امامت کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 10 · 99 hadiths · Page 2 of 5

798Sunan An Nasai

اس شخص کی پیروی کرنا جو امام کی اتباع کر رہا ہو

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی اکرم ﷺ ابوبکر ؓ کے آگے تھے، تو آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ابوبکر ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، اور لوگ ابوبکر ؓ کے پیچھے تھے۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ told Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer. She said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was in front of Abu Bakr and he prayed sitting down, and Abu Bakr (RA) was leading the people in prayer, and the people were behind Abu Bakr".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 797
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٣١٩) (صحیح )
799Sunan An Nasai

اس شخص کی پیروی کرنا جو امام کی اتباع کر رہا ہو

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اور ابوبکر ؓ آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ ﷺ اللہ اکبر کہتے، تو ابوبکر ؓ بھی اللہ اکبر کہتے، وہ ہمیں (آپ کی تکبیر) سنا رہے تھے۔

It was narrated that Jabir (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in Zuhr prayer and Abu Bakr (RA) was behind him. When the Messenger of Allah ﷺ said the Takbir, Abu Bakr (RA) said the Takbir so that the people could hear".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 798
Notes · وضاحت
اور یہ بتار ہے تھے کہ آپ ایک حالت سے دوسری حالت میں جا رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧٨٦) (صحیح )
800Sunan An Nasai

جس وقت تین آدمی موجود ہوں تو مقتدی اور امام کس طرف کھڑے ہوں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِالْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ نِصْفَ النَّهَارِ فَقَالَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْتَغِلُونَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلُّوا لِوَقْتِهَا ثُمَّقَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.

اسود اور علقمہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم دوپہر میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: عنقریب امراء نماز کے وقت سے غافل ہوجائیں گے، تو تم لوگ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا، پھر وہ اٹھے اور میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ١ ؎۔

It was narrated that Al-Aswad and Alqamah said: "We entered upon Abdullah at midday and he said: There will be rulers who would be distracted from praying on time, so pray on time. Then he stood up and prayed between him and I, and said: This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ do".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 799
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل علم کی ایک جماعت جن میں امام شافعی بھی شامل ہیں نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے آپ ﷺ سے اسے مکہ میں سیکھا تھا، اس میں تطبیق کے ساتھ اور دوسری باتیں بھی تھیں جو اب متروک ہیں، یہ بھی منجملہ انہیں میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٧١ (٦١٣)، مسند احمد ١/٤٢٤، ٤٥١، ٤٥٥، ٤٥٩، (تحفة الأشراف: ٩١٧٣) (صحیح )
801Sunan An Nasai

جس وقت تین آدمی موجود ہوں تو مقتدی اور امام کس طرف کھڑے ہوں؟

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ فَرْوَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ غُلَامٍ لِجَدِّهِ يُقَالُ لَهُ مَسْعُودٌ، فَقَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لِي: أَبُو بَكْرٍ يَا مَسْعُودُ ائْتِ أَبَا تَمِيمٍ يَعْنِي مَوْلَاهُ فَقُلْ لَهُ يَحْمِلْنَا عَلَى بَعِيرٍ وَيَبْعَثْ إِلَيْنَا بِزَادٍ وَدَلِيلٍ يَدُلُّنَا فَجِئْتُ إِلَى مَوْلَايَ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ مَعِي بِبَعِيرٍ وَوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَجَعَلْتُ آخُذُ بِهِمْ فِي إِخْفَاءِ الطَّرِيقِ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُفَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ عَرَفْتُ الْإِسْلَامَ وَأَنَا مَعَهُمَا فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُمَا فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقُمْنَا خَلْفَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: بُرَيْدَةُ هَذَا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.

فروہ اسلمی کے غلام مسعود بن ھبیرۃ ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ گزرے، تو ابوبکر ؓ نے مجھ سے کہا: مسعود! تم ابوتمیم یعنی اپنے مالک کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ وہ ہمیں سواری کے لیے ایک اونٹ دے دیں، اور ہمارے لیے کچھ زاد راہ اور ایک رہبر بھیج دیں جو ہماری رہنمائی کرے، تو میں نے اپنے مالک کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے میرے ساتھ ایک اونٹ اور ایک کُپّا دودھ بھیجا، میں انہیں لے کر خفیہ راستوں سے چھپ چھپا کر چلا تاکہ کافروں کو پتہ نہ چل سکے، جب نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اور ابوبکر ؓ آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوئے، ان دونوں کے ساتھ رہ کر میں نے اسلام سیکھ لیا تھا، تو میں آ کر ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں پیچھے کی طرف ہٹایا، تو (وہ آ کر ہم سے مل گئے اور) ہم دونوں آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ بریدہ بن سفیان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔

