امامت کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 10 · 99 hadiths · Page 1 of 5

778Sunan An Nasai

امامت صاحب علم و فضل کو کرنا چاہئے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلَيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قالتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم (انصار) میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے، تو عمر ؓ ان کے پاس آئے، اور کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ١ ؎، تو اب بتاؤ ابوبکر ؓ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہوگا؟ ٢ ؎ تو لوگوں نے کہا: ہم ابوبکر ؓ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ٣ ؎۔

It was narrated that Abdullah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ passed away, the Ansar said: Let there be an Amir from among us and an Amir from among you. Then Umar (RA) came to them and said: Do you not know that the Messenger of Allah ﷺ commanded Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer? Who among you could accept to put himself ahead of Abu Bakr? They said: We seek refuge with Allah from putting ourselves ahead of Abu Bakr".

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 777
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ امامت کے لیے صاحب علم وفضل کو آگے بڑھانا چاہیئے۔ ٢ ؎: اس سے صحابہ کرام ؓ نے سمجھا کہ امامت صغریٰ کے لیے رسول اللہ ﷺ کا ابوبکر ؓ کو آگے بڑھانا اس بات کا اشارہ تھا کہ وہی امامت کبریٰ کے بھی اہل ہیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ علم والا، زیادہ قرآن پڑھنے والے پر مقدم ہوگا، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ کے متعلق اقرأکم أبی فرمایا ہے، اس کے باوجود آپ نے ابوبکر ؓ کو امامت کے لیے مقدم کیا۔ ٣ ؎: اس کے بعد ابوبکر ؓ کی خلافت پر انصار ؓ بھی راضی ہوگئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٧)، مسند احمد ١/٣٩٦، ٤٠٥ (حسن الإسناد )
779Sunan An Nasai

ظالم حکمرانوں کی اقتداء میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قال: أَخَّرَ زِيَادٌ الصَّلَاةَ فَأَتَانِي ابْنُ صَامِتٍ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صُنْعَ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ وَضَرَبَ عَلَى فَخِذِي وَقَالَ: إنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخْذَكَ وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي.

ابوالعالیہ البراء کہتے ہیں کہ زیاد نے نماز میں دیر کردی تو میرے پاس (عبداللہ ابن صامت) ابن صامت آئے میں نے ان کے لیے ایک کرسی لا کر رکھی، وہ اس پہ بیٹھے، میں نے ان سے زیاد کی کارستانیوں کا ذکر کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہونٹوں کو بھینچا ١ ؎ اور میری ران پر ہاتھ مارا، اور کہا: میں نے بھی ابوذر ؓ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو انہوں نے میری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پہ مارا ہے، اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح پوچھا ہے، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ نے تمہاری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پہ مارا ہے، اور فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لیا کرو، اور اگر تم ان کے ساتھ نماز کا وقت پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، اور یہ نہ کہو کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، لہٰذا اب نہیں پڑھوں گا ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Aliyah Al-Barra said: "Ziyad delayed the prayer, then Ibn Samit came to me and I gave him a chair and he sat on it. I told him what Ziyad had done and he bit his lip (in disapproval), and he struck me on the thigh and said: I asked Abu Dharr the same question you asked me, and he struck me on the thigh as I struck you on the thigh and said: I asked the Messenger of Allah ﷺ the same question as you have asked me and he struck me on the thigh as I have struck you on the thigh and said: Offer the prayer on time, and if you catch up with them, then pray with them, and do not say: I have already prayed so I will not pray(now)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 778
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اس کے فعل پر ناپسندیدگی کا اظہار مقصود تھا۔ ٢ ؎: کیونکہ اس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤١ (٦٤٨)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١١٩٤٨)، مسند احمد ٥/١٤٧، ١٦٠، ١٦٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٥ (١٢٦٣)، ویأتی عند المؤلف في الإمامة ٥٥ (برقم: ٨٦٠) (صحیح )
780Sunan An Nasai

ظالم حکمرانوں کی اقتداء میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَصَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم کچھ ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو نماز کو بےوقت کر کے پڑھیں گے، تو اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھ لیا کرو، اور ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرو ١ ؎ اور اسے سنت (نفل) بنا لو ٢ ؎۔

It was narrated that Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: You may live to meet people who will be offering the prayer outside its (prayer) time. If you meet them, then offer the prayer on time, then pray with them and make that a voluntary prayer".

