براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب نماز پڑھی، پھر آپ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے، ایک شخص جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا رخ کعبہ کی طرف کردیا گیا ہے، وہ لوگ (یہ سنتے ہی نماز کی حالت میں) کعبہ کی طرف پھرگئے۔
Narrated Al Bara (RA) bin Azib: The Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah and prayed toward Bait-al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to pray toward the Kabah. A man who had prayed with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by some of the Ansar and said: "I bear witness that the Messenger of Allah ﷺ has been commanded to face toward the Kabah. So they turned to face the Kabah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 742
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے خواہ وہ کسی بھی طرف متوجہ ہوجاتی۔ مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار کا کہنا ہے کہ ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray atop his mount while travelling, facing whatever direction it was facing". (One of the narrators) Malik said: "Abdullah bin Dinar said: and Ibn Umar (RA) used to do likewise".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 743
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نماز پڑھتے خواہ وہ کسی بھی طرف آپ کو لے کر متوجہ ہوتی، وتر بھی اسی پر پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
It was narrated that Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray atop his mount while traveling, facing whatever direction it was facing, and he would pray witr atop it, but he did not pray the prescribed prayers atop it ".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 744
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ مسجد قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آج رات رسول اللہ ﷺ پر کچھ قرآن نازل ہوا ہے، اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلہ (کعبہ) کی طرف رخ کریں، تو ان لوگوں نے کعبہ کی طرف رخ کرلیا، اور حال یہ تھا کہ ان کے چہرے شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف (جنوب کی طرف) گھوم گئے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "While the people were in Quba praying Subh prayer, someone came to them and said that revelation had come to Messenger of Allah ﷺ the night before, and he had been commanded to face Kabah. So face toward it. They had been facing toward Ash-Sham, so they turned to face toward Kabah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 745
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ تحری اور اجتہاد کے بعد آدمی نماز شروع کرے پھر نماز کے دوران ہی اسے غلط سمت میں نماز پڑھنے کا علم ہوجائے تو اپنا رخ پھیر کر صحیح سمت کی طرف کرلے، اور لاعلمی میں جو حصہ پڑھ چکا ہے اسے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کی بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked during the campaign of Tabuk about the Sutra of one who is praying. He said: "Something as high as the back of a camel saddle".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 746
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (اپنے سامنے) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے۔
Narrated Ibn Umar (RA): It was narrated from Ibn Umar concerning the Messenger of Allah ﷺ he said: "He used to set up a short spear then pray facing toward it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 747
Notes · وضاحت
١ ؎: کھلا میدان ہو یا بند مکان، حتیٰ کہ مسجد میں بھی امام اور منفرد سب کے لیے سترہ فرض ہے، مساجد میں دیوار، کھمبا یا کسی آدمی ہی کو سہی سترہ بنا لے، تو وہ آدمی اس کی نماز ختم ہونے تک اس کے سامنے بیٹھا رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٢ (٤٩٨)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨١٧٢)، مسند احمد ٢/١٣، ١٨، ١٤٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )
سہل بن ابو حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کرسکے ۔
It was narrated that Sahl bin Abi Hathmah said: "When anyone of you prays toward a Sutra, let him get close to it and not allow the Shaitan to sever his prayer for him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 748
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی ؓ چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم ﷺ نے دروازہ بند کرلیا، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے (کعبہ کے اندر) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے ایک کھمبا (ستون) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، (ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ entered the Kabah with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talha al Hajabi (RA), and locked the door behind him. Abdullah bin Umar said: "I asked Bilal (RA) when he came out: " What did the Messenger of Allah ﷺ do"? He said: "He stood with one pillar to his left, two pillars to his right and three pillars behind him - at that time the House stood on six pillars - and he prayed with approximately three forearms length between him and the wall".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 749