Buraidah bin Sufyin bin Farwah Al-Aslami narrated that a slave of his grandfather who was called Masood said: "The Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr (RA) passed by me and Abu Bakr said to me: O Masud, go to Abu Tamim - meaning the man from whom he had been freed - and tell him to give us a camel so that we could ride, and let him send us some food and a guide to show us the way. So I went to my former master and told him the same, and he sent with me a camel and vessels of milk, and I brought them via a secret route. Then the time for prayer came and the Messenger of Allah ﷺ stood up and prayed, and Abu Bakr stood to his right. I had come to know about Islam and I was with them, so I came and stood behind them. So the Messenger of Allah ﷺ pushed Abu Bakr on the chest (to make him move backward) and we stood behind him". Abu Abdur-Rahman (An-Nasai)said: (This) Buraidah is not a reliable narrator of Hadith.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 800
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٢٦٤) (ضعیف) (اس کا راوی ” بریدہ بن سفیان “ ضعیف ہے، اور رافضی شیعہ ہے )
802Sunan An Nasai

اگر تین اشخاص اور ایک عورت ہو تو کس طرح کھڑے ہوں؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْقَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر مدعو کیا جسے انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، انس ؓ کہتے ہیں: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو کافی دنوں سے پڑی رہنے کی وجہ سے کالی ہوگئی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا، اور اسے آپ کے پاس لا کر بچھایا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر واپس تشریف لے گئے۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) (RA), that his grandmother Mulaikah invited the Messenger of Allah ﷺ to come and eat some food that she had prepared for him. Then he said: "Get up and I will lead you in prayer." Anas (RA) said: "So I got up and brought a reed mat of ours that had turned black from long use, and spreaded some water on it. The Messenger of Allah ﷺ stood and the orphan and I stood in a row behind him, and the old woman stood behind us, and he led us in praying two Rakahs, then he left".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 801
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٠ (٣٨٠)، الأذان ١٦١ (٨٦٠)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٥٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٧١ (٦١٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٩ (٢٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٩٧)، موطا امام مالک/السفر ٩ (٣١)، مسند احمد ٣/١٣١، ١٤٩، ١٦٤، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٤) (صحیح )
803Sunan An Nasai

جس وقت دو مرد اور دو خواتین ہوں تو کس طریقہ سے صف بنائی جائے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَالْيَتِيمُ وَأُمُّ حِرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ: قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْقَالَ: فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍقَالَ: فَصَلَّى بِنَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، (یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا) تو آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔

It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon us and the only people present were myself, my mother, the orphan and Umm Haram, my maternal aunt. He said: Stand up and I will lead you in prayer. It was not the time for a (prescribed) prayer. And he led us in prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 802
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠)، فضائل الصحابة ٣٢ (٢٤٨١) (في سیاق أطول وبدون ذکر الیتیم في کلا الموضعین)، (تحفة الأشراف: ٤٠٩)، مسند احمد ٣/١٩٣، ٢١٧ (صحیح )
804Sunan An Nasai

جس وقت دو مرد اور دو خواتین ہوں تو کس طریقہ سے صف بنائی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُخْتَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ تھے، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، آپ نے انس ؓ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس ؓ کے پیچھے کھڑا کیا۔

It was narrated from Anas (RA) that he and the Messenger of Allah ﷺ and his mother, and his maternal aunt (were together). The Messenger of Allah ﷺ prayed, and he told Anas to stand on his right and his mother and maternal aunt behind them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 803
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦٠٩) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤٤ (٩٧٥) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩)، مسند احمد ٣/١٩٤، ٢٥٨، ٢٦١، ویأتی عند المؤلف برقم: ٨٠٦ (صحیح )
805Sunan An Nasai

جس وقت ایک لڑکا اور ایک خاتون موجود ہو تو امام کو کس جگہ کھڑا ہونا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ ؓ ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اور میں نبی اکرم ﷺ کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "I prayed beside the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and Aishah was behind us praying with us, and I was beside the Prophet ﷺ praying with him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 804
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٢٠٦)، مسند احمد ١/٣٠٢، ویأتی عند المؤلف برقم: ٨٤٢ (صحیح )
806Sunan An Nasai

جس وقت ایک لڑکا اور ایک خاتون موجود ہو تو امام کو کس جگہ کھڑا ہونا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْأَنَسٍ، قال: صَلَّى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةُ خَلْفَنَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور میرے گھر کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، تو آپ نے مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کیا، اور عورت ہمارے پیچھے تھی۔

It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led me and a woman from my family in prayer. He made me to stand on his right and the woman to stand behind us".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 805
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٠٤ (صحیح )
807Sunan An Nasai