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 779
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں واجعلوا صلاتکم معہم نافل ۃ یعنی بعد میں ان کے ساتھ جو نماز پڑھو اسے نفل سمجھو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٠ (١٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ٩٢١١)، مسند احمد ١/٣٧٩، ٤٥٥، ٤٥٩، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤) (صحیح )
781Sunan An Nasai

امامت کا زیادہ حق دار کون؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: أَنْبَأَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ فِي الْهِجْرَةِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا تَؤُمَّ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ.

ابومسعود (عقبہ بن عمرو) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جسے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) سب سے زیادہ یاد ہو، اور سب سے اچھا پڑھتا ہو ١ ؎، اور اگر قرآن پڑھنے میں سب برابر ہوں تو جس نے ان میں سے سب پہلے ہجرت کی ہے وہ امامت کرے، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کرے ٢ ؎، اور اگر سنت (کے جاننے) میں بھی برابر ہوں تو جو ان میں عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ ٣ ؎ پر بیٹھو، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دیدے ٤ ؎۔

It was narrated that Abu Masud (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺsaid: Let the one who has most knowledge of the Book of Allah lead the people in prayer. If they are equal in terms of knowledge of the Qurh, let the one who emigrated first (lead them). If they are equal in terms of emigration, let the one who has more knowledge of the Sunnah, (lead them). If they are equal in terms of knowledge of the Sunnah, let the one who is oldest (lead them). Do not lead a man in prayer in his place of authority, and do not sit in his place of honor, unless he gives you permission".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 780
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب وہ قرآن سمجھتا ہو (واللہ اعلم) ٢ ؎: کیونکہ ہجرت میں سبقت اور پہل کے شرف کا تقاضا ہے کہ اسے آگے بڑھایا جائے صحیح مسلم کی روایت (جو ابومسعود ؓ ہی سے مروی ہے) میں سنت کے جانکار کو ہجرت میں سبقت کرنے والے پر مقدم کیا گیا ہے، ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے (واللہ اعلم)۔ ٣ ؎: مثلاً کسی کی مخصوص کرسی یا مسند وغیرہ پر۔ ٤ ؎: إلا ا ٔن یاذن لکم کا تعلق دونوں فعلوں یعنی امامت کرنے اور مخصوص جگہ پر بیٹھنے سے ہے، لہٰذا اس استثناء کی رو سے مہمان میزبان کی اجازت سے اس کی امامت کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٦١ (٥٨٢، ٥٨٣، ٥٨٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٠ (٢٣٥)، الأدب ٢٤ (٢٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤٦ (٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦)، مسند احمد ٤/١١٨، ١٢١، ١٢٢، ٥/٢٧٢، ویأتی عند المؤلف برقم: ٧٨٤ (صحیح )
782Sunan An Nasai

جو شخص زیادہ عمر رسیدہ ہو تو اس کو امامت کرنا چاہئے

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قال: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَقَالَ مَرَّةً أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَقَالَ: إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچازاد بھائی (اور کبھی انہوں) نے کہا: میں اور میرے ایک ساتھی، دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم دونوں سفر کرو تو تم دونوں اذان اور اقامت کہو، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے ١ ؎۔

It was narrated that Malik bin Al-Huwairith (RA) said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ with a cousin of mine "once he said, "with a friend of mine" - and he said: When you travel, call the Adhan and Iqamah, and let the older of you lead the prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 781
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک اذان کہے دوسرا اس کا جواب دے، یا دونوں میں سے کوئی اذان دے اور دوسرا امامت کرائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٣٥ (صحیح )
783Sunan An Nasai