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نمازی اپنے اور سترہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ رکھے۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو وہ اس کے لیے سترہ ہوجائے گی، اور اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز باطل کر دے گا ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ سے پوچھا: پیلے اور لال رنگ کے مقابلہ میں کالے (کتے) کی کیا خصوصیت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جس طرح آپ نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی یہی بات رسول اللہ ﷺ سے پوچھی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you stands to pray, then he is screened if he has in front of him something as high as the back of a camel saddle. If he does not have something as high as the back of a camel saddle in front of him, then his prayer is nullified by a woman, a donkey or a black dog". I (one of the narrators)said: "What is the difference between a black dog, a yellow one and a red one"? He said: I asked the Messenger of Allah ﷺ just like you and he said:"The black dog is a shaitan".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 750
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اسے ظاہر پر محمول کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان چیزوں کے گزرنے سے واقعی نماز باطل ہوجائے گی، لیکن جمہور نے اس کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ باطل ہونے سے مراد نماز میں نقص ہے کیونکہ ان چیزوں کی وجہ سے دل نماز کی طرف پوری طرح سے متوجہ نہیں ہو سکے گا اور نماز کے خشوع و خضوع میں فرق آجائے گا، اور کچھ لوگوں نے اس روایت ہی کو منسوخ مانا ہے۔ ٢ ؎: بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ وہ دوسرے کتوں کے بالمقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے (واللہ اعلم)۔
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا: کون سی چیز نماز کو باطل کردیتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ کہتے تھے: حائضہ عورت اور کتا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
It was narrated that Qatadah (RA) said: "I said to Jabir bin Zaid: "What invalidates prayer"? He said: "Ibn Abbas (RA) used to say: A menstruating woman and a dog". (One of the narrators)Yahya said: "Shubah said it was a marfu report".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 751
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٠ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٨ (٩٤٩)، مسند احمد ١/٤٣٧، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٩)، (من طریق شعبة مرفوعاً ) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: میں اور فضل دونوں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، اور رسول اللہ ﷺ عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے (پھر انہوں نے ایک بات کہی جس کا مفہوم تھا:) تو ہم صف کے کچھ حصہ سے گزرے، پھر ہم اترے اور ہم نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ نہیں کہا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "Al-Fadl and I came riding a female donkey of ours, and the Messenger of Allah ﷺ was leading the people at Arafat". Then he said something to that effect. "We passed by part of the row, and then we dismounted and left the donkey grazing, and the Messenger of Allah ﷺ did not say anything to us".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 752
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس پر رسول اللہ ﷺ نے ہماری کوئی سرزنش نہیں کی، کیونکہ امام مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے، اور وہ دونوں صف کے کچھ ہی حصہ سے گزرے تھے، امام کو عبور نہیں کیا تھا۔
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ایک بادیہ میں عباس ؓ سے ملنے آئے، وہاں ہماری ایک کتیا موجود تھی، اور ہماری ایک گدھی چر رہی تھی، نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی، اور وہ دونوں آپ کے آگے موجود تھیں، تو انہیں نہ ہانکا گیا اور نہ ہٹا کر پیچھے کیا گیا۔
It was narrated that Al-Fadl bin Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ visited Al Abbas in some land of ours outside the city, and we had a small dog and a donkey which was grazing. The Messenger of Allah ﷺ prayed Asr and they were in front of him, and they were not shooed away or pushed away".
منکر ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 753
Takhrij · تخریج
(اس کے راوی ” محمد بن عمر “ لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت ثقات کی روایات کے خلاف ہے) (منکر) سنن ابی داود/الصلاة ١١٤ (٧١٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٥)، مسند احمد ١/٢١١، ٢١٢
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور بنی ہاشم کا ایک لڑکا دونوں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے ایک گدھے پر سوار ہو کر گزرے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ دونوں اترے اور آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، پھر ان لوگوں نے نماز پڑھی اور آپ نے نماز نہیں توڑی، اور ابھی آپ نماز ہی میں تھے کہ اتنے میں بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ کے گھٹنوں سے لپٹ گئیں، آپ نے ان دونوں کو جدا کیا، اور نماز نہیں توڑی ١ ؎۔
It was narrated that Suhaib said: "I heard Ibn Abbas(RA) narrate that he passed in front of the Messenger of Allah ﷺ, he and a young boy of Banu Hashim, riding a donkey in front of the Messenger of Allahﷺ when he was praying. Then they dismounted and joined the prayer, and he did not stop praying. Then two young girls of Banu Abdul-Muttalib started running around and grabbing him by the knees. He separated them but he did not stop praying".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 754
