قبلہ کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 9 · 35 hadiths · Page 2 of 2

763Sunan An Nasai

نمازی اور امام کے درمیان سترہ کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرَةٌ يَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا، فَفَطَنَ لَهُ النَّاسُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْحَصِيرَةُ، فَقَالَ: اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ، ثُمَّ تَرَكَ مُصَلَّاهُ ذَلِكَ فَمَا عَادَ لَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن میں بچھایا کرتے تھے، اور رات میں اس کو حجرہ نما بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے، لوگوں کو اس کا علم ہوا تو آپ کے ساتھ وہ بھی نماز پڑھنے لگے، آپ کے اور ان کے درمیان وہی چٹائی حائل ہوتی، آپ ﷺ نے فرمایا: (اتنا ہی) عمل کرو جتنا کہ تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا البتہ تم (عمل سے) تھک جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو گرچہ وہ کم ہو ، پھر آپ ﷺ نے وہ جگہ چھوڑ دی، اور وہاں دوبارہ نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ جب کوئی کام کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a mat which he would spread in the day and make into a small booth at night to pray in it. The people found out about that and they prayed when he prayed, with the mat in between him and them. He said: Do as much of good deeds as you can, for Allah does not get tired (of giving reward) until you get tired. And the most beloved of deeds to Allah are those that are continuous, even if they are few. Then he stopped that prayer and did not return to it until Allah took him (in death), and if he started to do something he would persist in it".

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 762
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٣٠) مختصراً، اللباس ٤٣ (٥٨٦١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٧ (١٣٦٨) (من قولہ: اکلفوا من العمل الخ)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٦ (٩٤٢) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٠)، مسند احمد ٦/٤٠، ٦١، ٢٤١، (ولیس قولہ: ” ثم ترک م صلاة ۔۔۔ حتی قبضہ اللہ “ عند أحد سوی المؤلف (صحیح )
764Sunan An Nasai

ایک کپڑے میں نماز پڑھنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ: أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that someone asked the Messenger of Allah ﷺ about praying in a single garment, and he said: "Does everyone of you have two garments"?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 763
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤ (٣٥٨)، ٩ (٣٦٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٨ (٦٢٥)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١٣٢٣١)، موطا امام مالک/الجماعة ٩ (٣٠)، مسند احمد ٦/٢٣٠، ٢٣٩، ٢٨٥، ٣٤٥، ٤٩٥، ٤٩٨، ٤٩٩، ٥٠١، سنن الدارمی/الصلاة ٩٩ (١٤١٠، ١٤١١) (صحیح )
765Sunan An Nasai

ایک کپڑے میں نماز پڑھنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ.

عمر بن ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔

Narrated Umar bin Abi Salamah (RA): It was narrated from Umar bin Abi Salamah that he saw Messenger of Allah ﷺ praying in a single garment in the house of Umm Salamah, putting the ends of it on his shoulders".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 764
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤ (٣٥٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٨ (٣٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٦٩ (١٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٤)، موطا امام مالک/الجماعة ٩ (٢٩)، مسند احمد ٤/٢٦، ٢٧ (صحیح )
766Sunan An Nasai

صرف کرتے میں نماز ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا الْقَمِيصُ، أَفَأُصَلِّي فِيهِ ؟ قَالَ: وَزُرَّهُ عَلَيْكَ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو ۔

It was narrated that Salamah bin Al-Akwa said: " I said: O Messenger of Allah, I go hunting wearing nothing but a single shirt. Can I pray in it? He said: Fasten it to yourself even with a thorn".

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 765
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٨١ (٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٣)، مسند احمد ٤/٤٩، ٥٤ (حسن )
767Sunan An Nasai

تہہ بند لنگی میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قال: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِينَ أُزْرَهُمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے (جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں) کہا گیا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ۔

It was narrated that Sahl bin Sad (RA) said: "Some men used to pray with Messenger of Allah ﷺ tying their lower garments tight like children, it was said to the women: Do not raise your heads until the men have sat up completely".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 766
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦ (٣٦٢)، الأذان ١٣٦ (٨١٤)، العمل في الصلاة ١٤ (١٢١٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٩ (٤٤١)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٩ (٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨١)، مسند احمد ٣/٤٣٣، ٥/٣٣١ (صحیح )
768Sunan An Nasai

تہہ بند لنگی میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قال: لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: إِنَّهُ قَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ. قَالَ: فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ ؟.

عمرو بن سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے ، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔

It was narrated that Amr bin Salamah (RA) said: "When my people came back from the Prophet ﷺ they said that he had said: Let the one who recites the Quran most lead you in prayer. So they called me and taught me how to bow and prostrate, and I used to lead them in prayer, wearing a torn cloak, and they used to say to my father: Will you not conceal your sons backside from us"?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 767
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٣٧ (صحیح )
769Sunan An Nasai

اگر ایک کپڑے کا کچھ حصہ نمازی کے جسم پر ہو اور ایک حصہ اس کی بیوی کے جسم پر ہو؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ مِرْطٌ بَعْضُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے پہلو میں ہوتی، اور میں حائضہ ہوتی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ پر (بھی) ہوتا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺused to pray at night when I was beside him and I was menstruating, and there was a garment over me, part of which was over Messenger of Allah ﷺ".