جس وقت کچھ لوگ اکھٹے ہوں تو کس شخص کو امامت کرنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تین شخص ہوں تو ان میں سے ایک کو امامت کرنی چاہیئے، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔

It was narrated from Abu Saeed (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "when there are three people let one of them lead the prayer, and the one who is most entitled to lead the prayer is the one who has most knowledge of the Quran".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 782
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٢)، (تحفة الأشراف: ٤٣٧٢)، مسند احمد ٣/٢٤، ٣٤، ٣٦، ٥١، ٨٤، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٩)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٨٤١ (صحیح )
784Sunan An Nasai

جس وقت آدمی اکٹھے ہوں اور ان میں وہ شخص بھی شامل ہو جو کہ تمام کا حکمران ہو

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی امامت ایسی جگہ نہ کی جائے جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور بغیر اجازت اس کی مخصوص نشست گاہ پر نہ بیٹھا جائے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Masud (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A man should not be led in prayer in his place of authority, and no one should sit in his place of honor except with his permission".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 783
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر حاکم موجود ہو تو وہی امامت کا مستحق ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٨١ (صحیح )
785Sunan An Nasai

جس وقت رعایا میں سے کوئی شخص امامت کرتا ہو اسی دوران حاکم وقت آجائے تو وہ امام پیچھے چلا جائے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَانَتِ الْأُولَى فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ: نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَأَقَامَ بِلَالٌ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ بِالنَّاسِ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ وَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِلَّا الْتَفَتَ إِلَيْهِ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ. قَالَ: أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں کچھ اختلاف ہوگیا ہے تو رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر نکلے تاکہ آپ ان میں صلح کرا دیں، تو رسول اللہ ﷺ اسی معاملہ میں مشغول رہے یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپ پہنچا ١ ؎ تو بلال ؓ ابوبکر ؓ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: ابوبکر! رسول اللہ ﷺ (ابھی تک) نہیں آسکے ہیں، اور نماز کا وقت ہوچکا ہے تو کیا آپ لوگوں کی امامت کردیں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں کر دوں گا اگر تم چاہو، چناچہ بلال ؓ نے تکبیر کہی تو ابوبکر ؓ آگے بڑھے، اور اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کردی، اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، اور آپ صفوں میں چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ (پہلی) صف میں آ کر کھڑے ہوگئے، اور (رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر) لوگ تالیاں بجانے لگے، اور ابوبکر ؓ اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، تو جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ موجود ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارے سے حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں، اس پر ابوبکر ؓ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ الٹے پاؤں اپنے پیچھے لوٹ کر صف میں کھڑے ہوگئے، تو رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھائی، اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: لوگو! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تالیاں بجانے لگتے ہو حالانکہ تالی بجانا عورتوں کے لیے مخصوص ہے، جسے اس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب کوئی سبحان اللہ کہے گا تو جو بھی اسے سنے گا اس کی طرف ضرور متوجہ ہوگا (پھر آپ ابوبکر ؓ کی طرف متوجہ ہوئے) اور فرمایا: ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا تو تم نے لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ ، تو ابوبکر ؓ نے جواب دیا؟ ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نماز پڑھائے ٢ ؎۔