جس وقت ایک لڑکا امام کے ساتھ موجود ہو تو کس جگہ امام کو کھڑا ہونا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قال: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ بِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے گھر رات گزاری، رسول اللہ ﷺ رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کرلیا۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah (RA), and the Messenger of Allah ﷺ got up to pray at night. I stood on his left, so he did this to me: He took me by the head and made me stand on his right".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 806
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٩ (٦٩٩)، تحفة الأشراف: ٥٥٢٩)، مسند احمد ١/٣٦٠، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، الوضوء ٥ (١٣٨)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، ٧٩ (٧٢٨)، الوتر ١ (٩٩٢)، اللباس ٧١ (٥٩١٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦١٠)، مسند احمد ١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٥، سنن الدارمی/الصلاة ٤٣ (١٢٩٠) (صحیح )
808Sunan An Nasai

امام کے قریب کن لوگ کھڑے ہوں اور ان کے قریب کون ہوں؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں (صف بندی کے وقت) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے، اور فرماتے: تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑجائے، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو (اس وصف میں) ان سے قریب ہو ، ابومسعود ؓ کہتے ہیں: اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے۔

It was narrated that Abu Masud Al-Ansari (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to gently pat our shoulders (to make sure the row was straight) at the time of prayer, and he-would say: Keep (the rows) straight; do not differ from one another lest your hearts would be afflicted with discord. Let those who are mature and wise stand closest to me, then those who are next to them, then those who are next to them". Abu Masud said: Today, there is much disharmony among you. Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: (One of the narrators) Abu Mamars name is Abdullah bin Sakhbarah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 807
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٦ (٦٧٤) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤٥ (٩٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٤)، مسند احمد ٤/١٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٢)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٨١٣ (صحیح )
809Sunan An Nasai

امام کے قریب کن لوگ کھڑے ہوں اور ان کے قریب کون ہوں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قال: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَخْبَرَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْقَيْسِ بنِ عُبَادٍ، قال: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: يَا فَتَى لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِوَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّواقُلْتُ: يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا يَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ قَالَ: الْأُمَرَاءُ.

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہوگیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ (سلام پھیر کر) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب ؓ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا: اے نوجوان! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے! حقیقت میں نبی اکرم ﷺ سے ہمارا میثاق (عہد) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا: رب کعبہ کی قسم! تباہ ہوگئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا: لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابو یعقوب! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: امراء (حکام) مراد ہیں۔

It was narrated that Qais bin Ubad said: "While I was in the Masjid in the first row, a man pulled me from behind and moved me aside, and took my place. By Allah, I could not focus on my prayer, then when he left I saw that it was Ubayy bin Kab (RA). He said: O boy, may Allah protect you from harm. This is what the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) instructed us to do, to stand directly behind him. Then he (Ubayy) turned to face the Qiblah and said: Doomed are Ahl Al-Uqd, by the Lord of the Kabah! - three times.Then he said: By Allah, I am not sad for them, but I am sad for the people whom they have misled. I said: 0 Abu Yaqub, what do you mean by Ahl Al-Uqd? He said: The rulers".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 808
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٢)، مسند احمد ٥/١٤٠ (صحیح )
810Sunan An Nasai

امام کے نکلنے سے پہلے صفیں سیدھی کر لینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ: لَنَا مَكَانَكُمْفَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلیں درست کرلی گئیں، پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوگئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو ، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔

Abu Salamah bin Abdur Rahman narrated that he heard Abu Hurairah (RA) say: "The Iqamah for prayer was said, and we stood up and the rows were straightened, before the Messenger of Allah ﷺ came out to us. Then the Messenger of Allah ﷺ came to us and stood in the place where he prayed, before he said the Takbir he paused and said to us: Stay where you are. So we stayed there, waiting for him, until he came out to us; he had performed Ghusl and his head was dripping with water. Then he said the Takbir and prayed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 809
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٧ (٢٧٥)، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٤ (٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٠٩)، مسند احمد ٢/٥١٨ (صحیح )
811Sunan An Nasai

امام کس طریقہ سے صفوں کو درست کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ فَأَبْصَرَ رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم اپنی صفیں ضرور درست کرلیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا ١ ؎۔

It was narrated that An-Numan bin Bashir (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to straighten the rows like shaft of an arrow is straightened before the head is attached to it. He saw a man whose chest was sticking out from the row. I saw the Messenger of Allah ﷺ say: Make your rows straight or Allah will cause your faces to be deformed".

