as much time passed as Allah (SWT) willed, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent to Umar a garment made of Dibaj. He brought it to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, you said that this is the clothing of one who has no share in the Hereafter, then you sent this to me? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Sell it and use the money for whatever you need."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1560
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ تم خود اسے پہنو، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ بیچ کر تم اس کی قیمت اپنی ضرورت میں صرف کرو۔
ثعلبہ بن زہدم سے روایت ہے کہ علی ؓ نے ابومسعود ؓ کو لوگوں پر اپنا نائب مقرر کیا، تو (جب) وہ عید کے دن نکلے تو کہنے لگے: لوگو! یہ سنت نہیں ہے کہ امام سے پہلے نماز پڑھی جائے۔
It was narrated from Thalabah bin Zahdam that: Ali appointed Abu Masud over the people, then went out on the day of Eid and said: O people, it is not part of the sunnah to pray before the imam."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1561
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in praying on Eid before the Khutbah, with no Adhan and no Iqamah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1562
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب ؓ نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کرلیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے ، ابوبردہ ابن نیار (نماز سے پہلے ہی) ذبح کرچکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے ہی ذبح کرلو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہوگا ۔
Al-Bara bin Azib narrated to us by one of the pillars of the masjid: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered a Khutbah on the day of An-Nahr and said: The first thing we start with on this day of ours is the prayer, then we offer sacrifice. Whoever does that, he has followed our sunnah, but whoever slaughtered (his sacrifice) before the (prayer), that is just meat that he gave to his family. Abu Burdah bin Niyar had slaughtered his sacrifice and he said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), I have a Jadhaah that is better than a Musinnah. He said: Slaughter it (as a sacrifice), but that will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice) after you."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1563
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), Abu Bakr, Umar, may Allah (SWT) be pleased with them, used to offer the Eid prayer before the Khutbah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1564
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٣)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٠٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٦ (الجمعة ٣١) (٥٣١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٥ (١٢٧٦)، مسند احمد ٢/١٢، ٣٨ (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to take out an Anazah (a short spear) on the day of Al-Fitr and the day of Al-Adha, plant it in the ground, and pray facing toward it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1565
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین ١٣ (٩٧٣)، ١٤ (٩٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦٤ (١٣٠٤)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٥٩٧)، مسند احمد ٢/٩٨، ١٤٥، ١٥١، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، مسافر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ اور یہ سب (دو دو رکعت ہونے کے باوجود) بزبان نبی اکرم ﷺ مکمل ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں۔
It was narrated that Umar bin Al-Khattab said: "The prayer of Al-Adha is two rakahs, the prayer of Al-Fitr is two rakahs, the prayer of the traveler is two rakahs and the jumuah prayer is two rakahs, complete and not shortened, upon the tongue of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1566
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) عید کے دن عمر ؓ نکلے تو انہوں نے ابو واقد لیثی سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ آج کے دن کون سی (سورتیں) پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: سورة قٓ اور سورة اقتربت ۔
It was narrated that Ubaidullah bin Abdullah said: "Umar, may Allah (SWT) be pleased with him, went out on the day of Eid and asked Abu Waqid Al-Laithi: What did the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (ﷺ) recite on this day? He said: Qaf and (The Hour) has drawn near."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1567
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں اور جمعہ کے دن سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہوجاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite on the two Eids and on Friday: "Glorify the Name of Your Lord, the Most High" and "Has there come to you the narration of The Overwhelming?" Sometimes the two (Eid and Jumuah) occurred on the same day, and he would recite them (these two Surahs).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1568
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں شریک رہا، تو آپ نے خطبہ سے پہلے نماز شروع کی، پھر آپ نے خطبہ دیا۔
It was narrated that Ata said: "I heard Ibn Abbas say: I bear witness that I attended Eid with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); he started with the prayer before the Khutbah, then he delivered the Khutbah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1569
عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: جو (واپس) لوٹنا چاہے لوٹ جائے، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے ۔
It was narrated from Abdullah bin As-SAib that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) offered the Eid prayer and said: Whoever would like to leave, let him leave, and whoever would like to stay for the Khutbah, let him stay."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1571
ابو کاہل احمسی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا۔
It was narrated that Abu Khalil Al-Ahmasi said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delivering the Khutbah atop a she-camel and an Ethiopian was holding on to the camels reins."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1573
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٨ (١٢٨٤، ١٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٢)، مسند احمد ٤/٣٠٦ (حسن )
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ کچھ دیر بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہوجاتے تھے۔
It was narrated that Simak said: "I asked Jabir: Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) deliver the Khutbah standing? He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver the Khutbah standing, then he would sit for a while, then stand up again."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1574
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٨٤)، مسند احمد ٥/٨٧، ١٠١ (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی، پھر جب نماز پوری کرلی، تو آپ بلال ؓ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو نصیحتیں کیں، اور انہیں (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے، بلال ؓ آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا، اور انہیں نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر فرمایا: تم صدقہ کیا کرو کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا: کس سبب سے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: (کیونکہ) وہ شکوے اور گلے بہت کرتی ہیں، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں ، عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال ؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ انہیں صدقہ میں دے رہی تھیں۔
It was narrated that Jabir said: "I attended the prayer with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the day of Eid. He started with the prayer before the Khutbah, with no Adhan and no Iqamah. When he finished the prayer, he stood leaning on Bilal, and he praised and glorified Allah (SWT) and exhorted the people, reminding them and urging them to obey Allah (SWT). Then he moved away and went to the women, and Bilal was with him. He commanded them to fear Allah (SWT) and exhorted them and reminded them. He praised and glorified Allah, then he urged them to obey Allah, then he said: Give charity, for most of you are the fuel of Hell. A lowly woman with dark cheeks said: Why, O Messenger of Allah? He said: You complain a great deal and are ungrateful to your husbands. They started taking off their necklaces, earrings and rings, throwing them into Bilals garment, giving them in charity."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1575