It was narrated from Sahl bin Sad (RA) that the Messenger of Allah ﷺ heard that there was a dispute among Banu Amr bin Awf, so he went to them with some other people to reconcile between them. The Messenger of Allah ﷺ was delayed there, and the time for Zuhr came. Bilal (RA) came to Abu Bakr (RA) and said to him: "The Messenger of Allah ﷺ has been delayed (there) and the time for prayer has come, will you lead the people in prayer"? Abu Bakr said: Yes, if you wish. Bilal (RA) said the Iqamah and Abu Bakr (RA) went forward and said the Takbir for the people. Then the Messenger of Allah ﷺ came, passing through the rows (of praying people) and stood in the (first) row and the people started clapping. Abu Bakr (RA) would never glance sideways in his prayer but when the people clapped so much he looked back and saw Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ gestured to him to carry on praying. Aha Bakr (RA) raised his hands praising Allah the Mighty and Sublime, and retreated till he reached the (first) row. Then the Messenger of Allah ﷺ went forward and led the people in the prayer. When he completed the prayer he turned to face the people and said: O people, why did you start clapping when something unusual happened to you in the prayer? Clapping is only for women. So whoever among you comes across something in the prayer should say: Subhan Allah for there is none who will not turn round when they hear him saying Subhan Allah. O Abu Bakr! What prevented you from leading the people in the prayer when I gestured to you to do so? Abu Bakr replied: It is not fitting for the son of Abu Quhafah to lead the prayer in the presence of the Messenger of Allah ﷺ".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 784
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں اور خود مؤلف کے یہاں (حدیث رقم: ٧٩٤ میں) یہ صراحت ہے کہ یہ عصر کا وقت تھا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر امام راتب (مستقل امام) کہیں گیا ہوا ہو، اور اس کی جگہ کوئی اور نماز پڑھا رہا ہو، تو جب امام راتب درمیان نماز آجائے تو چاہے تو وہی نائب نماز پڑھاتا رہے، اور چاہے تو وہ پیچھے ہٹ آئے اور امام راتب نماز پڑھائے، مگر یہ بات اس وقت تک ہے جب نائب نے ایک رکعت بھی نہ پڑھائی ہو، اور اگر ایک رکعت پڑھا دی ہو تو پھر باقی نماز بھی وہی پوری کرائے، امام ابن عبدالبر کے نزدیک یہ بات نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٨ (٦٨٤)، العمل في الصلاة ٣ (١٢٠١)، ٥ (١٢٠٤)، ١٦ (١٢١٨)، السھو ٩ (١٢٣٤)، الصلح ١ (٢٦٩٠)، الأحکام ٣٦ (٧١٩٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٥/٣٣٦، ٣٣٨، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٤، ١٤٠٥) (صحیح )
786Sunan An Nasai

اگر امام اپنی رعایا میں سے کسی کی اقتداء میں نماز ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قال: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی آخری نماز وہ تھی جسے آپ نے ابوبکر ؓ کے پیچھے ایک کپڑے میں اس حال میں پڑھی تھی کہ اس کے دونوں کنارے بغل سے نکال کر آپ کندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔

It was narrated that Anas (RA) said: "In the last prayer that the Messenger of Allah ﷺ prayed with the people, he prayed wrapped up in a single garment, behind Abu Bakr".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 785
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٩٤)، مسند احمد ٣/١٥٩، ٢١٦، ٢٤٣ (صحیح )
787Sunan An Nasai

اگر امام اپنی رعایا میں سے کسی کی اقتداء میں نماز ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى صَاحِبُ الْبُصْرَى، قال: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَذْكُرُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى لِلنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور رسول اللہ ﷺ صف میں تھے۔

It was narrated from Aishah that Abu Bakr (RA) led the people in prayer and the Messenger of Allah ﷺ was in the row.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 786
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٢ (٣٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٢)، مسند احمد ٦/١٥٩ (صحیح )
788Sunan An Nasai

جو شخص کسی قوم سے ملنے جائے تو ان کی اجازت کے بغیر ان کی امامت نہ کرے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى لَنَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا فَلَا يُصَلِّيَنَّ بِهِمْ.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ انہیں ہرگز نماز نہ پڑھائے ١ ؎۔

It was narrated that Malik bin Al-Huwairith (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When any one of you visits some people,he should not lead them in prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 787
Notes · وضاحت
١ ؎: إلا یہ کہ وہ لوگ اس کی اجازت دیں جیسا کہ ابن مسعود ؓ کی روایت میں ہے، جو اوپر گزر چکی ہے جس میں إلا بإذنہ کے الفاظ وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٦٦ (٥٩٦) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٨ (٣٥٦) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١١١٨٦)، مسند احمد ٣/٤٣٦، ٤٣٧، و ٥/٥٣ (صحیح )
789Sunan An Nasai