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 810
Notes · وضاحت
١ ؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، مطلب ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا جس کی وجہ سے تمہارے اندر تفرق و انتشار عام ہوجائے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے اس کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انہیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٦)، سنن ابی داود/الأذان ٩٤ (٦٦٣، ٦٦٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٣ (٢٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٠ (٩٩٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٠)، مسند احمد ٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧ (حسن صحیح )
812Sunan An Nasai

امام کس طریقہ سے صفوں کو درست کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ١ ؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: اختلاف نہ کرو ٢ ؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں ٣ ؎ نیز فرماتے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔

It was narrated that Al-Bara (RA) bin Azib said: "The Messenger of Allah ﷺ used to go between the rows from one side to another, patting our shoulders and chests and saying: Do not make your rows ragged or your hearts will be filled with enmity toward one another. And he used to say: Allah and His angels send Salah upon the front rows".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 811
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں درست کرتے ہوئے۔ ٢ ؎: یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو۔ ٣ ؎: یعنی ان میں پھوٹ پڑجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦)، مسند احمد ٤/٢٨٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح )
813Sunan An Nasai

جس وقت امام آگے کی جانب بڑھے تو صف کو برابر کرنے کے واسطے کیا کہنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَيَقُولُ: اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَلْيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے ١ ؎ اور فرماتے: صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ٢ ؎ ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہوجائے گا، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں، پھر (اس وصف میں) وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔

It was narrated that Abu Masud Al-Ansari (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to gently pat our shoulders (to make sure the row was straight) at the time of prayer, and he would say: Keep (the rows) straight; do not differ from one another lest your hearts should suffer from discord. Let those who are mature and wise stand closest to me, then those who are next to them, then those who are next to them".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 812
Notes · وضاحت
١ ؎: مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں درست فرماتے تاکہ کوئی صف سے آگے پیچھے نہ رہے۔ ٢ ؎: اختلاف نہ کرو کا مطلب ہے کسی کا کندھا آگے پیچھے نہ ہو، ورنہ اس کا اثر دلوں پر پڑے گا، اور تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٠٨ (صحیح )
814Sunan An Nasai

امام کتنی بار یہ کہے کہ تم لوگ برابر ہوجاؤ؟

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: اسْتَوُوا اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: برابر ہوجاؤ، برابر ہوجاؤ، برابر ہوجاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔

It was narrated from Anas (RA) that the Prophet ﷺ used to say: "Make your rows straight, make your rows straight, make your rows straight. By the One in Whose Hand is my soul! I can see you behind me as I can see you in front of me".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 813
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٨١)، مسند احمد ٣/٢٦٨، ٢٨٦ (صحیح )
815Sunan An Nasai

امام لوگوں کو صفیں درست کرنے کی توجہ دلائے اور لوگوں کو ملا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کرے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے: تم اپنی صفیں درست کرلو، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہوجاؤ، ١ ؎ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ turned to face us when he stood up to pray, before he said the Takbir and said: Make your rows straight and come close to one another, for I can see you behind my back".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 814
Notes · وضاحت
١ ؎: تراص کے معنی اس طرح مل کر کھڑے ہونے کے ہیں جیسے دیوار میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کے ساتھ پیوست ہوتی ہے درمیان میں ذرا سا بھی فاصلہ اور شگاف نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ٥٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٧١ (٧١٨)، ٧٢ (٧١٩)، ٧٦ (٧٢٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٤)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٨٤٦ (صحیح )
816Sunan An Nasai

امام لوگوں کو صفیں درست کرنے کی توجہ دلائے اور لوگوں کو ملا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کرے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قال حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ.

قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کرلو، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں شیاطین کو صف کے درمیان ١ ؎ گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں ۔

Anas (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: "Make your rows solid and close together, and keep your necks in line. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! I can see the shaitan entering through the gaps in the rows as if they are small sheep".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 815
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کا صفوں کے درمیان شگافوں میں شیطان کو گھستے ہوئے دیکھنا یا تو حقیقتاً ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو معجزے کے طور پر یہ منظر دکھایا ہو، یا بذریعہ وحی آپ کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو کہ صفوں میں خلا رکھنے سے شیطان خوش ہوتا ہے، اور اسے وسوسہ اندازی کا موقع ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢)، مسند احمد ٣/٢٦٠، ٢٨٣ (صحیح )
817Sunan An Nasai

امام لوگوں کو صفیں درست کرنے کی توجہ دلائے اور لوگوں کو ملا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْقَالُوا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ. قَالَ: يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ، لوگوں نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: Will you not form rows as the angels form rows before their Lord? They said: How do the angels form rows before their lord? He said: They complete the first row and fill the gaps in the rows".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 816
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٠ (٩٩٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٧)، مسند احمد ٥/١٠١، ١٠٦ (صحیح )