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 768
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٤)، سنن ابی داود/الطھارة ١٣٥ (٣٧٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣١ (٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٨)، مسند احمد ٦/٦٧، ٩٩، ١٣٧، ١٩٩، ٢٠٤ (صحیح )
770Sunan An Nasai

ایک ہی کپڑے کے اندر نماز پڑھنا جب کہ کاندھوں پر کچھ نہ ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should pray in a single garment with no part of it on his shoulder".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 769
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٨ (٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٨)، مسند احمد ٢/٢٤٣، ٤٦٤، سنن الدارمی/الصلاة ٩٩ (١٤١١) (صحیح )
771Sunan An Nasai

ریشمی کپڑے میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں ۔

It was narrated that Uqbah bin Amir said: "A silken Farruj was presented to the Messenger of Allah ﷺ and he put it on and offered the prayer in it, then when he had finished the prayer he tore it off as if he disliked it and said: This is not befitting for those who have Taqwa".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 770
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٦ (٣٧٥)، اللباس ١٢ (٥٨٠١)، صحیح مسلم/الصلاة ٢ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٩)، مسند احمد ٤/١٤٣، ١٤٩، ١٥٠ (صحیح )
772Sunan An Nasai

نقشین چادر کو اوڑھ کر نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، ثُمَّ قَالَ: شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed in a khamisah that had markings, then he said: "These markings distracted me. Take it to Abu Jahm and bring me his Anbijani (a woolen garment with no markings)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 771
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٤ (٣٧٣)، الأذان ٩٣ (٧٥٢)، اللباس ١٩ (٥٨١٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٥ (٥٥٦)، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٤)، اللباس ١١ (٤٠٥٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١ (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٤)، موطا امام مالک/الصلاة ١٨ (٦٨) مرسلاً، مسند احمد ٦/٣٧، ٤٦، ١٧٧، ١٩٩، ٢٠٨ (صحیح )
773Sunan An Nasai

سرخ رنگ کے کپڑے میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ فَرَكَزَ عَنَزَةً فَصَلَّى إِلَيْهَا يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.

ابوحجیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سرخ جوڑے میں نکلے، اور آپ نے اپنے سامنے ایک برچھی گاڑی، پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، اور اس کے پیچھے سے کتے، عورتیں اور گدھے گزرتے رہے۔

It was narrated from Awn bin Abi Juhaifah, from his father that, the Messenger of Allah ﷺ went out in a red Hullah, and he set up a short spear (Anazah) and prayed facing toward it, while dogs, women and donkeys were passing beyond it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 772
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٧ (٣٧٦)، الأذان ١٨ (٦٣٣)، المناقب ٢٣ (٣٥٥٣)، اللباس ٣ (٥٧٨٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤ (٥٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٨)، مسند احمد ٤/٣٠٧، ٣٠٨، ٣٠٩ (بعضھم لم یذکر الحلة) (صحیح )
774Sunan An Nasai

ایسے کپڑے میں نماز ادا کرنا جو کہ جسم سہ لگا ہوا رہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسَ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُكُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ مَعِي فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم ﷺ دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔

Khilas bin Amr said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ, Abu Al-Qasim, and I were beneath a single blanket, and I was menstruating. If something got on him from me, he would wash whatever had got on him and he did not wash anywhere else, and he prayed in it then came back to me.And if anything got on him from me,he would do exactly the same and he did not wash anywhere else".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 773
Notes · وضاحت
١ ؎: شعار: اس کپڑے کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے، جیسے کرتے کے نیچے بنیان، یا بغیر بنیان کے کرتا اور چادر وغیرہ، یہاں چادر ہی مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٥ (صحیح )
775Sunan An Nasai

موزے پہن کر نماز ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قال: رَأَيْتُ جَرِيرًابَالَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا.

ہمام کہتے ہیں کہ میں نے جریر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی منگایا، اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Hammam said: "I saw Jarir urinate, then he called for water and performed wudu, and wiped over his Khuffs, then he stood up and prayed. He was asked about that and he said: I saw the Prophet ﷺ do exactly like this".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 774
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٨ (صحیح )
776Sunan An Nasai

جوتا پہن کر نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَغَسَّانَ بْنِ مُضَرَ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ وَاسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، قال: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ، قال: نَعَمْ.

ابوسلمہ (ان کا نام سعید بن یزید بصریٰ ہے اور وہ ثقہ ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (پڑھتے تھے) ۔

Abu Maslamah - whose name is Saeed bin Yazid, a trustworthy Basri - told us: "I asked Anas bin Malik (RA) : Did the Prophet ﷺ pray in sandals? He said: Yes".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 775
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٤ (٣٨٦)، اللباس ٣٧ (٥٨٥٠)، صحیح مسلم/المساجد ١٤ (٥٥٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٧ (٤٠٠)، مسند احمد ٣/١٠٠، ١٦٦، ١٨٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٣ (١٤١٧)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦) (صحیح )
777Sunan An Nasai

جس وقت امام نماز پڑھائے تو اپنے جوتے کس جگہ رکھے؟

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ.

عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin As Saib (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed on the day of Conquest (of Makkah), and he put his sandals to his left.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 776
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ نبی اکرم ﷺ امام تھے، آپ کے بائیں جانب کوئی نہیں تھا اس لیے آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں رکھا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بائیں جانب ہو تو بائیں بھی جوتا نہیں رکھنا چاہیئے کیونکہ تمہارا بایاں دوسرے شخص کا دایاں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٨٩ (٦٤٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٢٠٥ (١٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٤)، مسند احمد ٣/٤١٠ (صحیح )