نابینا شخص کی امامت

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح، قال: وَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى وَأَنَّهُ قال لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَفَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک ؓ اپنے قبیلہ کی امامت کرتے تھے اور وہ نابینا تھے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: رات میں تاریکی ہوتی ہے اور کبھی بارش ہوتی ہے اور راستے پانی میں بھر جاتا ہے، اور میں آنکھوں کا اندھا آدمی ہوں، تو اللہ کے رسول! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں اسے مصلیٰ بنا لوں! تو رسول اللہ ﷺ آئے، اور آپ نے پوچھا: تم کہاں نماز پڑھوانی چاہتے ہو؟ انہوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ میں نماز پڑھی ١ ؎۔

It was narrated from Mahmiid bin Ar-Rabi that Itbk bin Milk used to lead his people in prayer, and he was blind. He said to the Messenger of Allah ﷺ: "Sometimes it is dark or rainy or there is a flood, and I am a blind man; 0 Messenger of Allah ﷺ, (come and) pray in a place in my house that I may take as a prayer-place". He said: "Where would you like me to pray for you?" He showed him a place in his house, and the Messenger of Allah ﷺ prayed there.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 788
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نابینا کی امامت بغیر کراہت جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٥ (٤٢٤)، ٤٦ (٤٢٥) مطولاً، الأذان ٤٠ (٦٦٧)، ٥٠ (٦٨٦)، ١٥٤ (٨٤٠)، التھجد ٣٦ (١١٨٦) مطولاً، الأطعمة ١٥ (٥٤٠١) مطولاً، صحیح مسلم/الإیمان ١٠ (٣٣)، المساجد ٤٧ (٣٣)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٨ (٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٠)، موطا امام مالک/السفر ٢٤ (٨٦)، مسند احمد ٤/٤٣، ٤٤، ٥/٤٤٩، ٤٥٠، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ٨٤٥، ١٣٢٨ مطولاً (صحیح )
790Sunan An Nasai

نابالغ لڑکا امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنِيعَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ الْجَرْمِيُّ، قال: كَانَ يَمُرُّ عَلَيْنَا الرُّكْبَانُ فَنَتَعَلَّمُ مِنْهُمُ الْقُرْآنَ فَأَتَى أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَجَاءَ أَبِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَنَظَرُوا فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ.

عمرو بن سلمہ جرمی ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان سے قرآن سیکھتے تھے (جب) میرے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو جب میرے والد لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو لوگوں نے نگاہ دوڑائی تو ان میں سب سے بڑا قاری میں ہی تھا، چناچہ میں ہی ان کی امامت کرتا تھا، اور اس وقت میں آٹھ سال کا بچہ تھا ١ ؎۔

Amr bin Salamah Al-Jarmi said: "Riders used to pass by us and we would learn the Quran from them. My father came to the Prophet ﷺ and he said: Let the one of you who knows most Quran leads the prayer. My father came and said that the Messenger of Allah ﷺ had said: Let the one of you who knows most Quran lead you in prayer. They looked and found that I was the one who knew most Quran, so I used to lead them in prayer when I was eight years old.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 789
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کی روایت میں ٧ سال کا ذکر ہے، اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مکلف نابالغ بچہ مکلف لوگوں کی امامت کرسکتا ہے، اس لیے کہ یؤم القوم أقراہم لکتاب اللہ کہ عموم میں صبی ممیز (باشعور بچہ) بھی داخل ہے، اور کتاب و سنت میں کوئی بھی نص ایسا نہیں جو اس سے متعارض و متصادم ہو، رہا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ عمرو بن سلمہ ؓ کے قبیلہ نے انہیں اپنے اجتہاد سے اپنا امام بنایا تھا، نبی اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع نہیں تھی، تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نزول وحی کا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا، اگر یہ چیز درست نہ ہوتی تو نبی اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع دے دی جاتی، اور آپ اس سے ضرور منع فرما دیتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٣٧ (صحیح )
791Sunan An Nasai