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ گدھے کے گزرنے سے لوگوں نے نماز میں کوئی حرج نہیں سمجھا، اسی لیے بعض علماء نے گدھے کو نماز باطل کرنے والی چیزوں میں سے مستثنیٰ کردیا ہے، لیکن ابوذر ؓ کی حدیث (رقم: ٧٥١ ) اس باب میں واضح اور قاطع ہے، نیز یہ قطعی نہیں ہے کہ ابن عباس ؓ کا گدھا چھوڑ دینے کے بعد امام کے آگے سے گزرا بھی ہو، بلکہ حدیث (رقم: ٧٥٣ ) سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صف کے کچھ ہی حصہ تک گدھا بھی محدود رہا، اور دونوں بچیاں چونکہ ابھی بالغ نہیں ہوئی تھیں اس لیے ان کے گزرنے سے کوئی حرج نہیں سمجھا گیا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے تھی، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو جب میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یہ بات ناگوار لگی کہ میں اٹھ کر آپ کے سامنے سے گزروں تو میں دھیرے سے سرک گئی ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "I was in front of the Messenger of Allah ﷺ when he was praying, and when I wanted to leave I did not want to get up and pass in front of him, so I just slipped away slowly and quietly".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 755
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو عائشہ ؓ چارپائی پر سوئی ہوئی تھیں (جس کو آپ نے سترہ بنایا ہوا تھا) دوسرے وہ آپ کے آگے گزری نہیں بلکہ سرک گئی تھیں، مرور کہتے ہیں ایک جانب سے دوسری جانب تک یعنی ادھر سے ادھر تک گزرنا، اور السلال کہتے ہیں کہ ایک ہی جانب سے سرک جانا۔
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا کہتے سنا ہے؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو وہ چالیس (دن، مہینہ یا سال) تک کھڑا رہنے کو بہتر اس بات سے جانتا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے ۔
Narrated Busr bin Saeed: It was narrated from Busr bin Saeed said that Zaid bin Khalid sent him to Abu Juhaim to ask him what he had heard the Messenger of Allah ﷺ say about one who passes in front of a person who is praying? Abu Juhaim said: "The Messenger of Allah ﷺsaid: "If the one who passes in front of a person who is praying knew what (burden of sin) there is on him, standing for forty would be better for him than passing in front of him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 756
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے، اگر وہ نہ مانے تو اسے سختی سے دفع کرے ۔
Narrated Abu Saeed (RA): It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "If anyone of you is praying, he should not let anyone pass in front of him, and if he insists (on passing) then let him fight him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 757
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٨ (٦٩٧، ٦٩٨) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٩ (٩٥٤) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٤١١٧)، موطا امام مالک/السفر ١٠ (٣٣)، مسند احمد ٣/٣٤، ٤٣، ٤٩، ٥٧، ٩٣، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٥ (١٤٥١) (صحیح )
مطلب بن ابی وداعۃ سہمی ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے خانہ کعبہ کا سات چکر لگایا، پھر مقام ابراہیم کے حاشیہ میں اپنے جوتوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی (سترہ) نہ تھا ١ ؎۔
Narrated Kathir bin Kathir: It was narrated from Kathir bin Kathir, from his father, that his grandfather said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ circumambulate the House seven times, then he prayed two Rakahs at the edge of the Maqam, and there was nothing between him and the people who were performing Tawaf".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 758
Notes · وضاحت
١ ؎: اولاً: تو یہ حدیث ہی ضعیف ہے، اس سے استدلال درست نہیں، ثانیاً: مقام ابراہیم ہی بطور سترہ کافی تھا، اس اعتبار سے یہ روایت ان لوگوں کی دلیل نہیں بن سکتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مکہ میں سترہ کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٨٩ (٢٠١٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٣ (٢٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ١١٢٨٥)، مسند احمد ٦/٣٩٩، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٩٦٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” کثیر بن المطلب “ لین الحدیث ہیں، اسی لیے ان کے بیٹے کثیر بن کثیر ان کا نام حذف کر کے کبھی ” عن بعض أھلہ “ اور کبھی ” عمن سمع جدہ “ کہا کرتے تھے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے بیچ آپ کے بستر پر چوڑان میں سوئی رہتی تھی، تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگاتے، تو میں (بھی) وتر پڑھتی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺused to pray at night while I was lying down sleeping between him and the Qiblah on his bed. When he wanted to pray witr he would wake me up and I would pray witr".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 759
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣ ١٠ (٥١٢)، الوتر ٣ (٩٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣١٢)، مسند احمد ٦/٥٠، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٢٢ (٣٨٣)، ١٠٤ (٥١٣)، ١٠٧ (٥١٨)، العمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٢ (٧١٢)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ١ (٢)، مسند احمد ٦/٥٠، ١٩٢، ٢٠٥، ٢٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ ﷺ اس کی طرح (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو ، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "In my house there was a cloth on which there were images, which I covered a closet which is in the house, and the Messenger of Allah ﷺ used to pray toward it. Then he said: 0 Aishah, take it away from me. So I removed it and made pillows out of it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 761
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٤)، مسند احمد ٦/١٧٢، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٣ (٢٧٠٤)، ویأتی عند المؤلف في الزینة فی المجتبی ١١١ (برقم: ٥٣٥٦) (صحیح )