جس وقت امام نماز پڑھانے کے واسطے باہر کی جانب نکلے تو اس وقت لوگ کھڑے ہوں

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جائے، تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہوا کرو ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah (RA) that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the call to prayer is given, do not stand up until you see me".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 790
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ کہیں لوگوں کو دیر تک کھڑا رہنا نہ پڑجائے کیونکہ بسا اوقات کسی وجہ سے آنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٨٨ (صحیح )
792Sunan An Nasai

اگر تکبیر پوری ہونے کے بعد امام کو کوئی کام پیش آجائے؟

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، اور رسول اللہ ﷺ ایک شخص سے راز داری کی باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے ١ ؎۔

It was narrated that Anas (RA) said: "The Iqamah for prayer was said, and the Messenger of Allah ﷺ was conversing privately with a man, and did not commence the prayer until the people slept".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 791
Notes · وضاحت
١ ؎: ہوسکتا ہے یہ گفتگو کسی ضروری امر پر مشتمل رہی ہو یا آپ ﷺ نے بیان جواز کے لیے ایسا کیا ہو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اقامت میں اور نماز شروع کرنے میں فصل کرنا نماز کے لیے مضر نہیں۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٣٣ (٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣)، مسند احمد ٣/١٠١، ١١٤، ١٨٢ (صحیح )
793Sunan An Nasai

جس وقت امام نماز کی امامت کیلئے اپنی جگہ کھڑا ہوجائے پھر اس کو علم ہو کہ اس کا وضو نہیں ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَالْوَلِيدُ، عَنِالْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْوَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطِفَ رَأْسُهُ فَاغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں، اور رسول اللہ ﷺ حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے ١ ؎ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: تم اپنی جگہوں پر رہو ، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Iqamah for prayer was said and the people stood in rows, and the Messenger of Allah ﷺ came out. Then when he stood in the place where he prayed, he remembered that he had not performed Ghusl. He said to the people: Stay where you are. Then he went back to his house, then he came out with his head dripping with water. He performed Ghusl while we were standing in our rows".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 792
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ آپ نے ابھی نماز شروع نہیں کی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٢٥ (٦٣٩، ٦٤٠)، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٥)، سنن ابی داود/الطھارة ٩٤ (٢٣٥)، الصلاة ٤٦ (٥٤١)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٠٠)، مسند احمد ٢/٢٣٧، ٢٥٩، ٢٨٣، ٣٣٨، ٣٣٩ (صحیح )
794Sunan An Nasai

جس وقت امام کسی جگہ جانے لگے تو کسی کو خلیفہ مقرر کر جانا چاہئے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قال: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قال سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: يَا بِلَالُ، إِذَا حَضَرَ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِفَلَمَّا حَضَرَتْ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَقَدَّمْ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجَعَلَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى أَبُو بَكْرٍ التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ امْضِهْ، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبَيْهِ فَتَأَخَّرَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلنَّاسِ: إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ النِّسَاءُ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں آپس میں لڑائی ہوئی، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر ان کے پاس آئے تاکہ ان میں صلح کرا دیں، اور بلال ؓ سے فرمایا: بلال! جب عصر کا وقت آجائے اور میں نہ آسکوں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، چناچہ جب عصر کا وقت آیا، تو بلال ؓ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، اور ابوبکر ؓ سے کہا: آگے بڑھیے، تو ابوبکر ؓ آگے بڑھے، اور نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، اور لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے ١ ؎ یہاں تک کہ ابوبکر ؓ کے پیچھے آ کر کھڑے ہوگئے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کردیں، اور ابوبکر ؓ کا حال یہ تھا کہ جب وہ نماز شروع کردیتے تو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوتے، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ برابر تالی بج رہی ہے تو وہ متوجہ ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم نماز جاری رکھو ، تو اس بات پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چل کر پیچھے آگئے، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو آپ نے آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب اپنی نماز پوری کرچکے تو آپ نے فرمایا: ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا تو تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ تو انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امامت کرے، پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: جب تمہیں نماز کے اندر کوئی بات پیش آجائے، تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں ۔

Sahl bin Sad (RA) said: "There was some fighting among Banu Amr bin Awf, and news of that reached the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He prayed Zuhr, then he went to them to reconcile between them. Then he said to Bilal (RA): O Bilal, if the time for Asr comes and I have not come back, then tell Abu Bakr to lead the people in prayer. When the time (for Asr) came, Bilal (RA) called the Adhan, then the Iqamah, then he said to Abu Bakr: Go forward. So Abu Bakr (RA) went forward and started to pray. Then the Messenger of Allah ﷺ came and started passing through the rows of people until he stood behind Abu Bakr (RA), and the people clapped. Abu Bakr was such that whenever he started praying, he would never glance sideways, but when he noticed that the clapping persisted he turned around. The Messenger of Allah ﷺ gestured to him to carry on praying. Abu Bakr (RA) praised Allah the Mighty and Sublime for the Messenger of Allah ﷺ having told him to continue. Then Abu Bakr moved backward on his heels, and when the Messenger of Allah ﷺ saw that, he came forward and led the people in prayer. When he completed the prayer he said: O Abu Bakr, when I gestured to you, what kept you from continuing (to lead the people)? He said: It does not befit the son of Abu Quhafah (RA) to lead the Messenger of Allah ﷺ in prayer. And he (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to the people: If you notice something (during the prayer), men should say Subhan Allah and women should clap".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 793
Notes · وضاحت
١ ؎: صفوں کو چیر کر اندر داخل ہونا درست نہیں، پھر یا تو امام کے لیے یہ جائز ہو، یا پھر آپ نے پہلی صف میں خالی جگہ دیکھی ہو اسے پُر کرنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٣٦ (٧١٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٣ (٩٤١)، مسند احمد ٥/٣٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٤)، تحفة الأشراف: ٤٦٦٩) (صحیح )
795Sunan An Nasai

امام کی اتباع کا حکم

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گرپڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آئے، اور نماز کا وقت آپ پہنچا، جب آپ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمده کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو ۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ fell from a horse onto his right side.They came to visit him and the time for prayer came. When the prayer was over he said: "The Imam is appointed to be followed. When he bows, then bow, when he stands up, then stand up, when he prostrates, then prostrate, and when he says Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), then say, Rabbanna lakal-hamd (Our Lord, to You be the praise)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 794
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، والأذان ٥١ (٦٨٩)، ٨٢ (٧٣٢)، ١٢٨ (٨٠٥) مطولاً، تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤٤ (١٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥)، موطا امام مالک/الجماعة ٥ (١٦)، مسند احمد ٣/١١٠، ١٦٢، سنن الدارمی/الصلاة ٤٤ (١٢٩١)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٠٦٢ (صحیح )
796Sunan An Nasai

اس شخص کی پیروی کرنا جو امام کی اتباع کر رہا ہو

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ میں پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ نے فرمایا: تم لوگ آگے آؤ اور میری اقتداء کرو، اور جو تمہارے بعد ہیں وہ تمہاری اقتداء کریں، یاد رکھو کچھ لوگ برابر (اگلی صفوں سے) پیچھے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں (اپنی رحمت سے یا اپنی جنت سے) پیچھے کردیتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed (RA) that the Messenger of Allah ﷺ saw that his companions tended to stand in the rear, so he said: "Come forward and follow me, and let those who are behind you follow your lead. If people continue to lag behind, Allah, the Mighty and Sublime, will put them back".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 795
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں امام کے قریب کھڑے ہونے کی تاکید اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٨ (٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤٥ (٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٠٩)، مسند احمد ٣/١٩، ٣٤، ٥٤ (صحیح )
797Sunan An Nasai

اس شخص کی پیروی کرنا جو امام کی اتباع کر رہا ہو

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ نَحْوَهُ.

اس سند سے بھی ابونضرہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

(Another chain) from Abu Nadrah (from Abu Saeed (RA)) with similar narration.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 796
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٣١) (صحیح )